عہد وہ وعدہ ہے جو انسان اللہ تبارک و تعالی اور بندوں سے کرتا ہے اور اسے پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بندوں سے کیے گئے وعدوں کا پورا کرنا درحقیقت عہد الہی کا پورا کرنا ہے ۔وعدہ خلافی انسانیت سے گری ہوئی بات ہے لہذا وعدے کی خلاف ورزی کرنا اسلام میں سخت ناپسندیدہ ہے اور عہد شکنی کرنے والا ہر عقلمند کے نزدیک ناپسندیدہ کہلاتا ہے عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتماد ہوتا ہے ۔

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ لَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَۙ(۲۰)

ترجمہ کنز الایمان: وہ جو اللہ کا عہد پورا کرتے ہیں اور قول باندھ کر(وعدہ کر کے) پھرتے نہیں۔ (سورۃ الرعد آیت نمبر 20)

یعنی آخرت کا اچھا انجام انہیں  کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا عہد پورا کرتے ہیں  کہ اس کی ربوبیت کی گواہی دیتے ہیں  اور اس کا حکم مانتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد اور ان معاہدوں  کو توڑتے نہیں  جو انہوں  نے لوگوں  کے ساتھ کئے ہوتے ہیں ۔

عہد شکنی کرنے والے پر اللہ کی لعنت :

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پارہ نمبر 6 ، سورۃ المائدہ ،آیت نمبر 13)

کوئی پھٹکار ذلت رسوائی اور عذاب بلاو جہ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اپنی نافرمانیوں کوتاہیوں عہد شکنی اور بد عہدی کی وجہ سے ہوتا ہے بد اعمالی اور وعدہ خلافی سے دل سخت ہو جاتے ہیں عہد شکنی پر جو سزائیں آخرت میں ملنی ہیں وہ تو برحق ہیں لیکن مسلسل سرتابی اور عہد شکنی سے جو سزا دنیا میں ملتی ہے وہ کم اہم نہیں۔

عہد شکنی کرنے والے کا محروم ہونا :

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)

ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔ (پارہ نمبر 3 ،سورۃ اٰل عمران، آیت نمبر 77)

اسلام نے ایفائے عہد پر بہت زیادہ زور دیا ہے ایفائے عہد سے معاشرے میں اعتماد محبت اور امن پیدا ہوتا ہے جبکہ وعدہ خلافی سے نفرت اور بد اعتمادی جنم لیتی ہے عہد کرنا اور توڑ دینا آج معاشرے کا ایک وطیرہ بن چکا ہے ہمیں ہر حال میں اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے اور عہد شکنی سے بچنا چاہیےتاکہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندوں میں شامل ہو سکیں۔