بزرگوں
کی بےادبی کی مذمت از بنت سرفراز نواز،فیضان عطار بھینس کالونی کراچی
اسلام ہمیں
بڑوں اور بزرگوں کا ادب و احترام کرنے کا درس دیتا ہے۔بزرگوں کا ادب صرف ایک اصول
ہی نہیں بلکہ اسلامی تعلیم ہے۔ اس ضمن میں حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجیے۔
چنانچہ حضور
نے ارشاد فرمایا: جو جوان کسی بوڑھے کا اس کے بڑھاپے کی وجہ سے احترام کرے تو اللہ
تعالیٰ اس جوان کے بڑھاپے میں ایسے لوگ مقرر فرما دیتا ہے جو اس کا احترام کرتے
ہیں۔
اسلام ایک
کامل و اکمل دین ہے جو ہمیں بزرگوں کی عزت کرنے کا درس دیتا ہے اور ان کی خدمت
کرنے کا درس دیتا ہے تو اگر ہم آج کسی کی خدمت کریں گے اور احترام کریں گے تو
ہمارے بڑے ہونے پر لوگ بھی ہماری عزت کریں گے۔ بڑوں میں سب سے پہلے ہمارے والدین
آتے ہیں، اگر ہمارے ماں باپ خوش اور راضی ہوں گے تو اللہ پاک بھی ہم سے خوش ہوگا
اور والدین ناراض ہوں گے تو اللہ خود ناراض ہوگا۔ ماں کا مقام اتنا بڑا ہے کہ اگر
ہم محبت اور پیار کی نظر سے ان کی طرف ایک بار دیکھیں گے تو اللہ پاک اس دیکھنے پر
مقبول حج کا ثواب عطا فرمائے گا۔
پیارے نبی ﷺ نے
فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، یعنی اگر ہم اپنی ماں کی خدمت کریں گے تو ہمیں
جنت ملے گی۔ 1
ایک اور روایت
میں ہے: وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی تعظیم
نہ کرے۔ 2
اس حدیث مبارکہ
سے بھی ہمیں بزرگوں کی اہمیت اور ان کے مقام کا معلوم ہوتا ہے۔ہمیں خود بھی اور
اپنے بچوں کو بھی بزرگوں کی بے ادبی اور ان کی نقلیں اتارنے، ان کا مذاق اڑانے سے
بچنا چاہیے۔ہم اس چیز کا خیال رکھیں کہ ہمیں کس کس کا ادب کرنا چاہیے، والدین کے
علاوہ ہمارے دادا، دادی، نانا، نانی، چاچا اور بڑے بہن بھائیوں کا احترام کرنا بھی
ضروری ہے پھر ہم ہر اس شخص کی عزت کریں جو عمر میں ہم سے بڑا ہو ہمیں تمام بوڑھے و
بزرگ کا ادب کرنا ہے ہمارے پیارے رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی حضرت انس سے فرمایا:اے
انس!بڑوں کا ادب و احترام کرو ان کی عزت کرو اور چھوٹوں سے شفقت کرو تو تم جنت میں
میرے ساتھ رہو گے۔ 3
ادب کرنے والا
دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتا ہے جبکہ بے ادبی کرنے والا دنیا و آخرت میں ذلت کا
شکار ہو کر لوگوں کے لیے نمونہ عبرت بن جاتا ہے بے ادبی انسان کو تباہی کے گہرے گڑھے
میں دھکیل دیتی ہے مشہور مقولہ ہے: با ادب با نصیب بے ادب بے نصیب۔
کفار کے
سرداروں نے ایک صحابی کی دعوت اسلام کے جواب میں اللہ پاک کی شان میں گستاخی کی تو
اس پر بجلی گری اور وہ شخص ہلاک ہو گیا۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ پاک کی بارگاہ میں
کوئی ایسا لفظ نہیں نکالنا چاہیے جو شان الوہیت میں بے ادبی قرار پائے۔بارگاہ
رسالت میں بے ادبی کی نحوست سے ابو لہب کا بیٹا عتبہ شیر کا لقمہ بنا پانچ دشمنان رسول
عاص بن وائل، اسود بن مطلب، اسود بن عبد یغوث، حارس بن قیس اور ولید بن مغیرہ بھی
بارگاہ نبوت میں گستاخیوں اور بے ادبیوں کے سبب ہلاکت کا شکار ہوئے پس معلوم ہوا
کہ بےادبی وہ شے ہے جو انسان سے اس کا قیمتی سرمایہ ایمان تک چھین لیتی ہے بزرگان
دین کی بے ادبی کرنے والا کبھی کامیاب نہیں ہو پاتا۔ 4
لہٰذا اس سے
معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کا ادب و احترام کرنا چاہیے۔ ہمارے بزرگ اپنے
تجربات اور نصیحتیں ہمیں بتاتے ہیں تاکہ ہم زندگی میں کامیاب ہو سکیں۔ اگر ہم ان
کی باتوں اور تجربات سے کچھ نہ سیکھیں تو ہمیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا
ہے۔ ہم ان کی نصیحتوں پر عمل کر کے کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم اپنے بزرگوں
کا احترام کریں گے تو کامیابی کی راہوں پر چلیں گے، لیکن اگر ہم ان کی بے ادبی
کریں گے تو کامیابی حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لیے ہمیں اچھے اخلاق اپنانے
چاہئیں اور اپنے والدین، اساتذہ اور دیگر بزرگوں کا ادب و احترام کرنا چاہیے تاکہ
ایک اچھا اور اسلامی معاشرہ قائم ہو سکے۔
حوالہ
جات:
1۔ نسائی، ص 504، حدیث: 3101
2۔ ترمذی،
3/369، حدیث: 1926
3۔ شعب
الایمان، 7/458، حدیث:10981
4۔آداب زندگی،
ص 139
Dawateislami