حضور ﷺ کا آخری نبی ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر تمام صحابہ و تابعین، تبع تابعین، سلف و صالحین، علمائے کاملین و مسلمین کا اجماع و اتفاق ہے اگر کوئی حضور ﷺ کو آخری نبی نہ مانے یا پیارے آقا ﷺ کے آخری نبی ہونے میں ذرہ برابر بھی شک کرے تو وہ کافر و مرتد ہو کر دائرۂ اسلام سے نکل جاتا ہے، عقیدۂ ختمِ نبوت پر ایمان ہر مسلمان پر لازم ہے لہٰذا علمائے اہلسنّت نے تحفظ ختمِ نبوت کو صرف مسئلہ نہیں بلکہ ایمان کا مسئلہ سمجھ کر اپنایا، اپنے قلم، زبان، مناظرہ، تحریک، پارلیمنٹ اور قربانی، ہر میدان میں ان کا کردار تاریخ کا روشن باب رہا ہے۔

آج بھی یہ طبقہ نوجوان نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے جوڑنے میں مصروف عمل ہے کیونکہ ان کے نزدیک ختمِ نبوت کا تحفظ دراصل ناموس رسالت کا تحفظ ہے، برصغیر میں جب جب اس عقیدے کو چھیڑا گیا علمائے اہلسنت ہر دور میں سب سے آگے کھڑے نظر آئے اور سب نے صف اول میں رہ کر اپنا کردار ادا کیا جیسا کہ مرزا قادیانی نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو سب سے پہلا وار قلم سے ہوا جو سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی علیہ الرحمہ نے کتابیں لکھ کر کیا کہ یہ دعویٰ جھوٹا ہے، پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے تو مرزا کو مباہلے کے لئے للکارا لیکن وہ فرار ہوا، اسی طرح قیامِ پاکستان کے بعد جب قادیانیوں نے بڑے زور و شور سے اپنے باطل مذہب کی ترویج و اشاعت شروع کی تو 1953ء میں غیرت مند و باشعور مسلمانان پاکستان نے علّامہ ابوالحسنات سیّد محمد احمد قادری علیہ الرحمہ کی قیادت میں تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پرچم بلند کیا، قادیانیوں کی شرانگیزی سے کئی علمائے کرام کو سزائیں ہوئیں جبکہ 10ہزار کے قریب مسلمان شہید ہوئے۔

چند سالوں بعد جب قادیانیوں نے پھر فساد پھیلانا شروع کیا تو 1974ء میں علمائے اہل سنّت نے پھر تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کی آواز اٹھائی، اس بار بھی کثیر علما و مشائخ نے قید و بند کی تکالیف اٹھائیں، بالآخر قادیانیت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا جس پر علمائے اہل سنّت کی کئی مہینوں کی انتھک محنت، کثیر پختہ اور ٹھوس دلائل اور سب سے بڑھ کر عشق رسول ﷺ کی بدولت قادیانیوں کی تخریب کاری، فساد، جھوٹ اور اسلام سے دشمنی قانونی سطح پر بھی واضح ہو گئی، قومی اسمبلی میں متفقہ رائے سے عقیدۂ اسلام کو غلبہ ملا اور آئین پاکستان میں قادیانیوں اور لاہوری گروپ کو کافر و مرتد قرار دیا گیا، نیز قانون طے پا گیا کہ قادیانی نہ تو خود کو مسلمان کہلوا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی اسلامی علامت کا استعمال کر سکتے ہیں، اہل سنت نے اسے مدرسے یا کتاب تک محدود نہیں رکھا بلکہ ہر جمعہ کا خطبہ، ہر میلاد کا جلوس، ہر نعرہ تاجدار ختم نبوت اس عقیدے کو زندہ رکھتا ہے، بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہمارے نبی کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا کیوں کے خود ہمارے پیارے آقا ﷺ نے فرما دیا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسلم، ص 1006، حدیث : 6218)

اس مضمون پر علمائے اہلسنت کا کردار کسی دور میں بھی کم نہ رہا دور حاضر میں دیکھا جائے تو اب سوشل میڈیا پر شکوک پھیلائے جاتے ہیں اور سنی علما یوٹیوب، فیس بک وغیرہ کے ذریعے نوجوانوں کی اصلاح فرما رہے ہوتے ہیں اسی سلسلے میں ہر سال 7 ستمبر کو تحفظ ختمِ نبوت کانفرنس بھی ہوتی ہے، تحفظ ختمِ نبوت کے لئے علمائے اہلسنت کی خدمات تاریخ اسلام کا وہ روشن باب ہیں جس پر امت ہمیشہ نازاں رہے گی۔

الله کریم ہمارے علمائے اہلسنت کا سایہ عافیت کے ساتھ سلامت رکھے۔ آمین