تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت سید رضوان علی،پاکپورہ
سیالکوٹ
شریعت کی
اصطلاح میں ختمِ نبوت سے مراد یہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد قیامت تک نہ کوئی نیا نبی
آئے گا۔ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر مکمل ہو کر ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
حضور خاتم
النبیّٖن ﷺ کا آخری نبی ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر تمام صحابہ و
تابعین، تبع تابعین، سلف صالحین اور علمائے کاملین و مسلمین کا اجماع و اتفاق ہے۔
جو شخص نبی اکرم ﷺ کے خاتم النبیّٖن ہونے میں شک کرے یا اس کا انکار کرے اور آپ ﷺ
کے بعد کسی اور کو نبی مانے وہ کافر ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔
قرآن کریم میں
ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ
اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ
النَّبِیّٖنَؕ-
(پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں
میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔
نبی پاک ﷺ نے
ارشاد فرمایا: میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ (مسلم، ص 1006،
حدیث : 6218)
عقیدۂ
ختمِ نبوت کی اہمیت: عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے
بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ایسے بدبخت سامنے آگئے
تھے جنہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور حضور ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔مختلف
ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کی سرکوبی بھی کی جاتی
رہی یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخری سالوں میں قادیان (ضلع گورداسپور، ہند) کے
رہنے والے کذّاب مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نبی ہونے کا اعلان کیا، اپنی نبوت
ثابت کرنے کے لئے خاتم النّبيّٖن کے معنی و تشریح اپنی مرضی کے مطابق کئے اور اپنے
امتی نبی، ظلی نبی، بروزی نبی، مثیل مسیح، مسیح موعود اور رسول ہونے کے دعوے کئے۔
اعلیٰ
حضرت امام احمد رضا خان کا کردار: مجدد دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
خان رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات: 1921ء) نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ میں 1899ء میں
جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ، 1902ء میں السوء والعقاب علی المسیح الکذاب،
1905ء میں قہر الدیان علی مرتد بقادیان، 1908ء میں المبین ختم النبیین اور 1921ء
میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی تحریر فرما کر
قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں۔
مفتیان
کرام کا کردار: حضرت
علّامہ مفتی غلام رسول نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے 1893ء میں عربی رسالہ الہام
الصحیح فی اثبات حیات المسیح تحریر فرما کر مرزاقادیانی کے باطل عقائد کا دلائل کے
ساتھ رد فرمایا۔
حضرت علّامہ
قاضی فضل احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ نے 1896ء میں کتاب کلمہ فضل رحمانی بجواب
اوہام غلام قادیانی سمیت 4 کتابیں لکھ کر مرزا قادیانی کے باطل الہامات کا پردہ
چاک کیا۔
حجۃ
الاسلام حامد رضا خان کا کردار: حجۃ الاسلام حضرت علّامہ مفتی محمد
حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے 1898ء میں رسالہ الصارم الربانی علی اسراف
القادیانی لکھ کر مرزا قادیانی اور اس کے خلیفہ کے مکر و فریب کھول کر رکھ دئیے۔
مفتی
اعظم ہند مصطفےٰ رضا خان کا کردار: مفتی اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی محمد
مصطفےٰ رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے رسالہ تصحیح الیقین بر ختم النبیین لکھ کر خاتم
النبیین کے معنی و مفہوم میں تبدیلی کرنے والے مرزاقادیانی اور اس کے پیروکاروں کا
قلع قمع کیا۔
قرآن و حدیث
سے آقا جان ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ثابت ہے اور چونکہ یہ دلیل قطعی (قرآن پاک) سے
ثابت ہے تو اس میں ذرہ بھی شک کرنے والا مرتد اور کافر ہو کر دائرہ اسلام سے خارج
ہو جاتا ہے۔ علمائے کرام نے اس سلسلے میں قادیانیوں کا بہت ہی خوب ردّ کیا کہ گویا
قادیانی معاذاللہ حضور کو خاتم النبیین نہیں مانتے بلکہ مرزا غلام احمد قادیانی کو
نبی مانتے تھے۔
اللہ پاک ہمیں
قادیانیوں و بدمذہبوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین
Dawateislami