بزرگ ہمارے اسلامی معاشرے کا اہم جزو ہیں،اسلام صرف ماں باپ تک کے ادب کو محدود نہیں کرتا بلکہ ہر سفید بال،ہے کھری،ہر کانپتا ہاتھ قابل احترام ہے کیونکہ بڑھاپا بزرگی کی نشانی ہے اور بزرگی کمزوری کی علامت ہے۔

اللہ پاک سورۃ الروم کی آیت 54 میں فرماتا ہے: اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةًؕ- ترجمہ: اللہ وہ جس نے تمہیں کمزوری سے پیدا کیا،پھر کمزوری کے بعد طاقت دی،پھر طاقت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا۔

یعنی اللہ نے ہمیں بچے کی صورت پیدا کیا جو کمزوری کی شدید ترین صورت ہے اور پھر ہمیں بڑا کر کے جوان بناتا ہے جو طاقت کی نشانی ہے اور اسکے بعد بڑھایا آجا تا ہے جو پھر سے کمزوری کی نشانی ہے۔

آج جو جوان ہیں وہ کل اسی کمزوری والے دور میں ہونگے،آج جو ہم بزرگوں کے ساتھ کریں گے وہی لوٹ کر کل آئے گا۔لہذا اپنا کل اچھا گزارنے کیلیے اپنا آج گزاریں،اور بزرگوں سے حسن سلوک سے پیش آ ئیں انکی بے ادبی نہ کریں انکی باتوں کو فضول نہ جانیں انکی باتوں کو بے توجہی سے نہ سنیں انکی رائے کو اہمیت دیں ان سے مشورہ مانگیں انکو بتائیں کے گھر اور خاندان کیلیے بزرگ کس قدر اہم ہیں انکے تجربات سے فایدہ اٹھائیں انہیں آج اور کل کے دور میں نہ سلجھائیں کہ آپکا وقت اور تھا ہمارا وقت اور ہے۔

ایک حدیث پاک میں فرمایا گیا ہے: اللہ کی تعظیم میں سے ہیکہ بوڑھے مسلمان کی عزت کی جائے۔ (ابو داود، 4/344، حدیث: 4843)

یہاں پہ مراد صرف والدین کی نہیں ہر ذی الشیبہ المسلم یعنی ہر سفید بال والا مسلمان مراد ہے۔انکو سلام میں پہل کی جائے، گھر میں ہیں تو انکی ضروریات جیسے وقت پہ کھانا پانی،دوا،چشمہ،لاٹھی اور انکی تنہائی کا خیال رکھا جائے،بس میں سیٹ دی جائے،راستہ دیا جائے، سامان اٹھا لیا جائے وغیرہ یہ سب اللہ کی تعظیم میں سے ہے۔

ایک اور حدیث میں ہیکہ ایک بار آپ ﷺ کے پاس دودھ کا پیالہ آیا آپ نے پیا آپکی دائیں طرف ایک کمزور لڑکا بیٹھا تھا اور بائیں طرف بوڑھے صحابہ،آپ ﷺ نے لڑکے سے اجازت چاہی،کیا تم اجازت دیتے ہوکہ میں یہ بڑوں کو دے دوں؟ لڑکے نے انکار کیا تو آپ نے اسی کو دے دیا کیونکہ دائیں والے کا حق تھا،یعنی اصول دائیں جانب والا تھا مگر آپ ﷺ نے بزرگوں کا ذکر کر کے امت کو سکھایا کہ دل میں بڑوں کا مقام ہونا چاہیے اگر لڑکا اجازت دے دیتا تو آپ ﷺ پہلے بزرگوں کو دیتے۔

ہمیں بھی چاہیے کہ جب درمیان میں بزرگ بیٹھے ہوں تو انکی طرف سے چائے پانی کی ابتدا کرنی چاہیئے، مزید یہ کہ کچھ بزرگ اونچا سنتے ہیں تو اتنی آواز میں بات کی جائے کہ وہ سن لیں، بزرگوں کی جانب پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھیں۔

