حضور
کی مہاجرین سے محبت از بنت محمد افضل، جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
اسلام میں
ہجرت کا مطلب اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ
منتقل ہونا ہے۔
مہاجرین صحابہ
ان صحابہ کرام کو کہا جاتا ہے جنہوں نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی انہوں نے اسلام
کی خاطر اپنا گھر مال دولت اور رشتہ داروں کو چھوڑ دیا اور مدینہ جا کر آقا علیہ
الصلوۃ والسلام کے ساتھ اسلامی معاشرے کی بنیاد مضبوط کی۔
قرآن
کریم میں مہاجرین کا ذکر:
وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی
اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةًؕ-وَ
لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ(۴۱) (پ
14، النحل: 41) ترجمہ کنز الایمان: اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنے گھر بار
چھوڑے مظلوم ہو کر ضرور ہم انہیں دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور بیشک آخرت کا ثواب
بہت بڑا ہے کسی طرح لوگ جانتے۔
مشہور
مہاجرین صحابہ کے چند نام: حضرت ابوبکر صدیق، عمر بن خطاب، عثمان
بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، زبیر بن عوام وغیرہ ہیں۔
آقا
جان علیہ الصلاۃ والسلام کی مہاجرین سے محبت: آقا جان حضرت
محمد ﷺ کو اپنے مہاجر صحابہ کرام سے بہت محبت تھی کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے
رسول ﷺ کی رضا کے لیے اپنے گھر مال اور وطن کو چھوڑ دیا تھا۔
ایک موقع پر
نبی کریم ﷺ نے مہاجرین کے حق میں دعا فرمائی: اللّهمّ اغفر
للمهاجرين
اے اللہ! مہاجرین کی مغفرت فرما۔
اسی طرح آپ ﷺ
مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم فرماتے تھے اور ان کی عزت و تکریم کا
خاص خیال رکھتے تھے۔
مہاجرین کی
قربانیوں کو آپ ﷺ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے، کیونکہ انہوں نے اسلام کی خاطر
ہر قسم کی تکلیف برداشت کی۔
فقرا
مہاجرین کی جنت میں سبقت: حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقرا مہاجرین مالدار لوگوں سے چالیس سال
پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ (مسلم، ص 1217، حدیث: 7463)
مہاجرین
کے لیے رسول اللہ ﷺ کی دعا: حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت
کرتے ہیں کہ نبی كريم ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! مہاجرین کی مغفرت فرما،
انصار کی مغفرت فرما۔ (بخاری،1/165، حدیث: 428 ملخصاً)
مہاجرین صحابہ
رضی اللہ عنہم سے ہمیں یہ مختصر اسباق ملتے ہیں: 1۔ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت ہر
چیز پر مقدم رکھنا 2۔ دین کی خاطر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا 3۔ مشکلات میں صبر
اور استقامت اختیار کرنا 4۔ بر حال میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا 5۔ مسلمانوں
کے ساتھ اخوت، محبت اور تعاون کرنا 6۔ دنیا سے زیادہ آخرت کی کامیابی کو اہم
سمجھنا۔
Dawateislami