صحابہ کرام کتنے خوش ہیں کہ انہوں نے کئی مرتبہ دنیا میں پیارے آقا ﷺ کی زیارت کی آپ اپنے ہر امتی سے محبت کرتے ہیں لیکن بات کی جائے صحابہ کی اور پھر ان میں بھی انصار صحابہ کی تو آپ ان سے محبت کرتے ہیں اور صحابہ کرام بھی آپ سے محبت کرتے ہیں۔

اگر خوش قسمتی سے کبھی صحابہ کرام کو رسول اللہ کی ضیافت و مہربانی کا شرف حاصل ہو جاتا تو وہ نہایت عزت و محبت اور ادب و احترام کے ساتھ اس شرف کو بجا لاتے تھے۔ ایک بار ایک انصاری نے خدمت مبارک میں گزارش کی کہ میں نہایت لحیم و شہیم آدمی ہوں آپ کے ساتھ نماز میں شریک نہیں ہو سکتا آپ میرے مکان پر تشریف لا کر نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اس طرح نماز پڑھا کروں،انہوں نے پہلے کھانا بھی تیار کر رکھا تھا چنانچہ آپ تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔

آپ حضرت عمر اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت ابو ہیثم بن تیہان الانصاری رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لے گئے وہ باہر گئے ہوئے تھے آئے تو آپ سے لپٹ گئے اور قربان ہونے لگے پھر سب کو باغ میں لے گئے فرش بچھایا اور کھجوریں توڑ کر آپ کے سامنے رکھ دیں خود دست مبارک سے چن چن کر تناول فرمائی اس کے بعد اٹھے اور بکری ذبح کی اور سب نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا۔ (ترمذی، 4/163، حدیث: 3276)

انصار صحابہ سے محبت ایمان کی علامت اور ان سے بغض نفاق کی علامت ہے انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مومن اور ان سے دشمنی نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی اللہ پاک اس سے محبت کرے اور جس نے ان سے بغض رکھا اللہ پاک اس سے ناراض ہو۔(بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

مہاجرین وہ انصار مدینے شریف کے گرد خندق کھود نے میں مصروف تھے تو نبی کریم ﷺ نے یہ دعا مانگی: اے اللہ بھلائی نہیں مگر آخرت کی بھلائی پس انصار و مہاجرین میں برکت فرما۔ (بخاری، 2/264، حدیث: 2835)

ایک بار آپ ﷺ نے فرمایا: انصار کے خاندانوں میں سب سے افضل بنو نجار ہے، پھر بنو عبدالا شہل،پھر بنو حارث بن اہرج،پھر بنو ساعدہ ان کے علاوہ انصار کے تمام خاندان اچھے ہیں۔حضرت سعد بن عبادہ قبیلہ بنو ساعدہ سے تھے ان کو جب معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے ان کے قبیلے کو چوتھے نمبر پر رکھا ہے تو ان کو کسی قدر ناگوار ہوا بولے میرے گدھے پر زین کسو میں خود رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق گفتگو کروں گا،لیکن ان کے بھتیجے حضرت ساحل رضی اللہ عنہ نے کہا کیا آپ رسول اللہ کی تردید کے لیے جاتے ہیں؟ حالانکہ حضور ﷺ وجوہ فضیلت کے سب سے زیادہ عالم ہیں یہ کیا کم ہے کہ آپ کا چوتھا نمبر ہے۔ (مسلم، ص 1361، حدیث: 2511)

اللہ پاک ہمیں پیارے آقا ﷺ اور آپ کے اصحاب اور آپ کے اہل بیت کی حقیقی محبت عطا فرمائے۔