معاہدہ کرنے کے بعد اسکی خلاف ورزی کرنا غدر یعنی بدعہدی کہلاتا ہے(جسے عام زبان میں وعدہ تو ڑنا کہتے ہیں)۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات صفحہ 170)

قرآن پاک میں کئی جگہ بدعہدی کرنے سے منع کیا بلکہ اس کے عذابات سے ڈرایا گیا ہے۔

بدعہدی کرنے والا ملعون ہے:

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔(سورۃالرعد:25)

تفسیر صراط الجنان:وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ:اور وہ جو اللہ کا عہد توڑ دیتے ہیں ۔ اس سے پہلی آیات میں  اللہ تعالیٰ نے سعادتمندوں  کے احوال اور جو کرامتیں  اور بھلائیاں  ان کے لئے تیار فرمائی ہیں  ان کا ذکر فرمایا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ بد بختوں  کے احوال اور ان کے لئے جو سزائیں  تیار فرمائی ہیں  ان کا ذکر فرما رہا ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعتراف کر کے اور ایمان لانے کا عہد قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے ا س حکم کی مخالفت کرتے ہیں  اوراللہ تعالیٰ نے جو صلہ رحمی کرنے اور رشتہ داری جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں  ،کفر اور گناہوں  کا ارتکاب کر کے زمین میں  فساد پھیلاتے ہیں  ان کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۶۴-۶۵، ملخصاً)

بدعہدی کرنا اتنا برا ہے کہ الله تبارک وتعالی نے دو مرتبہ بدعہدی کرنے سے منع فرمایا :

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِۚ-وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(94)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں جمنے کے بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے اور تمہیں بڑا عذاب ہو۔ (سورۃالنحل:94)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ:اورتم اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناؤ۔اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ  نے عہد اور قسمیں توڑنے سے منع فرمایا تھا ،اب یہاں دوبارہ ا س کام سے تاکیداً منع فرمانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ معاہدہ اور قسمیں پورا کرنے کا معاملہ انتہائی اہم ہے کیونکہ عہد کی خلاف ورزی میں دین و دنیا کا نقصان ہے اور عہد پورا کرنے میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ تم اپنی قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناؤورنہ تمہارے قدم اسلام کے صحیح راستے پرثابت قدمی کے بعد پھسل جائیں گے اور تم خود عہد کی خلاف ورزی کرنے یا دوسروں کو عہد پورا کرنے سے روکنے کی وجہ سے دنیا میں عذاب کا مزہ چکھو گے کیونکہ تم عہد توڑ کر گناہ کا ایک طریقہ رائج کرنے کا ذریعہ بنے ہوگے اور تمہارے لئے آخرت میں بہت بڑا عذاب ہوگا۔(جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۹۴، ۴ / ۱۰۹۰)

بعض مفسرین کے نزدیک ا س آیت میں بیعتِ اسلام کو توڑنے سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ثابت قدمی کے بعد قدموں کے پھسل جانے کی وعید اسی کے مناسب ہے۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۴، ۳ / ۱۴۱)

الله پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بد عہدی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات بلکہ اخلاقیات اور معاملات میں بھی بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہی اخلاقی اصولوں میں ایک نہایت اہم اصول وعدہ پورا کرنا ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان اپنے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرے، کیونکہ وعدہ ایک ذمہ داری اور امانت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی۔

بد عہدی یعنی وعدہ خلافی کو قرآنِ کریم نے سخت ناپسند کیا ہے اور اسے ایمان کے منافی صفات میں شمار کیا ہے۔ جو لوگ اپنے وعدوں کو توڑتے ہیں، وہ نہ صرف دنیا میں اعتماد کھو دیتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سامنا کرتے ہیں۔ قرآن میں ایسے لوگوں کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں تاکہ معاشرہ سچائی، دیانت اور وفاداری جیسے اعلیٰ اوصاف سے مزین ہو۔لہٰذا بد عہدی کے موضوع کو سمجھنا اور اس سے بچنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ عمل نہ صرف انفرادی کردار کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد اور نظام کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

معاہدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرناغدر یعنی بدعہدی کہلاتاہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۰)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ(۵۵)اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ(۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: ’’بیشک سب جانوروں میں بد تر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتے ، وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔‘‘(پ۹، الانفال: ۵۵، ۵۶)

