حضور اکرم ﷺ کی محبت کا عالم تو کیا ہے ہر ذی شعور فرد سمجھ سکتا ہے۔تو پھر جو خوش نصیب آپکے سایہ اقدس میں زندگی گزارتے ہونگے ان کے ساتھ محبت کا عالم کیا ہوگا صحابہ تو وہ خوش نصیب ہستیاں ہیں۔جو ایمان کی حالت میں آپ کے دیدار سے مشرف ہوئے تو اس سلسلے میں مہاجرین کے ساتھ محبت کی چند جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔

حضرت محمد ﷺ اپنے صحابہ خصوصاً مہاجرین سے محبت اور ان کا باہمی تعلق اسلامی تاریخ میں ایک انتہائی اہم اور روشن باب ہے۔ مہاجرین وہ عظیم ہستیاں تھیں جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنا گھر، مال سب کچھ چھوڑ کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔

حضور اکرم ﷺ مہاجرین سے بے پناہ محبت فرماتے تھے۔ اس محبت کا اندازہ آیات کریمہ اور احادیث نبوی ﷺ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقان حمید میں مہاجرین کی فضیلت کو اس طرح بیان فرماتا ہے: لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ(۸) (پ 28، الحشر:8 ) ترجمہ کنز الایمان: ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچّے ہیں۔

ان کی فضیلت کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقرا مہاجرین مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)

دوسری حدیث میں حضور نے فرمایا: اے تنگدست مہاجرین کے گروہ تمہیں بشارت ہو قیامت کے دن تم مکمل نور کے ساتھ امیر لوگوں سے نصف دن پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ نصف دن پانچ سو برس کے برابر ہے۔ (ابوداود، 3/452، حديث: 3000)

ان احادیث و آیات سے تو مہاجرین کی فضیلت معلوم ہوگئی۔اب دیگر واقعات بھی پڑھتے ہیں۔

1)مواخات مدینہ: مدینہ ہجرت کے بعد نبی کریم ﷺ نے مہاجرین وانصار کے درمیان ایک مثالی رشتہ قائم کیا۔ ہر مہاجر صحابی کو ایک انصاری صحابی کا دینی بھائی بنادیا۔

اس محبت کی انتہا یہ تھی کہ انصار نے اپنے گھر اور جائیدادیں مہاجرین کے ساتھ خوشی خوشی بانٹ لیے۔

2)بے مثال قدر دانی: حضور اکرم ﷺ مہاجرین کی قربانیوں کو بہت سراہتے تھے۔ آپ نے فرمایا: اسلام میں ہجرت کا ثواب اپنی جگہ بہت بلند ہے اور آپ اکثر ان کی تکالیف پر تسلی اور حوصلہ افزائی فرماتے تھے۔

3)خاص تعلق اور قربت: آپ کی مجلس میں مہاجرین صحابہ کو ایک خاص قربت اور خاص مقام حاصل تھا۔ آپ ﷺ ان سے انتہائی شفقت اورمحبت کا معاملہ فرماتے تھے۔

4)خصوصی دعائیں: حضور ﷺ نے مختلف مقامات پر ان کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔

ان تمام واقعات کو پڑھ کر یہ معلوم ہوا کہ حضور جان عالم ﷺ نے مہاجرین سے کس قدر محبت فرمائی۔ ساتھ ہی ان کی فضیلت میں احادیث ارشاد فرمائیں۔یہاں تک کہ قرآن مجید فرقان حمید میں مہاجرین کے فضائل ارشاد فرما دئیے گئے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمارے دل میں صحابہ کرام کی محبت میں اضافہ فرمائے۔ آمین