ہمارےپیارے
نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی صحابہ کرام علیہم الرضوان سے محبت بےمثال تھی بالخصوص
مہاجرین سے محبت بے مثال تھی۔
مہاجرین
صحابہ کرام کون ہیں؟ مہاجرین صحابہ کرام وہ پاک ہستیاں ہیں جنہوں نے
کلمہ طیبہ پڑھنے اسلام قبول کرنے کے بعد مکہ مکرمہ میں ظلم ستم برداشت کیا اور پھر
اللہ و رسول کے حکم سے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ یوں وہ اپنے گھر، مال، جائیدادیں
اور اپنے خاندان کو بھی اللہ و رسول کی رضا کے لئے چھو ڑ گئے۔ اسلام کے لئے ایسی
ایسی قربانیاں پیش کیں جس کی نظیر نہیں ملتی۔
آقا حضور جان
عالم ﷺ کی اپنے ان صحابہ کرم سے محبت کا انداز بھی نرالہ ہے، حضور سید عالم ﷺ مہاجرین
کے ساتھ شفقت فرماتے اور ان کی مدد بھی فرماتے۔ جب مہاجرین ہجرت کرکے مکہ پاک سے
مدینہ طیبہ کی طرف آئے تو ان کے پاس مال و دولت نہ تھا اور آپ ﷺ نے انصار و
مہاجرین کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔
انصاری صحابہ
کرم نے بھی قربانی و ایثار کی ایسی مثال قائم کی کہ تاریخ انسانی میں کہیں ایسی
مثال نہیں ملتی جیسا کہ انصار صحابہ کرم نے آدھی دولت اور جائیداد مہاجرین کے
حوالے کردیں یہاں تک کہ اگر کسی انصاری صحابی کے نکاح میں دو بیویاں تھی تو ان نے
ایک کو طلاق دی کہ اس کے مہاجر صحابی بھائی سے نکاح کر سکے اور اس کا گھر آباد ہو۔
آپ ﷺ مہاجرین
کے گھروں میں تشریف لے جاتے اور ان کی خبر گیری فرماتے تھے آپ ﷺ نے مہاجرین کو
مصائب و مشکلات پر صبر و شکر کرنے کی تلقین فرمائی اور ان کے لیے خصوصی دعائیں
فرماتے۔
صحابہ کرام کی
عظمت و شان اور ان کے اوصاف بیان کرنا اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سنت ہے۔ مہاجر
صحابہ کرام کے بارے میں اللہ پاک قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ
الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ
یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ
رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8
) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے
نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے
ہیں۔
یہاں پر ایک
غور طلب بات ہے کہ ان مہاجر صحابہ کرام میں ہمارے خلفائے راشدین بھی ہیں اللہ پاک
نے تو ان کی شان میں فرما یا کہ میرے محبوب کے یہ غلام اللہ پاک کا فضل چاہنے والے
اور سچے ہیں۔ پتا یہ چلا جو ان نفوس قدسیہ کے بارے میں اپنی زبانوں کو دراز کرتے
ہیں وہ اپنے ایمان کی خیر فرمائیں کیونکہ یہ تو قرآن پاک کی مخالفت کر رہے ہیں۔
حضرت عبد الله
بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: فقرا مہا جرین
مالداروں سےچالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)
رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہوتا۔ (بخاری، 3/116، حدیث: 4330)
ایک مقام پر ارشاد
فرمایا: اے میرے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور
کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس
کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)
حضرت جابر سے
روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اس مسلمان کو آگ نہ چھوئے گی جس نے مجھے
دیکھایا میرے دیکھنے والے کو دیکھا۔ (ترمذی، 5/461، حدیث: 3884)
ان سارے
واقعات سےپتا چلتا ہے اور ہمیں سیکھنے کو یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں آپس میں مل جل کر
رہنا چاہیے اور مسلمانوں میں ایک دوسروں کی مدد کرنی چاہیے جس طرح انصار و مہاجریں
آپس میں مل جل کر رہتے تھے اور وہ ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور دین پر عمل
پیرا ہونے والے تھے سب کچھ اللہ و رسول پر فدا کرنے والے تھے۔
Dawateislami