‎‎صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :’’ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ اور اس کے بعد کی آیتیں بنی قُریظہ کے یہودیوں کے حق میں نازِل ہوئیں جن کا رسولِ کریم ﷺسے عہد تھا کہ وہ آپ سے نہ لڑیں گے ، نہ آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے ، انہوں نے عہد توڑا اور مشرکینِ مکّہ نے جب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جنگ کی تو انھوں نے ہتھیاروں سے ان کی مدد کی پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے معذرت کی کہ ہم بھول گئے تھے اور ہم سے قصور ہوا پھر دوبارہ عہد کیا اور اس کو بھی توڑا ۔ اللہ تعالی نے انہیں سب جانوروں سے بدتر بتایا کیونکہ کُفّار سب جانوروں سے بدتر ہیں اور باوجود کُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی خراب۔‘‘

اور ’’ڈرتے نہیں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’خدا سے نہ عہد شکنی کے خراب نتیجے سے اور نہ اس سے شرماتے ہیں باوجود یہ کہ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہوجاتا ہے ۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ پہنچ گئی تو یقیناً وہ جانوروں سے بدتر ہیں۔‘‘ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۰،۱۷۱)

‎‎جن لوگوں نے پختہ عہد کرنے کے بعد اسے توڑ دیا، اللہ نے ان پر اپنی لعنت کا ذکر فرمایا ہے۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-ترجمہ کنز الایمان: تو ان کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔(سورۃ المائدۃ، آیت: 13)

‎‎جو لوگ دنیاوی فائدے کے لیے اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو توڑ دیتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی مقام نہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ

ترجمہ کنز الایمان: ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں ۔ (سورۃ اٰل عمران، آیت: 77)

‎‎اللہ تعالیٰ نے بار بار عہد توڑنے والوں کو بدترین جانداروں میں شمار کیا ہے۔

‎‎وعدہ خلافی اور بد عہدی انسان کے دل میں منافقت پیدا کر دیتی ہے جو موت تک باقی رہ سکتی ہے۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ

ترجمہ کنز الایمان: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا ۔(سورۃ التوبہ، آیت: 77)

‎‎عہد کے بارے میں بازپرس کا ہونا یقینی ہے۔

وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت: 34)


انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی اعتماد اور بھروسے پر قائم ہے اور اس اعتماد کی روح "عہد و پیمان" کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ جب انسان ایک دوسرے سے کیے گئے وعدوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیتا ہے، تو معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور عدل و انصاف کی جگہ بے یقینی اور فتنہ و فساد لے لیتے ہیں۔ اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس معاملے میں نہایت حساس ہے۔ قرآن کریم کی روشنی میں بدعہدی محض ایک اخلاقی عیب نہیں بلکہ ایک سنگین روحانی جرم ہے جو انسان کو اللہ کے غضب اور لعنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ ایفائے عہد کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے، جبکہ وعدہ خلافی کو منافقت قرار دیا گیا ہے۔

قساوتِ قلبی یعنی دل کا سخت ہو جانا وہ بدترین سزا ہے جس کے بعد انسان ہدایت کی تڑپ سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ بدعہدی کے انجام کو واضح کرتی ہے:

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚترجمہ کنز الایمان:تو ان کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیے۔(سورۃ المائدہ، آیت: 13)

ایک اور مقام پر اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہیں جو دنیاوی مفادات کی خاطر اپنے عہد کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں نہ کوئی حصہ ہے اور نہ ہی اللہ کی رحمت حاصل ہوگی۔ ارشادِ ربانی ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ (سورۃ اٰل عمران، آیت: 77)

بدعہدی کا ایک ہولناک پہلو یہ ہے کہ اسے زمین پر فساد پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور ان تعلقات کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، وہی لوگ درحقیقت خسارہ پانے والے ہیں۔ یہ خسارہ صرف دنیاوی نہیں بلکہ ابدی ہے۔ وعدہ خلافی کرنے والے کی مثال اس عورت کی سی دی گئی ہے جو خود ہی محنت سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یعنی بدعہدی انسان کی تمام تر نیکیوں اور ساکھ کو برباد کر دیتی ہے۔ قیامت کے دن بدعہدی کرنے والے کی رسوائی کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا جس سے اس کی بے وفائی کا چرچا سرِ عام ہوگا۔ پس قرآنی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ عہد کی پاسداری اللہ کی محبت اور جنت کے حصول کا راستہ ہے، جبکہ بدعہدی ذلت، لعنت اور دائمی ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔

