اللہ پاک کا ارشاد ہے: ت وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

انصار سے محبت نہیں کرتا مگر مؤمن اور ان سے بغض نہیں رکھتا مگر منافق، جو ان سے محبت کرتا ہے اللہ ان سے محبت کرتا ہے، اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

آقا جان ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ ایک گھاٹی یا وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں چلیں تو میں انصار کی وادی میں چلوں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

مکی مدنی مصطفی جن پر ہماری جان قربان انہوں نے انصار کیلئے دعا فرمائی: اے اللہ انصار پر رحم فرما اور انصار کی اولاد پر رحم فرما، اور انصار کی اولاد کی اولاد پر رحم فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)

غزوہ حنین کے بعد ایک محبت بھرا واقعہ پیش آیا جس میں آقا جان ﷺ کی انصار سے محبت واضح ہوتی ہے۔ جب مال غنیمت تقسیم ہوا تو آقا جان ﷺ نے نئے مسلمان ہونے والے بعض قریش کو زیادہ عطا فرمایا۔ اس سے بعض انصار صحابہ کے دل میں یہ خیال آیا کہ شاید اپنی قوم کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ بات جب آقا جان ﷺ تک پہنچی تو آقا جان ﷺ نے انصار صحابہ کو ایک خیمے میں جمع فرمایا اور نہایت شفقت سے خطاب فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں کہ لوگ بکریاں اور اونٹ لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھر لے جاؤ؟ اللہ کی قسم جو تم لے کر جا رہے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر جا رہے ہیں۔

یہ سن کر انصار صحابہ رو پڑے یہاں تک کے ان کی داڑھیاں آنسوؤں سے تر ہوگئیں اور انہوں نے عرض کی: ہم اللہ کے رسول ﷺ ہی پر راضی ہیں۔(بخاری، 2 / 564، حدیث: 4330)

سبحان اللہ آقا جان ﷺ کی انصار صحابہ سے محبت کی کیا بات ہے! انصار بنیادی طور پر دو بڑےقبا ئل پر مشتمل تھے۔ 1۔اوس 2۔خزرج۔

یہ دونوں قبائل مدینہ میں آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان کے درمیان کئی جنگیں ہوئیں خاص طور پر جنگ بعاث مشہور ہے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد یہ دونوں بھائی بھائی بن گئے اور قرآن پاک میں بھی انصار صحابہ کی تعریف آئی ہے۔

ہم نے جانا کہ آقا جان ﷺ کس قدر انصار صحابہ سے محبت فرما تے تھے۔اللہ پاک ہمیں بھی مکی مدنی مصطفی ﷺ کی اس سنت پر عمل کرنے کی تو فیق عطا فرمائے اور ہم اپنے اچھے، نرم، پاک دل سے انصار صحابہ کرام سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ آمین