جب مکہ مکرمہ میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا ہو گئی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ اس موقع پر جو مسلمان مکہ چھوڑ کر مدینہ آئے، انہیں مہاجرین کہا جاتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے مہاجرین سے بے پناہ محبت فرمائی اور ان کی ہر ممکن مدد کی۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں اس محبت کی واضح جھلک نظر آتی ہے۔

مہاجرین کا مقام قرآن کی روشنی میں: اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مہاجرین کی بڑی فضیلت بیان فرمائی ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

حضور ﷺ کی مہاجرین سے محبت کی جھلکیاں:

نبی کریم ﷺ کو مہاجرین سے گہری محبت تھی۔ آپ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی سب سے پہلا کام مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا کیا۔ اس عمل کو مؤاخات کہا جاتا ہے۔

مؤاخات مدینہ: آپ ﷺ نے مہاجرین کو انصار کے ساتھ بھائی بنایا تاکہ وہ ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی مثال اس کی بہترین مثال ہے جہاں انصار نے اپنے مال تک مہاجرین کے لیے پیش کر دیئے۔یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ حضور ﷺ چاہتے تھے کہ مہاجرین کو کبھی تنہائی یا محرومی کا احساس نہ ہو۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دے۔ (ابوداود، 3/7، حدیث: 2481)

ایک اور حدیث میں فرمایا: اگر ہجرت (کی فضیلت) نہ ہوتی تو میں انصار کا ایک فرد ہونا پسند کرتا، اور اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار ہی کی گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)

یہ فرمان جہاں انصار کے ساتھ حضور ﷺ کی محبت کا مظہر ہے وہیں مہاجرین کے لیے خصوصی شفقت بھی واضح کرتا ہے۔

مہاجرین کی کفالت اور مدد: حضور ﷺ مہاجرین کی ضروریات کا خاص خیال رکھتے تھے۔ جو مہاجر غریب ہوتے، آپ ﷺ ان کے لیے بیت المال سے مدد فرماتے۔ اہل صفہ بھی انہی مہاجرین میں سے تھے جن کے پاس نہ گھر تھا نہ مال اور حضور ﷺ خود ان کی خبر گیری فرماتے تھے۔

مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین: آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو بار بار مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد (پہاڑ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہوگا۔ (ابوداود، 4/283، حدیث: 4658)

یہ تعلیم مہاجرین کے مقام کو مزید واضح کرتی ہے۔

مہاجرین کی قربانیاں: مہاجرین نے اپنے گھربار جائیداد اور رشتہ دار سب کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی خاطر چھوڑ دیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیاں تاریخ اسلام کا روشن باب ہیں۔

اللہ ہمیں ان کی سچی پکی محبت عطا فرمائے۔ آمین