حضور
کی انصار صحابہ سے محبت از بنت محمد طالب عطاری، بھینس کالونی لانڈھی کراچی
صحابہ
کسے کہتے ہیں؟ جنہوں
نے اللہ کے پیارے حبیب ﷺ کی زیارت ایمان کی حالت میں کی اور ایمان کی ہی حالت میں
انہوں نے وفات پائی ہو انہیں صحابی کہا جاتا ہے۔
پیارے آقا ﷺ نے
اپنے پیارے صحابہ کے بارے میں ارشاد فرمایا: میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان
میں سے جس کی بھی تم پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔
صحابہ کرام
علیہم الرضوان میں سے کچھ صحابہ مہاجر اور کچھ انصار بھی تھے۔
مہاجر
کسے کہتے ہیں؟ کفار
مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر جن مسلمانوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی انہیں
مہاجرین کہا جاتا ہے۔
انصار
کسے کہتے ہیں؟ مدینہ
منورہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے ان مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں
انصار کہا جاتا ہے پیارے آقا جان ﷺ کو یوں تو اپنے تمام صحابہ کرام ہی سے بہت محبت
تھی مگر آپ کو انصار سے بھی والہانہ محبت تھی، چنانچہ
فضیلتِ
انصار بزبانِ سرکار: انصار کی فضیلت بیان کرتے ہوئے خود اللہ پاک کے نور
والے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر میں ہجرت نہ کرتا تو انصار میں سے ہوتا اور اگر
ایک وادی اور گھاٹی میں دیگر لوگ ہوں اور دوسری میں انصار ہوں تو میں انصار کی
وادی اور گھاٹی میں جاؤں گا اور انصار میرے نزدیک ان حقیقی کپڑوں کی مانند ہیں جو
جسم کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جبکہ دیگر لوگ ان کپڑوں کے اوپر پہنے جانے والے اضافی
کپڑوں کی طرح ہیں۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
حضرت عبداللہ
بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنے اس مرض میں جس میں آپ
کی وفات ہوئی باہر تشریف لائے منبر پر تشریف فرما ہوئے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر
فرمایا: حمد و ثنا کے بعد، لوگو! سنو، لوگ تو بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے
جائیں گے یہاں تک کہ لوگوں میں ان کی حیثیت ایسی ہو جائے گی جیسے کھانے میں نمک کی
ہوتی ہے، پس تم میں سے جو شخص کسی ایسے معاملے کا والی بنے جس میں وہ کسی کو نقصان
یا فائدہ پہنچا سکتا ہو تو چاہیے کہ وہ انصار کے نیک لوگوں کی نیکی قبول کرے اور
ان کے خطا کاروں سے درگزر کرے۔ (بخاری، 2/ 560، حدیث: 3800)
حضرت زید بن
ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی: اے اللہ! انصار کی مغفرت
فرما، اور انصار کے بیٹوں کی مغفرت فرما، اور انصار کے پوتوں کی بھی مغفرت فرما اور
ایک روایت میں اضافہ بھی ہے اور انصار کی غلاموں /آزاد کردہ لوگوں کی بھی مغفرت
فرما۔ (مسلم، ص 1044، حدیث: 6414)
انصار
سے والہانہ محبت: حضرت
عامر بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اپنے والد گرامی حضرت سیدنا سعد بن
ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے عرض کی: ابا جان!
آپ نے انصار کے محلے میں گھر بنایا ہے، اس کی کوئی خاص وجہ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے
جواب دینے کے بجائے مجھ سے پوچھ لیا کہ کیا تمہارے دل میں کوئی شبہ ہے! میں نے عرض
کی: نہیں،بلکہ میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھاتو آپ انصار کے فضائل بیان کرتے ہوئے
ارشاد فرمانے لگے: میں نے خود محسن کائنات فخر موجودات ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے
سنا ہے کہ انصار سے وہی محبت رکھے گا جو مومن ہے اور ان سے وہی بغض رکھے گا جو
منافق ہے۔ (بخاری، 2/ 555، حدیث: 3783)
Dawateislami