حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت غلام سرور، سیکٹر ایل اورنگی ٹاؤن کراچی
حضور نبی کریم
ﷺ کی انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت اسلامی تاریخ کا ایک روشن
باب ہے۔ انصارِ مدینہ وہ سعادت مند نفوس تھے جنہوں نے سرورِ کونین ﷺ اور مہاجر
صحابہ کرام علیہم الرضوان کو اپنے دلوں اور گھروں میں جگہ دی اور ہر مشکل گھڑی میں
ان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے اسلام کی نصرت کے لیے بے مثال قربانیاں دیں اور ایثار و
محبت کی عظیم مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک یاد رکھی جائے گی۔
انصار صحابہ
کرام ایسے خوش بخت ہیں کہ ان کا ذکر قرآن مجید فرقان حمید میں بھی آیا ہے۔ چنانچہ
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ
قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ
صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ
لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) (پ 28، الحشر:
9) ترجمہ: اوروہ جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ
بنالیا وہ اپنی طرف ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے
متعلق کوئی حسد نہیں پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں
اگرچہ انہیں خود حاجت ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب
ہیں۔
اس آیتِ
مبارکہ میں انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایثار، محبت اور مہاجر
صحابہ کرام سے حسنِ سلوک کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے باوجود مہاجر
صحابہ کرام کو اپنے اوپر ترجیح دیتے تھے۔ وہ ان کی مدد کرتے، انہیں اپنے گھروں میں
ٹھہراتے اور ان کے ساتھ مکمل اخلاص و بھائی چارے کا مظاہرہ کرتے تھے۔
انصار صحابہ
کرام کی عظمت صرف قرآن مجید سے ہی ثابت نہیں بلکہ خود حضور نبی کریم ﷺ نے بھی
متعدد مواقع پر ان سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ ابو القاسم ﷺ نے فرمایا: اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں
تو میں بھی انصار کی وادی میں چلوں گا اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک
فرد ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
اسی طرح حضرت
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری عورت اپنے بچے کو لے کر رسولِ
اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں
میری جان ہے! تم مجھے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب ہو۔ (بخاری، 2/556، حدیث: 3786)
ان تمام
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انصارصحابہ کرام کو بارگاہِ رسالت میں خاص مقام حاصل
تھا۔ انہوں نے ہر مشکل وقت میں حضور ﷺ کا ساتھ دیا، اپنی جان و مال قربان کیا اور
دینِ اسلام کی خدمت میں بے مثال کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے
بارہا ان سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا۔
اللہ تعالیٰ
ہمیں بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی سچی محبت نصیب فرمائے اور ان کے
نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami