ادب
کی تعریف: ادب
ایک ایسے وصف کا نام ہے، جس کے ذریعے انسان اچھی باتوں کی پہچان حاصل کرتا یا اچھے
اخلاق اپناتا ہے۔ (آداب دین، ص 4)
ادب کو انسان
کے زیور سے تعبیر کیا جاتا ہے اگر تعلیم اور علم کی کمی رہ جائے تو اسے زندگی کے
کسی بھی موڑ پر پورا کیا جاسکتا ہے لیکن اگر تربیت اور ادب کی کمی رہ جائے تو اکثر
اوقات انسان پچھتاتا رہتا ہے۔
عزیزان محترم!
چونکہ اسلامی تعلیمات مکمل طور پر ادب ہی پر مبنی ہیں، اس لیے ادب ہی کی تعلیم
وتلقین کرتی ہیں، اس کارخانۂ قدرت میں جس جس کو جو جو نعمتیں ملیں ادب کی بنا
پرملی ہیں، اور جو ادب سے محروم ہے، حقیقتاً ایسا شخص بہت سی نعمتوں سے محروم رہ
جاتا ہے شاید اسی لیے کسی نے کہا ہے کہ با ادب با نصیب اور بے ادب بے نصیب!
جو لوگ اپنے
سے بڑی عمر کے لوگوں کا لحاظ نہیں کرتے، ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں، ان کے
آگے زبان درازی کرتے ہیں ایسوں کے لیے حدیث پاک میں فرمایا گیا: جوہمارے چھوٹے پر
رحم نہ کرے اور ہمارے بڑے کی عزّت نہ پہچانے وہ ہم میں سے نہیں۔ (ترمذی، 3/ 369،
حدیث:1927)
تفسیر روح
البیان میں ہے کہ پہلے زمانے میں جب کوئی نوجوان کسی بوڑھے آدمی کے آگے چلتا تھا
تو اللہ اسے اس کی بے ادبی کی وجہ سے زمین میں دھنسا دیتا تھا۔ (روح البیان، 5/56)
اسی طرح ایک
مرتبہ ایک شخص نے بارگاہ رسالت ﷺ میں عرض کی کہ میں فاقہ کا شکار رہتا ہوں تو آپ
نے فرمایا کہ تو کسی بوڑھے شخص کے آگے چلاہوگا۔ (روح البیان، 5/56)
محفوظ
خدا رکھنا سدا بے ادبوں سے اور مجھ سے
بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
معاشرتی
بگاڑ کی وجہ اسلامی تربیت کی کمی ہے: وہ دور بھی تھا کہ ہر مسلمان ایک دوسرے
کی عزّت و حرمت کا پاسدار، حسن اخلاق کا آئینہ دار، باادب و حیا دار اور سنّت
سرکارکی چلتی پھرتی یاد گار ہوا کرتاتھا۔ مگر افسوس کہ اب ایسا ماحول بہت کم
دیکھنے کو ملتا ہے۔ علم دین سے محرومی اور اچھی صحبت سے دوری کی بنا پر والدین
اولاد کی نہ اسلامی تربیت کررہے ہیں نہ بچّے ماں باپ کی خدمت کر رہے ہیں۔ ہماری بے
ادبیاں اوربد لحاظیاں ہیں کہ جنہوں نے ہماری گھریلو اور معاشرتی اقدار کوبرباد کر
کےرکھ دیا ہے۔
جس نے بڑے
بزرگوں کا ادب کیاان کی دل وجان سے عزت کی ان کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی
اس نے اپنی منزل پا لی وہ بامراد ہوا اور جس نے بڑے بزرگوں کی عزت نہ کی ان کا
خیال نہ رکھا ان کا احترام نہ کیاان کا کہا نہ مانا وہ اپنی منزل سے نہ صرف محروم
رہا بلکہ دوسرے بھی اس کی عزت و احترام نہ کریں گے۔ جس نے بڑے بزرگوں کا احترام نہ
کیا آنے والی نسلیں بھی اس کو عزت کی نگاہ سے نہ دیکھیں گی۔بڑے بزرگوں کا مطلب یہ
نہیں کہ صرف گھر کے افراد اوروالدین شامل ہیں۔اس میں ہروہ شخص شامل ہے جو علم و
عمر میں آپ سے بڑا ہو۔
بزرگوں کا ادب
انسان کو جنت میں پہنچا دیتا ہے، حضورﷺ نے فرمایا: اے انس بڑوں کا ادب و احترام
اور چھوٹوں پر شفقت کرو، تم جنت میں میری رفاقت پالو گے۔ (شعب الایمان، 7/458،
حدیث:10981)
اب وقت ہے
بزرگوں کی عزت و احترام کرنے کا،ان کی خدمت کرنے کا۔ ان سے خلوص و محبت و عزت سے
بات کرنے کا۔ ضرورت ہے ہمیں اپنے بزرگوں سے اونچی آواز میں بات نہ کرنے کی۔ ضرورت
ہے ہمیں اس بات کی کہ ہم بزرگوں کو اپنے گھر کا اپنے خاندان کا سرمایہ سمجھیں ان
کی عزت کریں ان کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچنے دیں ان سے جھڑک کر ان کو ذلیل کر کے بات
نہ کریں۔
Dawateislami