تحفظ
عقیدۂ ختمِ نبوت میں علمائے اہلسنت کا کردار از بنت سید جاوید اقبال،لطیف آباد
مسلمانوں کا
واضح اور مسلمہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہیں، آپ کے زمانے
میں یا آپ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔حضور خاتم النبیین ﷺ کا آخری
نبی ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس پر تمام صحابہ و تابعین، تبع تابعین، سلف
صالحین، علمائے کاملین و مسلمین کا اجماع و اتفاق ہے۔اگر کوئی حضور کو آخری نبی نہ
مانے یا آپ کے آخری نبی ہونے میں ذرہ برابر بھی شک کرے یا طرح طرح کے بہانے بناکر
حضور کے بعد کسی اور کو بھی نبی مانے تو وہ کافر و مرتد ہوکر دائرۂ اسلام سے نکل
جاتا ہے۔
عقیدہ
ختمِ نبوت کی اہمیت: عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے
بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ایسے بدبخت سامنے آگئے
تھے جنہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور حضور ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔مختلف
ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کی سرکوبی بھی کی جاتی
رہی یہاں تک کہ انیسویں صدی کے آخری سالوں میں قادیان کے رہنے والے کذّاب مرزا
غلام احمد قادیانی نے بھی نبی ہونے کا اعلان کیا، اپنی نبوت ثابت کرنے کے لئے خاتم
النّبيّٖن کے معنی و تشریح اپنی مرضی کے مطابق کئے اور اپنے امتی نبی، ظلی نبی، بروزی
نبی، مثیل مسیح، مسیح موعود اور رسول ہونے کے دعوے کئے۔
علمائے حق اہلِ
سنّت نے اس بدبخت کا تحریر و تقریر، درس و تدریس، نظم و نثر ہر انداز سے رد کیا
اور عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں اس کا کافر و مرتد اور بدترین جھوٹا ہونا ثابت
کیا۔
مرزا غلام
احمد قادیانی یہ وہ بدبخت تھا جس نے نبوت کا دعوی کیا کہ میں نبی ہوں۔ تو اس پر بے
شمار علمائے کرام نے اس کا عقلی و نقلی دونوں طرح سے انکار کیا۔جن میں سے چند درج
ذیل ہیں:
1۔ مرزا
قادیانی کے رد میں فتویٰ دینے والے اولین مناظر اسلام حضرت علّامہ مفتی غلام
دستگیر نقشبندی حنفی قصوری رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ آپ نے مرزا قادیانی کی کتاب براہین
احمدیہ کے رد پر میں تحقیقات دستگیریہ فی ردّ ہفوات براہینیہ، رجم الشّیاطین بردّ
اغلوطات البراھین لکھیں۔ مرزا قادیانی کے ایک اشتہار کے جواب میں فتح رحمانی بہ
دفع کید قادیانی لکھ کر مرزا قادیانی کے کفریات عوام و خواص کے سامنے بیان کئے اور
مرزا قادیانی کو اسلام سے خارج قرار دیا۔
2۔ مجدد دین و
ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ میں ”جزاء
اللہ عدوہ باباہ ختم النّبوۃ“، ”قہر الدّیّان علی مرتدٍّ بقادیان“، المبین ختم
النّبیّین“ اور اپنی زندگی کی آخری کتاب ”الجراز
الدیانی علی المرتد القادیانی“ تحریر فرما کر قادیانی فتنے کی جڑیں کاٹ کر رکھ دیں۔
اور ان تمام
چیزوں سے بڑھ کر ایک ایسی حسین نعتیہ کلام کی کتاب حدائق بخشش لکھی جس میں ایسے
ایسے شعر لکھ ڈالے عقیدے سے متعلق کہ لوگوں کو اس کو پڑھ کر سمجھ کر عقل دنگ رہ گئی۔جن
میں سے چند درج ذیل ہیں:
فتحِ
بابِ نبوّت پہ بے حد درود ختمِ
دورِ رسالت پہ لاکھوں سلام
بجھ
گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں شمع
وہ لے کر آیا ہمارا نبی
بزمِ
آخر کا شمع فروزاں ہوا نورِ
اوّل کا جلوہ ہمارا نبی
خلق
سے اولیا، اولیا سے رسل اور
رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی
3۔ حجۃ
الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے الصارم الربانی علی
اسراف القادیانی لکھ کر مرزا قادیانی اور اس کے خلیفہ کے مکر و فریب کھول کر رکھ
دئیے، یہ رسالہ فتاویٰ حامدیہ میں موجود ہے۔
ان کے علاوہ مفتی
اعظم ہند حضرت علّامہ مفتی محمد مصطفےٰ رضا خان، فاتحِ قادیانیت حضرت پیر سیّد مہر
علی شاہ گولڑوی، شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقی، حضرت علامہ قاضی فضل
احمد نقشبندی رحمۃ اللہ علیہم ان تمام علمائے کرام نے بہت ہی اچھے انداز سے
قادیانی فرقے کا رد فرمایا۔
اسی طرح بے
شمار علمائے کرام موجود ہیں جنہوں نے یہ بات ثابت کر دی کہ مرزا غلام قادیانی ایک
بد بخت کافر تھا جس نے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا۔
چندسالوں بعد
جب قادیانیوں نے پھر فساد پھیلانا شروع کیا تو 1974ء میں علمائے اہل سنّت نے پھر
تحفظ عقیدۂ ختمِ نبوت کی آواز اٹھائی، اس بار بھی کثیر علما و مشائخ نے قید و بند
کی تکالیف اٹھائیں، بالآخر قادیانیت کا مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا جس پر
علمائے اہل سنّت کی کئی مہینوں کی انتھک محنت، کثیر، پختہ اور ٹھوس دلائل اور سب
سے بڑھ کر عشق رسول کریم ﷺ کی بدولت قادیانیوں کے، فساد، جھوٹ اور اسلام قانونی
سطح پر بھی واضح ہوگئی، قومی اسمبلی میں متفقہ رائے سے عقیدۂ اسلام کو غلبہ ملا
اور آئین پاکستان میں قادیانیوں اور لاہوری گروپ کو کافر و مرتد قرار دیا گیا۔ نیز
قانون طے پا گیا کہ قادیانی نہ تو خود کو مسلمان کہلوا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی بھی
اسلامی علامت کا استعمال کرسکتے ہیں۔
اللہ کریم
ہمیں قادیانی فرقے سے دور رکھے، اور ہمیں تحفظ ختمِ نبوت میں حصہ لینے کی توفیق
عطا فرمائے۔
Dawateislami