انسانی معاشرے کی بنیاد باہمی اعتماد اور بھروسے پر قائم ہے اور اس اعتماد کی روح "عہد و پیمان" کی پاسداری میں پوشیدہ ہے۔ جب انسان ایک دوسرے سے کیے گئے وعدوں کو اہمیت دینا چھوڑ دیتا ہے، تو معاشرے کا شیرازہ بکھر جاتا ہے اور عدل و انصاف کی جگہ بے یقینی اور فتنہ و فساد لے لیتے ہیں۔ اسلام جو کہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، اس معاملے میں نہایت حساس ہے۔ قرآن کریم کی روشنی میں بدعہدی محض ایک اخلاقی عیب نہیں بلکہ ایک سنگین روحانی جرم ہے جو انسان کو اللہ کے غضب اور لعنت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ ایفائے عہد کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے، جبکہ وعدہ خلافی کو منافقت قرار دیا گیا ہے۔

قساوتِ قلبی یعنی دل کا سخت ہو جانا وہ بدترین سزا ہے جس کے بعد انسان ہدایت کی تڑپ سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ بدعہدی کے انجام کو واضح کرتی ہے:

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚترجمہ کنز الایمان:تو ان کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیے۔(سورۃ المائدہ، آیت: 13)

ایک اور مقام پر اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہیں جو دنیاوی مفادات کی خاطر اپنے عہد کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں نہ کوئی حصہ ہے اور نہ ہی اللہ کی رحمت حاصل ہوگی۔ ارشادِ ربانی ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ (سورۃ اٰل عمران، آیت: 77)

بدعہدی کا ایک ہولناک پہلو یہ ہے کہ اسے زمین پر فساد پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن کے مطابق جو لوگ اللہ کے عہد کو مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں اور ان تعلقات کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، وہی لوگ درحقیقت خسارہ پانے والے ہیں۔ یہ خسارہ صرف دنیاوی نہیں بلکہ ابدی ہے۔ وعدہ خلافی کرنے والے کی مثال اس عورت کی سی دی گئی ہے جو خود ہی محنت سے سوت کاتنے کے بعد اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یعنی بدعہدی انسان کی تمام تر نیکیوں اور ساکھ کو برباد کر دیتی ہے۔ قیامت کے دن بدعہدی کرنے والے کی رسوائی کے لیے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا جس سے اس کی بے وفائی کا چرچا سرِ عام ہوگا۔ پس قرآنی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ عہد کی پاسداری اللہ کی محبت اور جنت کے حصول کا راستہ ہے، جبکہ بدعہدی ذلت، لعنت اور دائمی ناکامی کا پیش خیمہ ہے۔

اسلام میں عہد کی وفاداری کو دین کا لازمی جزو قرار دیا گیا ہے اور بدعہدی کو ایک مہلک گناہ اور منافقت کی علامت ٹھہرایا گیا ہے۔ قرآن کی رو سے وعدہ خلافی کرنے والا نہ صرف انسانی اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے بلکہ اللہ کی رحمت سے محروم اور سخت ترین اخروی سزا کا حقدار بن جاتا ہے، اس لیے ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے قول و قرار کی لاج رکھے۔