صحابی
کی تعریف: حضرت
علامہ حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: جن خوش نصیبوں نے ایمان کی
حالت میں اللہ کریم کے پیارے نبی ﷺ سے ملاقات کی ہو اور ایمان ہی پر ان کا انتقال
شریف ہوا، اُن خوش نصیبوں کو صحابی کہتے ہیں۔ (نخبۃ الفكر، ص 111)
آپ ﷺ نے ہر
مومن سے محبت فرمائی، لیکن انصار صحابہ کرام (مدینہ کے مددگار) سے آپ ﷺ کی محبت کا
ایک خاص رنگ تھا۔ انصار وہ خوش نصیب لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنے گھر، مال
اور جان کی قربانی دی، اور ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کو اپنے سینے سے لگایا۔
صحابہ
کرام کی قدرومنزلت: صحابہ کرام کی قدروقیمت وہی انسان جاں سکتا ہے جو
نبیِ کریم ﷺ کی عظمت و رفعت سے واقف ہوگا۔صحابہ کی تعظیم گویا نبیِ پاک ﷺ کی تعظیم
ہے۔
ارشاد باری
تعالیٰ ہے: رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ
رَضُوْا عَنْهُؕ- (پ
30، البینۃ: 8) ترجمہ کنز الایمان: اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی۔
انصار
صحابہ سے محبت: آپ
ﷺ اپنے تمام صحابہ سے محبت فرماتے تھے لیکن انصارِ مدینہ سے آپ ﷺ کو خاص محبت تھی
کیونکہ انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی مدد ہر مشکل وقت میں کی۔ انہوں نے حضور
اکرم ﷺ کا ساتھ دیا، مہاجرین کو اپنے گھروں میں جگہ دی اور اسلام کی خاطر اپنی جان
و مال قربان کر دی۔ اسی اخلاص اور قربانی کی وجہ سے نبی کریم ﷺ انصار سے بے حد
محبت فرماتے تھے۔
حضرت ابو سعید
خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سید المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے
صحابہ کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ (ان کی شان یہ ہے کہ) تم میں سے کوئی
اُحد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کر دے تو وہ صحابہ میں سے کسی کے ایک مُد بلکہ ا س
کے نصف (خیرات کرنے) تک نہیں پہنچ سکتا۔ (بخاری، 2/522، حدیث: 3673)
انصار
سے محبت ایمان کی نشانی: رسول اللہ ﷺ نے انصار کی فضیلت اور ان
سے اپنی محبت کو ایمان و نفاق کی کسوٹی قرار دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار سے
محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے اور ان سے بغض رکھنا نفاق (منافقت) کی نشانی ہے۔ (بخاری،
1/522، حدیث: 3673)
قرآن
مجید میں انصار کی تعریف: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ
قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ
صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ
لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر:
9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ
بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے
متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں
اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب
ہیں۔
یہ آیت انصار
کے ایثار، محبت اور بھائی چارے کو ظاہر کرتی ہے۔
نبی
کریم ﷺ کی دعا: آپ
ﷺ نے انصار کے لیے دعا فرمائی:اے اللہ! انصار، ان کی اولاد اور ان کی آنے والی
نسلوں پر رحم فرما۔
محبت
کے چند واقعات: حضرت
سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے آپ ﷺ کی بےپناہ محبت تھی، جنہوں نے حضرت
عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی دولت آدھی بانٹ لی تھی۔
حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ، جو آپ ﷺ کے خاص خادم تھے، ان کے لیے آپ ﷺ نے برکت کی دعائیں
فرمائیں اور ان سے محبت فرماتے تھے۔
حضرت سعد بن
معاذ رضی اللہ عنہ کی وفات پر آپ ﷺ اتنا روئے کہ آپ کی داڑھی مبارک تر ہو گئی اور
فرمایا کہ ان کی وفات سے عرشِ الٰہی کانپ اٹھا ہے۔
صحابہ
وہ صحابہ جن کی ہر دن عید ہوتی تھی
خدا
کا قرب حاصل تھا نبی کی دید ہوتی تھی
حضور ﷺ سے
محبت کا تقاضا یہی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کی جائے جن سے حضور ﷺ
محبت فرماتے ہیں۔اللہ کریم ہمیں دل و جان، زبان و قلم سے ہر صحابی کی تعظیم کرنے
کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے صدقے ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے اور جنّت میں ان
کے قدموں میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین بجاہ ِالنبی الامین
Dawateislami