اسلام میں عہد کی وفاداری کو دین کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے اور بدعہدی کو ایک مہلک گناہ اور منافقت کی علامت ٹھہرایا گیا ہے۔ قرآن کی رو سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ صرف انسانی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ اللہ کی رحمت سے محروم اور سخت ترین اخروی سزا کا حقدار بن جاتا ہے، اس لیے ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے قول و قرار کی لاج رکھے۔

بد عہدی ایک ایسا گناہ ہے جس کی قرآن مجید میں سخت وعید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے "ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (سورۃالرعد:25)

بد عہدی کا مطلب ہے کہ کسی سے عہد یا وعدہ کرنا اور پھر اسے توڑ دینا۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی شرافت اور اخلاق کو نشانہ بناتا ہے۔ اسلام میں عہد کو پورا کرنا بہت ضروری ہے اور بد عہدی کرنا ایک بڑا جرم ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں۔ (سورۃالبقرہ، آیت 27)

بد عہدی کے نقصانات بہت زیادہ ہیں۔ یہ انسان کی شرافت اور اخلاق کو نشانہ بناتی ہے اور اس کے نتیجے میں انسان کو دنیا اور آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اسلام میں عہد کو پورا کرنا بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ :ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا عہد پورا کروجب قول باندھو۔ (سورۃالنحل، آیت 91)

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء، آیت 34)

ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام میں عہد کو پورا کرنا بہت ضروری ہے اور بد عہدی کرنا ایک بڑا جرم ہے۔بد عہدی سے بچنے کے لیے ہمیں اپنے عہد کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بد عہدی سے بچنے کی توفیق دے اور ہمیں اپنے عہد کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

بدعہدی یعنی وعدہ خلافی ایک نہایت قبیح، مذموم اور معاشرتی اعتبار سے تباہ کن صفت ہے جسے اسلام نے سختی کے ساتھ ناپسند فرمایا ہے۔ انسانی معاشرہ باہمی اعتماد، سچائی اور وعدوں کی پاسداری پر قائم ہوتا ہے۔ جب افراد اپنے عہد و پیمان کو پورا کرتے ہیں تو معاشرے میں امن، سکون اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے، لیکن جب وعدہ خلافی عام ہو جائے تو بداعتمادی، فساد اور انتشار جنم لیتا ہے۔ اسی لیے شریعتِ مطہرہ نے بدعہدی کو نہ صرف اخلاقی برائی قرار دیا بلکہ اسے ایمان کی کمزوری اور نفاق کی علامت بھی بتایا ہے۔

قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر عہد پورا کرنے کی تاکید اور بدعہدی کی مذمت بیان ہوئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء: آیت نمبر 34)

اسی طرح فرمایا:وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّم

ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ کا عہد پورا کروجب قول باندھو۔ (سورۃ النحل: آیت نمبر 91)

مزید ارشاد ہوتا ہے:وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا

ترجمہ کنز الایمان: اور اس عورت کی طرح نہ ہو جس نے اپنا سُوت مضبوطی کے بعد ریزہ ریزہ کرکے توڑ دیا۔(سورۃ النحل: آیت 92)

نیز بدعہدی کرنے والوں کے انجام کے بارے میں فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (سورۃ الرعد: آیت نمبر 25)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں ۔(سورۃ البقرہ: آیت نمبر 27)

ان آیاتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ وعدہ پورا کرنا اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے اور بدعہدی اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور لعنت کا سبب بنتی ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں بھی بدعہدی کی سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

آیة المنافق ثلاث: إذا حدّث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان

ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف کرے، اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 33؛ صحیح مسلم، حدیث: 59)

ایک اور حدیثِ مبارکہ میں ارشاد فرمایا:لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد لهترجمہ: جس میں امانت داری نہیں اس کا ایمان نہیں، اور جس میں عہد کی پابندی نہیں اس کا دین نہیں۔(مسند احمد: 12567؛ شعب الايمان للبیہقی)

