انصار صحابہ
وہ مقدس محترم اور عظمت والے صحابہ کرام ہیں جن کے بارے میں خودنبی کریم ﷺ نے محبت
اور عظمت کے کلمات ارشاد فرمائے اور یہ وہ عظیم صحابہ کرام ہیں جنہوں نے اسلام کی
بھرپور مدد کی اور بڑی قربانیاں دی ان صحابہ کرام نے مہاجرین کی مدد کی اور ان سے
محبت بھی کی۔ یہ وہ لوگ تھے جو مدینہ میں پہلے سے ایمان کے ساتھ رہتے تھے۔ ان
انصار صحابہ کے دل میں بغض و حسد نہ تھا اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ کو ان صحابہ انصار
سے محبت تھی اور آپ نے ان کی عزت اور قدر کو ظاہر بھی کیا۔ ایک حدیث مبارکہ میں
پیارے آقا نے فرمایا: انصار سے محبت صرف مومن ہی رکھتے ہیں اور ان سے بغض صرف
منافقین ہی رکھتے ہیں پس جو شخص ان سے محبت کرے گا اللہ پاک اس سے محبت کرے گا اور
جو ان سے بعض رکھے گا اللہ پاک اسے ناپسند فرمائے گا۔ (1)
معلوم ہوا کہ
انصار صحابہ سے محبت کرنا ہی ایمان کی نشانی ہے ایک مسلمان جو سچا ہے وہ ان انصار
سے محبت کرتا ہے اس بنا پر کہ پیارے آقا بھی ان سے محبت فرماتے ہیں قرآن کریم میں
بھی ان کی عظمت بیان ہوئی جیسا کہ سورہ حشر میں ارشاد ہوتا ہے: وَ الَّذِیْنَ
تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ
اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ
یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ﳴ وَ مَنْ
یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ(۹) ترجمہ: اوروہ
جنہوں نے ان (مہاجرین) سے پہلے اس شہر کواور ایمان کو ٹھکانہ بنالیا وہ اپنی طرف
ہجرت کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں اور وہ اپنے دلوں میں اس کے متعلق کوئی حسد نہیں
پاتے جو ان کو دیا گیا اور وہ اپنی جانوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں خود حاجت
ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچالیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔ (2)
اس آیت سے
انصار حابہ کی عظمت و شان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ نبی کریم اور مہاجرین
سے محبت کرتے ہیں حضرت انس نے بیان کیا چنانچہ ایک مرتبہ پیارے آقا ﷺ نے انصار کی
عورتوں اور بچوں کو میرے گمان کے مطابق کسی شادی سے واپسی پر دیکھا تو آپ کھڑے ہو
گئے اور فرمایا اللہ گواہ ہے تم لوگ یعنی انصار مجھے سب سے عزیز ہو تین بار اسی
طرح فرمایا۔ (3)
یہ انصار کے
ساتھ آپ کی گہری محبت اور عظمت کی نشانی ہے اسلام کی تاریخ میں انصار صحابہ کا
مقام و مرتبہ پیارے آقا کے ان سے محبت کرنے سے اور بلند ہو جاتا ہے انہوں نے مدینہ
میں پیارے آقا کا بے انتہا شاندار استقبال بھی کیا تھا اور اسلام کی تبلیغ میں بھی
آپکا ساتھ دیا۔
اس طرح حضور ﷺ
نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں، تو میں انصار کی
وادی کو اختیار کروں گا۔ اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک آدمی ہوتا۔
(4)
اس سے معلوم
ہوا کہ آپ انصار صحابہ سے بے انتہا محبت فرماتے ہیں اور انکو پسند فرماتے ہیں۔
اسی طرح آپکا
ایک اور فرمان ہے جو آپ کی انصار سے محبت کو ظاہر کرتا ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اگر
میں نے کسی کو اپنا خلیل بنانا ہوتا تو میں انصار میں سے کسی کو بناتا لیکن اسلام
کا رشتہ ہی سب سے افضل ہے۔
اس حدیث سے
بھی آپکی انصار صحابہ سے محبت کو اظہار ہو رہا ہے کہ آپ ان کو کس قدر چاہتے ہیں
اور محبت فرماتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ان
تمام حدیثوں سے آقا علیہ السلام کی انصار صحابہ سے محبت کو واضح سمجھا جاسکتا ہے
کہ پیارے آقا بھی انصار صحابہ سے بے پناہ محبت فرماتے ہیں لہذا ہمیں بھی ان انصار
صحابہ سے محبت کرنی چاہیے تاکہ اللہ پاک ہم سے محبت کرے۔
حوالہ
جات:
(1) بخاری، 2/
555، حدیث: 3783
(2) پ 28، الحشر:
9
(3) بخاری، 2/
556، حدیث: 3785
Dawateislami