ختمِ نبوت کا مطلب ہے کہ نبوت کا سلسلہ اللہ پاک نے اپنے محبوب نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ختم فرما دیا ہے آپ کے بعد اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَؕ- (پ 22، الاحزاب: 40) ترجمہ کنز الایمان: محمد تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہاں اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں کے پچھلے۔

پیارے آقا ﷺ کو جو خاتم النبیین نہ مانے یا اس میں شک کرے یا کسی طرح کے بہانے بنا کر کسی اور کے نبی ہونے کو مانے تو وہ شخص کافر و مرتد ہے(دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے)۔

پیارے آقا ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں پہلے ہی فرمادیا تھا کہ اس امت میں نبوت کے جھوٹے دعویدار ہوں گے۔

یہ ظاہر ہو کر رہا اور آقا ﷺ کی ظاہری حیات طیبہ میں بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والا ظاہر ہوا پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی مسیلمہ کذاب نبوت کے جھوٹے دعویدار سے جنگ ہوئی۔

انیسویں صدی کے آخری سالوں میں مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی ہونے کا جھوٹا دعویٰ کردیا اپنی نبوت ثابت کرنے کے لیے اس نے تشریعی ظلی بروزی نبی،مسیح موعود اور رسول ہونے کے دعوے کیے۔

علمائے اہلِ سنت نے اس بدبخت کے رد میں تقریر و تحریر،اور درس و تدریس کے ذریعے عقلی و نقلی دلائل دے کر اس کا کافر و مرتد ہونا ثابت کیا۔

1۔ ان علماء کرام میں سب سے پہلے فتویٰ دینے والے مناظر اسلام حضرت علامہ مفتی غلام دستگیر نقشبندی حنفی قصوری ہیں انہوں نے مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کے رد پر 1883 میں تحقیقات دستگیریہ فی رد ھفوات براہین تحریر کی اور اسکے علاؤہ بھی کتب اور اشتہارات میں اسکے جوابات دے کر اسے اسلام سے خارج قرار دیا۔

2۔ اسی طرح امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے 1899 میں جزاء اللہ عدوہ باباہ ختم النبوۃ، 1902 میں السوء و العقاب علی المسیح الکذاب لکھی۔ 1908میں المبین ختم النبیین اور 1921 میں اپنی زندگی کی آخری کتاب الجراز الدیانی علی المرتد القادیانی تحریر فرما کر اس فتنے کا قلعہ قمع فرمایا۔

3۔ مفتی اعظم ہند حضرت علامہ مفتی محمد مصطفی رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے رسالہ تصحیح یقین برختم النبیین لکھ کر خاتم النبیین کے معنی و مفہوم میں تبدیلی کرنے والے مرزا قادیانی اور اسکے پیرو کاروں کے فتنے کی جڑیں کاٹیں۔ اسکے علاوہ بھی دیگر علمائے حق نے اس کے لیے بہت سی کوششیں کیں اور کئی کتب، رسائل اور فتاویٰ کے ذریعے قادیانیت کا جواب دیا اور اسکے باطل نظریے کا رد کیا جیسے حضرت علامہ مفتی غلام رسول نقشبندی،حضرت علامہ مفتی محمد حامد رضا خان، شیخ الاسلام مولانا محمد انوار اللہ فاروقی، حضرت علامہ شاہ عبد العلیم صدیقی میرٹھی و دیگر علمائے کرام جن کا ذکر کتاب عقیدہ ختمِ نبوت میں موجود ہے وہاں اس کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

4۔ فاتح قادیانیت حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی مرزا کی فارسی کی کتاب ایام الصلح کے جواب میں 1899 میں ہدایہ الرسول فارسی میں لکھی اسی طرح مختلف کتب لکھیں ان میں سے ایک سیف چشتیائی بھی ہے۔

5۔ شاہین عقیدہ ختمِ نبوت حضرت مفتی محمد امین قادری انہوں نے تقریباً سوا صدی کے علمائے کرام کی تحریرات کو جمع کیا اور انکی از سرنو ترتیب وتدوین کی اس کا نام عقیدہ ختم نبوت رکھا آپکی حیات میں اس کی 6 جلدیں شائع ہوئیں اب تک 16 جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں۔

پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد قادیانیت نے خوب زور کیا تو اہل سنت کے علمائے کرام نے 1953 میں حضرت علامہ ابو الحسنات سید محمد احمد قادری کی قیادت میں عقیدہ تحفظ ختمِ نبوت کا پرچم بلند کیا پھر 1974 میں بھی اس سلسلے میں علمائے اہل سنت کو سزائیں بھی ہوئیں اور ہزاروں شہید بھی ہوئے۔

بالآخر یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں پیش ہوا تو علمائے اہل سنت کے ٹھوس عقلی و نقلی دلائل اور عشق رسول ﷺ کے سچے جذبہ کی بدولت قادیانیوں کو غیر مسلم مرتد و کافر قرار دے دیا گیا۔ نیز یہ قرار پایا کہ نہ یہ خود کو مسلمان کہلا سکتے ہیں نہ ہی کوئی اسلامی علامت استعمال کر سکتے ہیں۔ اسی کی یاد میں الحمدللہ ہر سال 6 ستمبر کو یوم تحفظ عقیدہ ختمِ نبوت ﷺکے سلسلے میں منایا جاتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں قادیانی اور دیگر بد مذہبوں کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور اپنے محبوب ﷺ کے دامنِ کرم سے ہمیشہ وابستہ رکھے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