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وعدہ خلافی نہ صرف ایک اخلاقی برائی ہے بلکہ یہ نفاق کی علامت اور ایمان کی کمزوری کا سبب بھی ہے۔ ایک سچا مسلمان کبھی بھی جان بوجھ کر اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔بدعہدی کے معاشرتی نقصانات بھی نہایت سنگین ہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے پر اعتماد کھو دیتے ہیں تو کاروباری معاملات، رشتے اور تعلقات سب متاثر ہوتے ہیں۔ دوستیاں ختم ہو جاتی ہیں، خاندانی نظام کمزور پڑ جاتا ہے اور معاشرہ بدامنی کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، وعدہ پورا کرنے والے افراد معاشرے میں عزت و وقار حاصل کرتے ہیں اور لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ہم اپنے ہر وعدے کو پورا کریں، خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ حتیٰ کہ معمولی معاملات میں بھی وعدہ خلافی سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہی چھوٹی باتیں انسان کے کردار کی تعمیر کرتی ہیں۔ اگر کسی مجبوری کی وجہ سے وعدہ پورا نہ ہو سکے تو معذرت کرنا اور وضاحت پیش کرنا بھی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے۔آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ بدعہدی ایک ایسی برائی ہے جو انسان کے دین و دنیا دونوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عہد و پیمان کا پابند ہو، سچائی، دیانت داری اور وفاداری کو اپنی زندگی کا شعار بنائے اور بدعہدی جیسے قبیح عمل سے مکمل اجتناب کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا، معاشرتی سکون اور حقیقی کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

عہد وہ وعدہ ہے جو انسان اللہ تبارک و تعالی اور بندوں سے کرتا ہے اور اسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بندوں سے کیے گئے وعدوں کا پورا کرنا درحقیقت عہد الہی کا پورا کرنا ہے ۔وعدہ خلافی انسانیت سے گری ہوئی بات ہے لہذا وعدے کی خلاف ورزی کرنا اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے اور عہد شکنی کرنے والا ہر عقلمند کے نزدیک ناپسندیدہ کہلاتا ہے عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتماد ہوتا ہے ۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰)

ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں۔ (سورۃ الرعد آیت نمبر 20)

یعنی آخرت کا اچھا انجام انہیں  کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد پورا کرتے ہیں  کہ اس کی ربوبیت کی گواہی دیتے ہیں  اور اس کا حکم مانتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد اور ان معاہدوں  کو توڑتے نہیں  جو انہوں  نے لوگوں  کے ساتھ کئے ہوتے ہیں ۔

عہد شکنی کرنے والے پر اللہ کی لعنت :

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پارہ نمبر 6 ، سورۃ المائدہ ،آیت نمبر 13)

کوئی پھٹکار ذلت رسوائی اور عذاب بلاو جہ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اپنی نافرمانیوں کوتاہیوں عہد شکنی اور بد عہدی کی وجہ سے ہوتا ہے بد اعمالی اور وعدہ خلافی سے دل سخت ہو جاتے ہیں عہد شکنی پر جو سزائیں آخرت میں ملنی ہیں وہ تو برحق ہیں لیکن مسلسل سرتابی اور عہد شکنی سے جو سزا دنیا میں ملتی ہے وہ کم اہم نہیں۔

عہد شکنی کرنے والے کا محروم ہونا :

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ (پارہ نمبر 3 ،سورۃ اٰل عمران، آیت نمبر 77)

اسلام نے ایفائے عہد پر بہت زیادہ زور دیا ہے ایفائے عہد سے معاشرے میں اعتماد محبت اور امن پیدا ہوتا ہے جبکہ وعدہ خلافی سے نفرت اور بد اعتمادی جنم لیتی ہے عہد کرنا اور توڑ دینا آج معاشرے کا ایک وطیرہ بن چکا ہے ہمیں ہر حال میں اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے اور عہد شکنی سے بچنا چاہیےتاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں۔


وعدہ خلافی کی تعریف: وعدہ کرتے وقت ہی نیت یہ ہو کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ نہیں کروں گا یہ وعدہ خلافی ہے۔

وعدہ خلافی کے متعلق احکام: وعدہ خلافی یعنی پورا نہ کرنے کی نیت سے وعدہ کرنا جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے جو کہ حرام کام ہے، اس نیت سے وعدہ کیا کہ اس کو پورا کروں گا ایسا وعدہ کرنا جائز ہے اور اس کو پورا کرنا مستحب ہے، جب وعدے کو کسی چیز کے حاصل ہونے یا حاصل نہ ہونے کے ساتھ معلق کیا گیا ہو تو جب وہ شرط پائی جائے گی وعدہ پورا کرنا لازم ہوگا، مثلا کسی سے کہا کہ یہ چیز فلاں شخص کو بیچ دو اگر اس نے قیمت ادا نہیں کی تو میں ادا کروں گا پھر خریدار نے قیمت ادا نہیں کی تو اب اس پر قیمت ادا کرنا لازم ہے۔(ظاہری گناہوں کی معلومات، ص 34)

