اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو حسن اخلاق، ادب اور احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ والدین، اساتذہ اور دیگر بزرگ افراد کا احترام اسلامی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ بزرگ افراد اپنے تجربات اور دانائی کی وجہ سے معاشرے میں خاص مقام رکھتے ہیں، اس لیے انکی عزت کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔

اللہ پاک قرآن مجید میں والدین بارے میں ارشاد فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ 15، بنی اسرائیل:23) ترجمہ کنز العرفان: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اف تک نا کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت، نرم بات کہنا۔

اس آیت مبارکہ میں والدین کی عزت و تکریم کرنے ان کے ساتھ شفقت سے پیش آنے انکا احترام کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے اور انکی بے ادبی کرنے انکو جھڑکنے یہاں تک کہ انہیں اف تک کہنے سے منع فرمایا گیا ہے۔

البتہ ہمیں چاہیے کہ ہم والدین کے ساتھ ساتھ اپنے بڑوں بزرگوں اور بوڑھوں کا بھی ادب و احترام کریں ان سے نرمی سے پیش آئیں اور انکی بے ادبی کرنے سے بچیں۔

یاد رکھئے بزرگوں کی بے ادبی عظیم فضائل سے محرومی کا سبب بن سکتی ہے، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369، حدیث: 1926)

اس حدیث مبارکہ میں نبی کریم ﷺ نے بڑوں کا احترام نہ کرنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں یعنی وہ ہمارے طریقے پر نہیں۔

یہ حدیث ان سنگ دل لوگوں کے لیے سبب عبرت ہے جو بڑوں کا احترام نہیں کرتے اور انکی بے ادبی کرتے ہیں۔

بزرگوں کی بے ادبی نہ صرف اخلاقی برائی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔ اور اس کے دینی اور دنیاوی دونوں طرح کے نقصانات ہیں۔

والدین اور بزرگوں کی حق تلفی اللہ پاک کی نافرمانی میں شامل ہے۔ بزرگوں کی بے ادبی کرنے سے گھریلو جھگڑے، نفرت اور بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے، جو شخص اپنے بزرگوں کی عزت نہیں کرتا، لوگوں کے دلوں میں بھی اس کی محبت کم ہو جاتی ہے، اس کے برعکس بزرگوں کا احترام کرنا ایک اعلیٰ اخلاقی وصف ہے۔انکی خدمت کرنا انکا احترام کرنا جنت اور اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔

احادیث مبارکہ میں بڑوں کے احترام اور تعظیم کی بہت اہمیت بیان کی گئی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بوڑھے مسلمان کا احترام کرنا اللہ کی تعظیم میں سے ہے۔ (ابو داود، 4/344، حدیث: 4843)

اس حدیث مبارکہ سے بوڑھے مسلمان کے احترم کی اہمیت خوب واضح ہوتی ہے کہ اللہ پاک نے بوڑھے مسلمان کی تعظیم کو اپنی تعظیم قرار دیا ہے۔

اس کے علاوہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بڑوں کا ادب و احترام بجا لائیں جیسا کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کا مہکتا مہکتا مدنی انداز بھی یہی تھا کہ وہ خود پر بڑوں کو فوقیت دیتے اور انکے ادب و احترام کرتے تھے۔جیسا کہ

حضرت ابو سعیدسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے میں لڑکا (کم عمر) تھا اور میں آپ سے (سن کر) حدیثیں یاد کیا کرتا تھا، مجھے وہاں گفتگو کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوتی تھی سوائے اس بات کے کہ وہاں مجھ سے بڑی عمر کے لوگ موجود ہیں۔ (مسلم، ص 481، حدیث:964)

یہ حدیث مبارکہ بڑوں کی تعظیم اور ادب و احترام کے حوالے سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے انداز مبارک کی عکاسی کرتی ہے۔

نیز اس حدیث مبارکہ سے دو (2) اہم مدنی پھول ملاحظہ فرمائیے:

1)جب کسی مجلس میں چھوٹے اور بڑے دونوں موجود ہوں تو چھوٹوں کو چاہیے کہ بڑوں سے پہلے گفتگو میں پہل نہ کریں۔

(2) بڑوں سے گفتگو میں پہل کرنا خلاف ادب اور پہل نہ کرنا حسن ادب ہے۔

جو شخص اپنے بڑوں کا ادب کرتا ہے، وہ دراصل اپنی عزت اور اپنے مستقبل کی بنیاد مضبوط کرتا ہے اور جو بزرگوں کی بے ادبی کرتا ہے وہ معاشرتی اور روحانی برکتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والدین، اساتذہ اور دیگر بزرگوں کا ادب و احترام کریں، انکی خدمت کریں اور انکی نصیحتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ یہی کامیاب اور مہذب معاشرے کی علامت ہے۔

اللہ پاک ہمیں اپنے والدین بڑوں بزرگوں کا ادب و احترام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