پیارے آقا جان ﷺ کی انصار صحابہ کے ساتھ محبت پر اللہ نے ان کی فضیلت ان سب سے اپنی رضامندی اور انعام واکرام کو اپنے کلام میں پاک میں خود بیان فرمایا: وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰) (پ 11، التوبۃ: 100) ترجمہ: اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پیرو ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لیے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

مدینہ منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں انصار کہا جاتا ہے۔

حضور ﷺ کی انصار مدینہ سے محبت بے پناہ تھی انصار اُن عظیم ہستیوں کا وہ گروہ ہے جنہوں نے اسلام اور پیارے آقا ﷺ کی ہر مشکل گھڑی میں بے دریغ مدد کی۔

انصار سے محبت پر فرمان مصطفی: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے کچھ بچوں اور عورتوں کو شادی سے آتے ہوئے دیکھا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا: الہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے سب سے زیادہ پیارے ہو۔ (بخاری، 2/556، حدیث: 3785)

آپ ﷺ نے انصار کی قربانیوں کا ایسا اعتراف فرمایا کہ ان سے محبت کو ایمان کی نشانی اور بغض کو نفاق قرار دیا۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حسن اخلاق کے پیکر ﷺ انصار کے بارے میں فرمایا: ان سے مومن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا جو ان سے محبت کرے اللہ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھے اللہ اسے نا پسند فرماتا ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

دو جہاں کے تا جور سلطان بحر و بر محمد مصطفی ﷺ کو انصار سے محبت ہی اتنی زیادہ تھی کہ ان سے محبت کرنا ایمان کا حصّہ قرار دے دیا، ارشاد فرمایا: انصار کی محبت ایمان کا حصہ ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

انصار صحابہ کو بھی پیارے آقا سے والہانہ عشق تھا حضور علیہ الصلوۃ والسلام بھی انصار صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بہت زیادہ محبت فرماتے تھے ان کی خوشی پر خوش ہوتے تھے اور ان کا لوگوں کے سامنے محبت کا اظہار فرماتے ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے۔

ارشاد فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہوتا اگر لوگ جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں تو میں انصار کے جنگل یا ان کی گھاٹی میں چلوں گا اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)