تحفظ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے، کیونکہ مسلمانوں کا ایمان ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ قرآن پاک میں ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

اور متعدد احادیث مبارکہ وارد ہیں کہ حضور ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس عقیدے کے تحفظ اور اس کی اشاعت میں علمائے اہل سنت نے ہر دور میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس عقیدے پر تمام صحابہ و تابعین، تبع تابعین، سلف صالحین، علمائے کاملین اور مسلمین کا اجماع و اتفاق ہے۔ علمائے کرام نے ہر دور میں اس عقیدے کی اشاعت کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اہل سنت کے علما نے ختمِ نبوت کے موضوع پر بے شمار کتابیں، رسائل اور مقالات تحریر کیے۔ ان تصانیف میں عقلی اور نقلی دلائل کے ذریعے منکرین ختمِ نبوت کے شبہات کا جواب دیا گیا۔ بر صغیر کے متعدد اکابر علمائے اہل سنت جن میں خصوصا امام احمد رضا خان، علامہ شاہ احمد نورانی، مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خان کا تذکرہ ملتا ہے۔

عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ حضور اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ ہی میں ایسے بدبخت سامنے آگئے تھے جنہوں نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا اور حضور ﷺ نے ان کے قتل کا حکم دیا۔ مختلف ادوار میں جھوٹے مدعیان نبوت کا یہ سلسلہ چلتا رہا اور ان کی سرکوبی بھی کی جاتی رہی ہے۔ علمائے اہل سنت نے دینی پروگراموں، کانفرنسوں اور جلسوں کے ذریعے عوام میں عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کا شعور پیدا کیا۔ اس کے علاوہ دینی مدارس اور مساجد میں بھی اس عقیدے کی تعلیم کو عام کیا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ علمائے اہل سنت نے عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے ہر دور میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے اپنی تصانیف، خطابات اور علمی کاوشوں کے ذریعے اس عقیدے کی حقانیت کو واضح کیا اور امت مسلمہ کو اس پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔ ان کی یہ خدمات رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