‏ ‏دین اسلام میں عہد پورا کرنے کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اور عہد پورا کرنے کو بہت اہمیت دی گئی ہے ۔اور وعدہ خلافی کی مذمت کی ‏گئی ہے ،اور اس کو منافقت کی علامت قراردیا گیا ہے ۔اور ساتھ ہی قرآن پاک میں یہ بھی بتا دیا گیا جو لوگ عہد توڑتے ہیں وہ دنیا میں بھی ‏اور آ خر ت میں بھی خسارے میں ہے ۔اللہ تعالی نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا: الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں ۔ )‏ سورۃالبقرۃ ،آیت نمبر 27)

اب اس آیت میں یہ بتایا گیا کہ اللہ کے ساتھ وعدہ کرکے توڑنے والا فاسق ‏ہے۔ مزید ایک جگہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖۙ-وَ نَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوْا بِهٖۚ-وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰى خَآىٕنَةٍ مِّنْهُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اصْفَحْؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۳)

ترجمہ کنزالایمان:تو اُن کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردئیے اللہ کی باتوں کو ان کے ٹھکانوں سے بدلتے ہیں اور بھلا بیٹھے بڑا حصہ اُن نصیحتوں کا جو انہیں دی گئیں اور تم ہمیشہ ان کی ایک نہ ایک دغا پر مطلع ہوتے رہو گے سوا تھوڑوں کے تو انہیں معاف کردو اور اُن سے درگزرو بے شک احسان والے اللہ کو محبوب ہیں ۔( سورۃ ‏المائدۃ ،آیت نمبر 13 )

ا ب اس آیت مبارکہ میں بد عہدی کرنے والوں پر لعنت کی گئی ہے ۔قرآن مجید میں یہ بھی بتایا گیا کہ جو دنیا ‏کہ تھوڑے دام کے بدلے عہد توڑتے ہیں وہ آخرت میں خسارے میں ہوگے۔

ارشاد فرمایا:اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔‏‏(سورۃ اٰل عمران ، آیت نمبر 77 )

وعدہ خلافی سے نفاق پیدا ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔ ( سورۃ التوبۃ ،آیت نمبر 77 )

وعدہ خلافی کو منافقت کی علامت بتایا گیا ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے : عن ابی ھریرۃ ، عن النبی ﷺ ‏،قال آیۃ المنا فق ثلاث ، اذا حدث کذب ، و اذا وعد اخلف ، و اذ ا اؤتمن خان۔

ترجمہ: حضر ت ابو ہر یر ہ سے ‏روایت ہے فرماتے ہیں، کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں ۔جب بات کرے جھوٹ بولے ،جب وعدہ کرے ‏وعدہ خلافی کرے ، جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائےتو اس میں میں خیانت کرتا ہے۔(‏الجامع المسند الصحیح المختصر من امور رسول اللہ ﷺ و سننہ و ایامہ کتاب ا لشھادات باب من امر بانجاز الوعد ،صفحہ نمبر 471 ،حدیث ‏نمبر 2682)‏

عہد شکنی کے نقصانات:‏اللہ و رسول کی نافرمانی سےمعاشرے میں بگاڑ پیدا ہو گا۔ رشتے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگے ۔انسان کا کردار کمزور ہوجائے گا۔قرآن مجید میں واضح طور پر بتایا گیا ہے جو اللہ تعالی کے وعدے کو توڑے گا اس پر مختلف طرح کے عذاب آئے گے۔اور اس کے دل ‏میں نفاق پیدا ہوگا ۔ہمیں چاہیے کہ جب بھی وعدہ کرے تو اس کو پوڑا کرے ، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں عہد شکنی کے عذاب سے ‏محفوظ فرمائے آمین۔