قرآن پاک میں اللہ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-(پ 28، المجادلۃ:11) ترجمہ: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کردو،اللہ تمھارے لیے کشادگی کرےگا۔

یہ آیت بدری صحابہ اور بزرگ صحابہ کیلیے جگہ بنانے کے بارے میں نازل ہوئی،آج ہم مسجد میں،بس میں،دفتر میں بوڑھوں کو کھڑا دیکھ کر بھی انکی لیے جگہ نہیں بناتے۔

ایک اور حدیث پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے: عبد الرحمن بن سہل اور محیصہ بات کرنے لگے،محیصہ چھوٹا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا: بڑے کو آگے کرو،بڑے کو آگے کرو۔ (ابن ماجہ، 3/291، حدیث: 2677)

یعنی کہ کوئی مجلس ہو،پنچایت ہو،جرگہ،آفس میٹنگ بات ہمیشہ عمر میں بڑا شروع کرے،یہ اسلام کا پروٹوکول ہے۔

بزرگوں میں صرف خاندان کے بزرگ ہی شامل نہیں ہوتے، بزرگوں میں ہمارے استاد،ہمسایہ،رشتہ دار بزرگ،عالم حضرات اور پیرو مرشد بھی شامل ہیں دیگر بزرگوں کی بے ادبی سے کس طرح بچنا چاہیے اسی طرح استاد کی بے ادبی سے بھی بچنا چاہیے اور انکو ادب میں سر فہرست رکھنا چاہیے کیونکہ استاد ہمیں علم دین سے آراستہ کرتے ہیں جینے کے ڈھنگ اور معاشرے میں رہن سہن کے طریقہ بتاتے ہیں۔

چنانچہ حضرت امام ابو حنیفہ اپنے استاد حماد کے بیٹے کو دیکھتے تو سواری سے اتر جاتے،فرماتے کہ اس کے باپ کے احسان کا بدلہ ہے، اس طرح بوڑھا ہمسایہ تو دوہرا حق رکھتا ہے ایک ہمسائیگی اور دوسرا بڑھاپا۔

ایک اور حدیث پاک میں ہے: صلہ رحمی کرو چاہے سلام ہی سے ہو۔ (شعب الایمان، 6/226، حدیث:7972) جیساکہ دادا دادی، نانا نانی، چچا،ماموں،،خالہ پھوپھی وغیرہ بوڑھے ہو جائیں تو انکے گھر جائیں حال احوال لیں اور انکے گھر خالی ہاتھ نہ جائیں۔

بزرگوں کی بے ادبی کی وجہ سے برکت اٹھ جاتی ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے: برکت تمہارے بڑوں کے ساتھ ہے۔ (مستدرک، 1/238، حدیث:218) یعنی کہ جس قوم، جس ادارے،جس گھر سے بڑوں کو نکال دوگے تو وہاں سے برکت بھی نکل جائے گی آج کل غیر مسلموں کی دیکھا دیکھی گھر کے بزرگوں کو اولڈ ہوم بھیج دیتے ہیں کمپنیاں بھی اولڈ سٹاف کو نکال کے ینگ بلڈ لاتی ہیں پھر روتی ہے کہ نقصان ہو گیا تجربہ نہیں رہا۔

چنانچہ بزرگ جہاں کہیں بھی ہوں شجر سایہ دار ہوتے ہیں انکے پتے جھڑ جائیں،تنا سوکھ بھی جائے پھر بھی انکی جڑیں زمین کو پکڑ رکھتی ہیں،یہی بزرگ ایک خاندان کو دوسرے خاندان سے جوڑے رکھتے ہیں،ان کی بےادبی و نا فرمانی کا نتیجہ دنیا میں ہی رزق کی تنگی،گھر میں لڑائی اور اپنی اولاد کی نا فرمانی کی صورت میں مل جاتا ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے ہمیں بزرگوں کی بے ادبی و نافرمانی سے بچائے۔