اللہ پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (پ 15، بنی اسرائیل: 34)

(2) وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا ترجمہ کنزالایمان:اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔(سورۃالانعام 6آیت 152)

(3) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ترجمہ کنز الایمان :اور اللہ کا عہد پورا کرو۔(سورۃ النحل16 آیت 91 )

(4) اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ترجمہ کنز العرفان: تمام عہد پورے کیاکرو۔(سورۃ الماہدۃ ۵ آیت1)

اللہ عزوجل سے وعدہ خلافی کرنا منافقین کا طرز عمل ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پارہ 10، سورۃ التوبۃ: 77)

عہد شکنی کی مذمت پر مشتمل3اَحادیث ذکرکرتے ہیں :

(1)حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ذمہ دار ہوتا ہوں ۔ (۱)جب بات کرو سچ بولو۔ (۲) جب وعدہ کرو اسے پورا کرو۔ (۳) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے اسے ادا کرو ۔ (۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ (۵) اپنی نگاہیں نیچی رکھو ۔ (۶) اپنے ہاتھوں کو روکو۔‘‘(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبادۃ بن الصامت رضی اللّٰہ عنہ، ۸ / ۴۱۲، الحدیث: ۲۲۸۲۱) یعنی ہاتھ سے کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ ۔

(2) حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن عہد شکنی کرنے والے کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔‘‘(بخاری، کتاب الادب، باب ما یدعی الناس بآبائہم، ۴ / ۱۴۹، الحدیث: ۶۱۷۷)

(3) حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔(بخاری، کتاب الحیل، باب اذا غصب جاریۃ فزعم انّہا ماتت۔۔۔ الخ، ۴ / ۳۹۴، الحدیث: ۶۹۶۶)


اللہ عزوجل نے بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور انہیں دنیا میں بھیج کر کچھ اصول و ضوابط عطا فرمائے۔ ان اصولوں میں سے ایک انتہائی اہم اصول "وعدے کی پاسداری" ہے۔ ایمان اور بد عہدی کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں، کیونکہ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنے ہر وعدے اور معاہدے کو اللہ پاک کا حکم سمجھ کر پورا کرے۔ بد عہدی (وعدہ توڑنا) معاشرتی بگاڑ کا سب سے بڑا سبب ہے، جس کی وجہ سے باہمی اعتماد ختم ہو جاتا ہے اور معاشرے میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اسلام نے جہاں حقوق العباد پر زور دیا ہے، وہیں وعدہ خلافی کرنے والوں کے لیے سخت قرآنی وعیدیں بھی بیان کی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں بد عہدی کرنے والوں کی سخت مذمت فرمائی ہے اور وعدہ پورا کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے:وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (پارہ 15، سورۃ بنی اسرائیل، آیت 34)

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن ہر چھوٹے بڑے وعدے کا حساب لیا جائے گا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو!تمام عہد پورے کیا کرو۔ (پارہ 6، سورۃ المائدہ، آیت 1)

نبی کریم ﷺ نے اپنی احادیثِ مبارکہ میں بد عہدی کو منافقت کی علامت قرار دیا ہے، جو ایک مسلمان کے لیے انتہائی شرمندگی کا مقام ہے۔

"منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اس کے خلاف ورزی کرے اور جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔"(صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب علامات المنافق، حدیث 33، جلد 1، صفحہ 18)

ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے فرمایا:"جس میں چار خصلتیں ہوں، وہ خالص منافق ہے... اور جب وعدہ کرے تو دغا کرے۔"(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب بیان خصال المنافق، حدیث 106، جلد 1، صفحہ 78)

بد عہدی کرنے والا شخص معاشرے میں اپنی ساکھ اور عزت کھو دیتا ہے۔ سلف صالحین کا یہ معمول تھا کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتے تھے۔

بد عہدی انسان کے ایمان کو کھوکھلا کر دیتی ہے اور معاشرے میں بے اعتباری پیدا کرتی ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم وعدہ کرنے سے پہلے خوب سوچیں اور اگر کر لیں تو اسے نبھانے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دیں۔ اگر ہم اپنی آخرت سنوارنا چاہتے ہیں تو ہمیں بد عہدی سے توبہ کر کے عہد کی پاسداری کا عملی پیکر بننا ہوگا۔ اللہ پاک ہمیں وعدے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