حضور خاتم النبیین ﷺ انصار صحابہ سے بے پناہ محبت فرماتے ۔جب آپ علیہ السلام نے اپنے جانثاروں کے ساتھ مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی تو انصار صحابہ کرام نے اپنے اہل وعیال سمیت آپ علیہ السلام اور تمام مہاجرین کی نہایت پُر جوش و پُر وقار ضیافت و مہمان نوازی فرمائی اور جب چند دنوں بعد آقا علیہ السلام نے حضرت انس بن مالک کے مکان میں تمام مہاجرین و انصار کے درمیان رشتۂ اخوت قائم فرمایا تو آپ کے فرمانِ عالیشان کے جاری ہوتے ہی تمام انصار صحابہ اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنے گھروں میں لے گئے اور تمام سامان ان کے سامنے رکھا اور کہا کہ اب اس سامان میں آپ بھی حصہ دار ہیں۔انصار صحابہ کرام نے آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں جان و مال کے نذرانے پیش کرنے سے بالکل بھی کنارہ نہ کیا ان ہی قربانیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے؛براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے انصار سے محبت کی اس سے اللہ نے محبت کی، اور جس شخص نے انصار سے دشمنی کی اس سے اللہ پاک ناراض ہوا۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)

انصار صحابہ کرام سے میرے آقا علیہ السلام کی محبت کا یہ عالم ہے کہ اپنے جانثاروں کی محبت کو محبتِ ربِ کائنات اور انصار صحابہ کی دشمنی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی قرار دے دیا اور قیامت تک کے لئے ایک قانون نافذ فرمادیا گیا کہ اب جس نے صحابۂ انصار سے محبت کی گویا کہ اس نے اللہ سے محبت کی اور جس نے صحابۂ انصار سے دشمنی کی گویا کہ اس نے ربِ آقائے کائنات سے دشمنی کی اسی ضمن میں میرے آقا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انصار سے محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور انصار سے کینہ رکھنا نفاق کی نشانی ہے۔ (بخاری، 2/555، حدیث: 3784)

قربان جائیں اپنے محبوب علیہ السلام کی صحابۂ انصار سے محبت پر کہ آپ خود اپنے انصار جانثاروں سے محبت فرماتے ہی ہیں لیکن قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لیے بھی صحابۂ انصار کی محبت کو علامتِ ایمان قرار فرمادیا اور ان کے بغض کو علامتِ نفاق۔

حضرت حسان بن ثابت جو کہ آقا علیہ السلام کے مقبول درباری شاعر تھے آپ بھی انصاری صحابہ میں سے ہیں۔آپ نے آقا علیہ السلام کی تمام امت کو قیامت تک کے لئے یہ سبق عطا فرمایا کہ!

فإنّ أبي ووالد وعرضي لعرض محمدٍﷺ منكم وقاءُ حضرتِ حسان کے اس عشق سے لبریز قول کا مفہوم یہی ہے کہ قیامت تک اب عزت اسی کی ہوگی جو اپنے ماں،باپ،عزت آبرو،جان و مال آقا علیہ السلام پر وار دے گا، اللہ عزتیں اسے ہی عطا فرمائے گا جو حضور علیہ السلام کی عزت و ناموس کی پہرہ داری کرے گا۔

حضور علیہ السلام اور آپ ﷺ کے جانثار صحابہ کرام کا تذکرہ ہو اور میرے امام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کا کلکِ رضا متحرک نہ ہو! ایسا ہو ہی نہیں سکتا تو اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں:

اہل سنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ حضور نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسول اللہ کی

اللہ پاک ہمیں بھی حقیقی عشقِ مصطفیٰ و عشقِ صحابہ کرام و اہلِ بیت عطا فرمائے۔ آمین

ہم لوگ صحابہ کے قصیدوں کے گویے ہم سے تو کسی ایک کا انکار نہ ہووے