حضور نبی اکرم ﷺ انصار صحابہ کرام سے بے حد محبت فرماتے ان کے ساتھ رہنا پسند فرماتے فتح مکہ کے بعد بھی انہیں میں رہنا پسند فرمایا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے انہیں میں وفات کو پسند فرمایا چنانچہ اسی ضمن میں احادیث مبارکہ مندرجہ ذیل ہیں:

اظہار محبت: روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی ﷺ نے کچھ بچوں عورتوں کو دیکھا ایک شادی سے آتے ہوئے تو نبی ﷺ کھڑے ہوگئے فرمایا الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو الٰہی تو جانتا ہے اے انصار تم لوگ مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے ہو یعنی انصار۔ (بخاری، 2/ 556، حدیث: 3785)

انصار فرماکر راوی نے یہ بتایا کہ یہ کلام صرف ان لوگوں سے نہیں تھا بلکہ سارے انصار سے تھا یعنی سارے انصار مجھے بہت پیارے ہیں۔ (مرآۃ المناجیح،8/477)

انصار شعار ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو ہم انصار میں سے ایک صاحب ہوتے اور اگر لوگ ایک جنگل میں چلیں اور انصار دوسرے جنگل میں یا دوسری گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کے جنگل یا انکی گھاٹی میں چلوں اور انصار اندرونی لباس ہیں اور باقی لوگ بیرونی لباس ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

حدیثِ مبارکہ میں الفاظ ہیں الانصار شعار و الناس دثار شعائر بنا ہےشعر سے بمعنی جسم کے بال جو لباس جسم سے بالکل متصل رہے اسے شعار کہتے ہیں کہ وہ بالوں سے ملا ہوتا ہے اور جو لباس اس شعار کے اوپر پہنا جاوے وہ دثار کہلاتا ہے، جیسے شعار جسم سے متصل رہتا ہے ایسے ہی انصار مجھ سے ملے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اخلاص ان کی خدمت دوسرے عام مومنوں سے بہت زیادہ ہے۔ (مرآۃ المناجیح،8/ 475)

میری وفات تمہاری موت میں ہے: حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ہم رسول الله ﷺ کے ساتھ تھے فتح مکہ کے دن تو فرمایا: جو ابو سفیان کے گھر میں گھس جاوے اسے امان ہے اور جو ہتھیار کو رکھ دے اسے امان ہے تو انصار بولے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ سے محبت اور اپنے وطن کی رغبت ہوگئی رسول الله ﷺ پر وحی نازل ہوگئی فرمایا: کیا تم نے یہ کہا ہے کہ ان محبوب کو اپنے کنبہ سے محبت اپنے وطن کی رغبت ہوگئی ایسا ہرگز نہیں ہے میں الله کا بندہ اور اس کا رسول ہوں،میں نے الله کی اور تمہاری طرف ہجرت کرلی ہے اب میری زندگی تمہاری زندگی میں ہے اور میری وفات تمہاری موت میں ہے۔ (مسلم، ص 760، حدیث:4622)

یعنی خاطر جمع رکھو اب میں اپنی زندگی اور موت میں تم کو نہیں چھوڑوں گا ہم تم ہی میں جئیں گے اور تم میں وفات پائیں گے۔ (مرآۃ المناجیح،8/ 476)

اللہ کریم ہمیں بھی آقا علیہ الصلوۃ و السلام کی صحابہ کرام سے محبت کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