مہاجرین کی تعریف: مہاجر ہجرت سے بنا ہے، اصطلاح میں مہاجرین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر آقا جان عالم ﷺ کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنا گھر، مال، وطن سب کچھ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔

چند مہاجرین کے نام: ہجرت کرنے والے صحابہ کرام علیہم الرضوان میں حضرت صدیق اکبر، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان اور آپ کی زوجہ حضرت رقیہ بنت رسول اللہ، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل تھے۔

مہاجرین کی بیماری پر نبی ﷺ کا دعا کرنا: مہاجرین ہجرتِ مدینہ کے بعد بیمار ہو گئے کیونکہ وہ مکّہ کی آب و ہوا کے عادی تھے تو مدینہ کا ماحول ان کے لئے بالکل نیا تھا اور حضرت ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما شدید بیمار ہو گئے تو نبی ﷺ اپنے صحابہ کی یہ حالت دیکھ کر تڑپ اٹھے اور ان کے لئے دعا کی: اے اللہ! ہمارے دلوں میں مدینہ کی محبت اسی طرح پیدا کر دے جیسے مکہ کی محبت ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی آب و ہوا کو صحت بخش بنا دے۔ (بخاری، 1/621، حدیث: 1889)

اللہ پاک قرآن پاک میں مہاجرین کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (پ 11، التوبۃ:100)ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک مہاجرین اور انصار میں سے سابقین اولین اور دوسرے وہ جو بھلائی کے ساتھ ان کی پیروی کرنے والے ہیں ان سب سے اللہ راضی ہوا اور یہ اللہ سے راضی ہیں۔

انصار و مہاجرین میں رشتۂ اخوّت: حضور اکرمﷺ نے خیال فرمایا کہ انصار و مہاجرین میں بھائی چارہ قائم کرکے ان کو بھائی بھائی بنا دیا جائے تا کہ مہاجرین کے دلوں سے اپنی تنہائی اور بے کسی کا احساس دور ہوجائے اور ایک دوسرے کے مددگار بن جانے سے مہاجرین کے ذریعۂ معاش کا مسئلہ بھی حل ہو جائے۔ چنانچہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد ایک دن حضور پاک ﷺ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے مکان میں انصار و مہاجرین کو جمع فرمایا، اس وقت تک مہاجرین کی تعداد 45 یا 50 تھی۔ حضور نبی کریم ﷺ نے انصار کو مخاطب کرکے فرمایا: یہ مہاجرین تمہارے بھائی ہیں۔ پھر مہاجرین و انصار میں سے دو دو کو بلا کر فرماتے گئے: یہ اور تم بھائی بھائی ہو۔ حضور انور ﷺ کے ارشاد فرماتے ہی یہ بھائی چارہ بالکل حقیقی بھائی جیسا رشتہ بن گیا۔

چنانچہ انصار نے مہاجرین کو ساتھ لے جا کر اپنے گھر کی ایک ایک چیز سامنے لا کر رکھ دی اور کہہ دیا کہ آپ ہمارے بھائی ہیں! اس لئے ان سب سامانوں میں آدھا آپ کا اور آدھا ہمارا ہے۔ حضرت سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کی اس مخلصانہ پیشکش کو سن کر حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شکریہ کے ساتھ کہا: اللہ یہ سب مال و متاع آپ کو مبارک فرمائے! مجھے تو آپ صرف بازار کا راستہ بتا دیجئے! انہوں نے مدینہ کے مشہور بازار قینقاع کا راستہ بتا دیا۔ چنانچہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بازار گئے، کچھ گھی اور پنیر خرید کر شام تک بیچتے رہے۔ اسی طرح ہر روز وہ بازار جاتے رہے یہاں تک کہ تھوڑے ہی عرصے میں کافی مالدار ہوگئے۔ (بخاری، 2/ 554، حدیث: 3780)

فقرا مہاجرین کے لئے خوشخبری: نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: فقرا مہاجرین، ان کے مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)

قربان جائیے! پیارے مکی مدنی آقا ﷺ کا مہاجرین و انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا تاکہ ان کے لئے ذریعہ معاش کا مسئلہ حل ہو اور آقا جان ﷺ کا فقرا مہاجرین کو تسلی دینا، خود بہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ آقا ﷺ مہاجرین سے کس قدر محبت فرماتے تھے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن و احادیث کی روشنی سے آقا جان ﷺ کی مہاجرین سے محبت کا ثبوت ملتا ہے اور حضور کے ان کے لئے بھائی چارہ قائم کرنے اور ان مہاجرین کے لیے اپنے رب کی بارگاہ میں دعا کرنے سے بھی آپ ﷺ کی اپنے مہاجرین سے محبّت کا اظہار ہوتا ہے۔