پیارے آقاومولاحضرت محمد مصطفی ﷺ کی مہاجرین سے محبت بے مثال تھی۔آپ ﷺ نے مکہ سے ہجرت کر کے آنے والے بے گھر اور مظلوم صحابہ کرام کو مدینہ میں اپنایا۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھا انہیں اپنے اہل خانہ جیسا پیار دیا اور معاشی استحکام کے لیے انصار کے ساتھ ان کا بھائی چارہ کروایا۔ آپ ﷺ کی مہاجرین سے محبت کے چند نمایاں پہلو درج ذیل ہیں:

رشتہ اخوت کا قیام: ہجرت کے بعد مدینہ پہنچ کر آپ ﷺ نے انصار مہاجرین کے درمیان (مواخات) بھائی چارہ قائم کی۔ہر مہاجر کو اپنے انصار کا بھائی بنایا جنہوں نے اپنی جائیداد اور دولت میں انہیں برابر کا شریک کیا۔

مالی اور جذباتی کفالت: مہاجرین اپنا سب کچھ مکہ چھوڑ آئے تھے آپ ﷺ نے ان کی بہترین نگہداشت فرمائی اور مختلف غزوات میں غنیمت کا مال سب سے پہلے مہاجرین کے ضروریات پوری کرنے کے لیے مختص فرمایا۔

خصوصی دعائیں اور فضائل: حضور ﷺ مہاجرین کی قربانیوں کی بےحد قدر فرماتے تھے اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں فرماتے تھے۔

مقام قربت: مدینے میں آپ ﷺ نے مہاجرین کو اپنے سب سے زیادہ قریب رکھا کیونکہ انہوں نے دین کی خاطر اپنا گھر کاروبار اور شہر سب کچھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے قربان کر دیا تھا۔

قرآن مجید میں مہاجرین سے حضور ﷺ کی شفقت محبت اور ان کی قربانیوں کے اعتراف کو مختلف مقامات پر بیان کیا گیا ہے نیز اللہ پاک نے انصار مدینہ کو بھی حکم دیا کہ وہ مہاجرین سے محبت کریں۔

حضور ﷺ کی مہاجروں سے محبت اور ان کی تکریم کو واضح کرنے والی آیت درج ذیل ہے:

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

یعنی مال غنیمت میں جیسا کہ اوپر ذکر کیے ہوئے لوگوں کا حق ہے ایسا ہی یہ مال ان فقیر مہاجروں کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اور ان کے گھروں اور مالوں پر کفار مکہ نے قبضہ کر لیا اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی کا فضل یعنی آخرت کاثواب اور اس کی رضا چاہتے ہیں اور اپنی جان و مال سے دین کی حمایت میں اللہ تعالی اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں وہی ایمان اور اخلاص میں سچے ہیں۔ (خازن، 4/248)

حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان مہاجرین نے گھر مال اور کنبے اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کی محبت میں چھوڑ اور اسلام کو قبول کیا اور ان تمام شدتوں اور سختیوں کو گوارا کیا جو اسلام قبول کرنے کی وجہ سے انہیں پیش آئیں۔ان کی حالتیں یہاں تک پہنچی کہ بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھتے تھے اور سردیوں میں کپڑا نہ ہونے کی باعث گڑھوں اور غاروں میں گزارا کرتے تھے۔ (خازن، 4/248)

اسی طرح بہت سی حدیث مبارکہ سے بھی حضور ﷺ کی مہاجرین سے محبت ظاہر ہوتی ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:فقراء مہاجرین مالداروں سے 40 سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)

دوسری حدیث میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن 500 برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حدیث: 3000)

اللہ پاک ہمیں بھی مہاجرین سے محبت کرنے کی توفیق عطا اور ہمیں اخلاص کے ساتھ دین کی خاطر قربانیاں دینے والوں میں سے بنائیں۔ آمین