حضور
کی مہاجرین سے محبت از بنت محمد طفیل، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
مہاجرین
کی تعریف: کفار
مکہ کے ظلم و ستم سے تنگ آکر آقا ﷺ کے حکم سے جن مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی
انہیں مہاجرین‘‘ کہا جاتا ہے۔
مہاجرین
مسلمانوں کا امتیاز: مہاجرین مسلمانوں کا امتیاز یہ تھا کہ★انہوں نے سب سےپہلے اسلام قبول
کیا★ان کی سب سے بڑی سعادت یہ تھی
کہ رسول اللہ ﷺ کے اہل بیت اور دیگر رشتہ دار بھی ان ہی میں تھے★ انہوں نے پیارے آقاﷺ کا اس وقت
ساتھ دیا جب کفار ہر طرح سے آپﷺ کے مخالف ہوچکے تھے ★انصار کو بھی ان ہی مہاجرین کے سبب اسلام کی دولت
نصیب ہوئی★انصار کو اسلام کی تعلیمات دینے
والے بھی یہی مہاجرین تھے★انصار
کی آپس کی دشمنیاں ان ہی کے سبب ختم ہوئیں۔
ہجرت
کرنے والے چند صحابہ کرام کا ذکر: جن صحابہ کرام علیہم الرضوان نے ہجرت
کی ان میں چند مشہور صحابہ کے نام ذکر کیے جا رہے ہیں: مسلمانوں کے پہلے خلیفہ
صدیق اکبر، دوسرے خلیفہ حضرت عمر، تیسرے خلیفہ حضرت عثمان اور چوتھے خلیفہ حضرت مولا
علی تھے ان کے علاوہ حضرت طلحہ، حضرت عبد الرحمٰن، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ
عنہم بھی شامل تھے۔
مہاجرین کی
فضیلت اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے قرآن کریم میں مہاجرین کا ذکر فرمایا،
چنانچہ اللہ پاک نے ارشاد فرمایا: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا
مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ
رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8
) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے
نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے
ہیں۔
حضور
کی مہاجرین سے محبت:
1۔ رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: مہاجرین کے لیے قیامت والے دن سونے کے منبر پر ہوں گے، وہ ان پر بیٹھیں
گے اور ہر قسم کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔ (صحیح ابن حبان، 9/191، حدیث: 7218)
2۔ حضرت جریر
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجرین دنیا و آخرت میں ایک
دوسرے کے دوست ہوں گے۔ (معجم کبیر، 2/313، حدیث: 2302)
3۔ عبداللہ بن
عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا آپ کو میری امت کی
اس جماعت کے بارے میں علم ہے جو سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گی؟ میں نے کہا: اللہ
اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ جماعت مہاجرین کی ہے۔ وہ روز
قیامت جنت کے دروازے پر آ کر دروازے کھولنے کا مطالبہ کریں گے۔ دربان ان سے پوچھے
گا: آیا تمہارا حساب و کتاب ہو چکا ہے؟ وہ کہیں گے: کس موضوع پر ہم سے حساب کتاب
لیا جائے؟ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مرتے دم تک ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر
رہیں، سو وہ ان کے لیے دروازہ کھول دے گا اور وہ (داخل ہو کر) عام لوگوں کے
داخلے سے پہلے چالیس سال کا قیلولہ بھی کر چکے ہوں گے۔ (مستدرک، 2/387، حدیث: 2436)
سبحان اللہ! صحابہ
کرام کی کیا شان ہے اے کاش ہم بھی ان کی سیرت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے والے بن
جائیں۔
اللہ پاک کی
صحابہ کرام پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہمارے بے حساب مغفرت ہو۔
Dawateislami