انسان اس دنیا میں اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا اس کو لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے زندگی گزارنی ہوتی ہے جب انسان ایک معاشرے میں رہتا ہے تو اس پر کچھ چیزیں لازم ہوتی ہیں۔ جس سے معاشرے کا توازن برقرار رہتا ہے۔اللہ پاک نے مسلمانوں کو بہتر زندگی گزارنے کے لئے جن بلند مقام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کا حکم دیا ہے اور جو چیزیں معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہیں ان سے منع فرمایا ہے۔ دین اسلام دین فطرت ہے اس کا ہر ہر حکم فطرت کے مطابق ہے ۔جب معاشرے میں انسان رہتا ہے تو وہ دوسرے لوگوں سے معاملات کرتا ہے اقوال و اقرار کرتا ہے تو اللہ پاک نے انہیں پورا کرنے کا حکم دیا ہے۔ایک مسلمان جب کس سے عہد کرےچاہے وہ لوگوں سے عہد کرے یا اپنے رب کریم سےتو اس کو شریعت نے پورا کرنے کا حکم فرمایا اور عہد شکنی کی مذمّت فرمائی۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں عہد کو توڑنے والے کیلئے فرمایا:

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں ۔ (پ1، ‏البقرۃ: 27)‏

ایک اور مقام پر اللہ پاک نے فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔‏‏(پ13، الرعد: 25)‏

ان آیات میں عہد توڑنے والوں کو نقصان اٹھانے والے فساد پھیلانے والے لعنت کے مستحق قرار دیا گیا ہے اور آخرت میں برے گھر والے یعنی جہنمی فرمایا گیا ہے۔

اللہ پاک نے بنی اسرائیل سے وعدہ لیا تھا جس کا ذکر اس آیت میں ہے ۔

وَ لَقَدْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ-وَ بَعَثْنَا مِنْهُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًاؕ-وَ قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مَعَكُمْؕ-لَىٕنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَیْتُمُ الزَّكٰوةَ وَ اٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَ عَزَّرْتُمُوْهُمْ وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُكَفِّرَنَّ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ لَاُدْخِلَنَّكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُۚ-فَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ(۱۲)

ترجمہ کنز العرفان: اور بیشک اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں بارہ سردار قائم کیے اور اللہ نے فرمایا: بیشک میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اگر تم نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور میرے رسولوں پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور اللہ کو قرض حسن دو توبیشک میں تم سے تمہارے گناہ مٹا دوں گا اور ضرور تمہیں ان باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں تو اس (عہد) کے بعد تم میں سے جس نے کفر کیا تو وہ ضرور سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔(پ6،المائدۃ: 12)

اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے وعدہ فرمایا تھا کہ انہیں اور ان کی قوم کو مقدس سرزمین یعنی شام کا وارث بنائے گا جس میں کنعانی جَبّار رہتے تھے۔ فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو حکمِ الٰہی ہوا کہ بنی اسرائیل کو اَرضِ مُقَدَّسہ (بیتُ المقدس) کی طرف لے جائیں ، میں نے اس کو تمہارے لئے رہائش بنایا ہے ،تو وہاں جاؤ اور جو دشمن وہاں ہیں اُن سے جہاد کرو، میں تمہاری مدد فرماؤں گا اور اے موسیٰ! تم اپنی قوم کے ہرہر گروہ میں سے ایک ایک سردار بناؤ، اس طرح بارہ سردار مقرر کرو جن میں سے ہر ایک اپنی قوم کے حکم ماننے اور عہد پورا کرنے کا ذمہ دار ہو۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بارہ سردار منتخب کرکے بنی اسرائیل کو لے کر روانہ ہوئے۔ جب اَرِیحاء کے قریب پہنچے تو ان نقیبوں (سرداروں ) کو دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لئے بھیجا، وہاں انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ بہت عظیمُ الْجُثَّہ(عظیم جسامت والے)، نہایت قوی و توانا اور صاحب ِہیبت و شوکت ہیں ، یہ ان سے ہیبت زدہ ہو کر واپس آئے اور آکر انہوں نے اپنی قوم سے سب حال بیان کردیا حالانکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا لیکن سب نے عہد شکنی کی سوائے دو آدمیوں کے ایک:کالب بن یوقنا اور دوسرے یوشع بن نون۔ یہ دونوں عہد پر قائم رہے۔ تو اللہ پاک نے ان کی بد عہدی کے سبب ان پر لعنت فرمائی اور ان کے دل سخت ہو گئے۔

ان آیات سے پتا چلا کہ عہد شکنی کرنا بہت برا ہے اللہ پاک کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے اس سے تمام مسلمانوں کو بچنا چاہیے ۔