انصار صحابہ جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی ان کو مہاجر صحابہ کہا جاتا ہے اور جن صحابہ نے مدینہ میں ان مہاجر صحابہ کی مدد کی انہیں گھر بار دیا تھا وہ انصاری صحابہ کہلاتے ہیں۔

مسجد نبوی کی تعبیر کے بعد ایک دن حضور ﷺ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا اس وقت تک مہاجرین کی تعداد 40 یا 50 تھی حضور نبی کریم ﷺ نے انصار کو مخاطب کر کے فرمایا: یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو کو بلا کر فرمایا یہ اور تم بھائی بھائی ہو نبی کریم ﷺ کے ارشاد فرمانے سے یہ رشتہ اخوت بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا چنانچہ انصار نے مہاجرین کو ساتھ لے جا کر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں اس لیے ان سب سامان میں سے آدھا تمہارا اور آدھا میرا ہے۔ (بخاری، 2/ 554، حدیث: 3780)

انصار کے فضائل: احادیث مبارکہ میں بھی انصار کے فضائل و مناقب ہوتے ہیں چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے کچھ بچوں اور عورتوں کو ایک شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو حضور پرنور ﷺ کھڑے ہو گئے اور (دو بار) ارشاد فرمایا: اے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو اے انصار! تم لوگ مجھے تمام لوگو سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)

ایک آیت مبارکہ بھی ملاحظہ فرمائیے:

وَ  اذْكُرُوْا  نِعْمَتَ  اللّٰهِ  عَلَیْكُمْ  اِذْ  كُنْتُمْ  اَعْدَآءً  فَاَلَّفَ  بَیْنَ  قُلُوْبِكُمْ  فَاَصْبَحْتُمْ  بِنِعْمَتِهٖۤ  اِخْوَانًاۚ- (پ 4، آل عمران: 103) ترجمہ کنز العرفان: اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں ملا پیدا کر دیا بس اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔

مسلمان کو جہنم کی آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا یا مجھے دیکھنے والے یعنی صحابہ کو دیکھا۔

انصار صحابہ سے محبت ایمان کی نشانی: رسول اللہ ﷺ نے انصار سے محبت کو ایمان کا معیار قرار دیا اور ان سے بغض کو منافقت کی علامت بتا دیا، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ایمان کی نشانی انصار سے محبت اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

انصار سے محبت کرنے والا اللہ تعالی کا محبوب: آپ ﷺ نے انصار سے محبت کرنے والوں کے لیے اللہ کی محبت کی ضمانت دی ہے، حضرت برا بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار سے صرف مومن ہی محبت رکھے گا اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھے گا جو شخص ان سے محبت کرے گا اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اللہ ان سے ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)