معاہدہ کرنے کے بعد اسکی خلاف ورزی کرنا غدر یعنی بدعہدی
کہلاتا ہے(جسے عام زبان میں وعدہ تو ڑنا کہتے ہیں)۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات صفحہ
170)
قرآن پاک میں کئی جگہ بدعہدی کرنے سے منع کیا بلکہ اس کے
عذابات سے ڈرایا گیا ہے۔
بدعہدی کرنے والا ملعون ہے:
وَ
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ
مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی
الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے ہونے
کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں فساد
پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔(سورۃالرعد:25)
تفسیر صراط
الجنان:وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ
عَهْدَ اللّٰهِ:اور وہ جو اللہ کا عہد توڑ دیتے ہیں ۔ اس سے پہلی آیات
میں اللہ تعالیٰ نے سعادتمندوں کے احوال اور جو کرامتیں اور
بھلائیاں ان کے لئے تیار فرمائی ہیں ان کا ذکر فرمایا، اس کے بعد اللہ
تعالیٰ بد بختوں کے احوال اور ان کے لئے جو سزائیں تیار فرمائی
ہیں ان کا ذکر فرما رہا ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ
پر ایمان لانے کا اعتراف کر کے اور ایمان لانے کا عہد قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے ا
س حکم کی مخالفت کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ نے جو صلہ رحمی کرنے اور رشتہ داری
جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں ،کفر اور گناہوں کا ارتکاب کر کے
زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت
سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہے۔ (خازن، الرعد، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۶۴-۶۵، ملخصاً)
بدعہدی کرنا اتنا برا ہے کہ الله تبارک وتعالی نے دو
مرتبہ بدعہدی کرنے سے منع فرمایا :
وَ
لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ
ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ
اللّٰهِۚ-وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(94)
ترجمۂ کنز
الایمان:اور اپنی قسمیں آپس میں بے اصل بہانہ نہ بنالو کہ کہیں کوئی پاؤں جمنے کے
بعد لغزش نہ کرے اور تمہیں برائی چکھنی ہو بدلہ اس کا کہ اللہ کی راہ سے روکتے تھے
اور تمہیں بڑا عذاب ہو۔ (سورۃالنحل:94)
تفسیر صراط
الجنان: وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا
اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ:اورتم اپنی قسموں کو اپنے
درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناؤ۔اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ
نے عہد اور قسمیں توڑنے سے منع فرمایا تھا ،اب یہاں دوبارہ ا س کام سے
تاکیداً منع فرمانے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ معاہدہ اور قسمیں پورا کرنے کا
معاملہ انتہائی اہم ہے کیونکہ عہد کی خلاف ورزی میں دین و دنیا کا نقصان ہے اور
عہد پورا کرنے میں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے۔ آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ تم اپنی
قسموں کو اپنے درمیان دھوکے اور فساد کا ذریعہ نہ بناؤورنہ تمہارے قدم اسلام کے
صحیح راستے پرثابت قدمی کے بعد پھسل جائیں گے اور تم خود عہد کی خلاف ورزی کرنے یا
دوسروں کو عہد پورا کرنے سے روکنے کی وجہ سے دنیا میں عذاب کا مزہ چکھو گے کیونکہ
تم عہد توڑ کر گناہ کا ایک طریقہ رائج کرنے کا ذریعہ بنے ہوگے اور تمہارے لئے آخرت
میں بہت بڑا عذاب ہوگا۔(جلالین مع صاوی، النحل، تحت الآیۃ: ۹۴، ۴ / ۱۰۹۰)
بعض مفسرین کے نزدیک ا س آیت میں بیعتِ اسلام کو توڑنے
سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ثابت قدمی کے بعد قدموں کے پھسل جانے کی وعید اسی کے
مناسب ہے۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۹۴،
۳ / ۱۴۱)
Dawateislami