اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو نہ صرف عبادات بلکہ اخلاقیات اور معاملات میں بھی بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہی اخلاقی اصولوں میں ایک نہایت اہم اصول وعدہ پورا کرنا ہے۔ قرآنِ مجید میں بار بار اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان اپنے کیے ہوئے وعدوں کو پورا کرے، کیونکہ وعدہ ایک ذمہ داری اور امانت ہے جس کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی۔

بد عہدی یعنی وعدہ خلافی کو قرآنِ کریم نے سخت ناپسند کیا ہے اور اسے ایمان کے منافی صفات میں شمار کیا ہے۔ جو لوگ اپنے وعدوں کو توڑتے ہیں، وہ نہ صرف دنیا میں اعتماد کھو دیتے ہیں بلکہ آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سامنا کرتے ہیں۔ قرآن میں ایسے لوگوں کے لیے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں تاکہ معاشرہ سچائی، دیانت اور وفاداری جیسے اعلیٰ اوصاف سے مزین ہو۔لہٰذا بد عہدی کے موضوع کو سمجھنا اور اس سے بچنا ہر مسلمان کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہ عمل نہ صرف انفرادی کردار کو متاثر کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد اور نظام کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔

معاہدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرناغدر یعنی بدعہدی کہلاتاہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۰)

اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ(۵۵)اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ(۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: ’’بیشک سب جانوروں میں بد تر اللہ کے نزدیک وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور ایمان نہیں لاتے ، وہ جن سے تم نے معاہدہ کیا تھا پھر ہر بار اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔‘‘(پ۹، الانفال: ۵۵، ۵۶)

‎‎صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :’’ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ اور اس کے بعد کی آیتیں بنی قُریظہ کے یہودیوں کے حق میں نازِل ہوئیں جن کا رسولِ کریم ﷺسے عہد تھا کہ وہ آپ سے نہ لڑیں گے ، نہ آپ کے دشمنوں کی مدد کریں گے ، انہوں نے عہد توڑا اور مشرکینِ مکّہ نے جب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جنگ کی تو انھوں نے ہتھیاروں سے ان کی مدد کی پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے معذرت کی کہ ہم بھول گئے تھے اور ہم سے قصور ہوا پھر دوبارہ عہد کیا اور اس کو بھی توڑا ۔ اللہ تعالی نے انہیں سب جانوروں سے بدتر بتایا کیونکہ کُفّار سب جانوروں سے بدتر ہیں اور باوجود کُفر کے عہد شکن بھی ہوں تو اور بھی خراب۔‘‘

اور ’’ڈرتے نہیں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’خدا سے نہ عہد شکنی کے خراب نتیجے سے اور نہ اس سے شرماتے ہیں باوجود یہ کہ عہد شکنی ہر عاقل کے نزدیک شرمناک جرم ہے اور عہد شکنی کرنے والا سب کے نزدیک بے اعتبار ہوجاتا ہے ۔ جب اس کی بے غیرتی اس درجہ پہنچ گئی تو یقیناً وہ جانوروں سے بدتر ہیں۔‘‘ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ۱۷۰،۱۷۱)

‎‎جن لوگوں نے پختہ عہد کرنے کے بعد اسے توڑ دیا، اللہ نے ان پر اپنی لعنت کا ذکر فرمایا ہے۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-ترجمہ کنز الایمان: تو ان کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے انہیں لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔(سورۃ المائدۃ، آیت: 13)

‎‎جو لوگ دنیاوی فائدے کے لیے اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو توڑ دیتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی مقام نہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ

ترجمہ کنز الایمان: ترجمۂ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ حصہ نہیں ۔ (سورۃ اٰل عمران، آیت: 77)

‎‎اللہ تعالیٰ نے بار بار عہد توڑنے والوں کو بدترین جانداروں میں شمار کیا ہے۔

‎‎وعدہ خلافی اور بد عہدی انسان کے دل میں منافقت پیدا کر دیتی ہے جو موت تک باقی رہ سکتی ہے۔

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ

ترجمہ کنز الایمان: تو اس کے پیچھے اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ جھوٹا کیا ۔(سورۃ التوبہ، آیت: 77)

‎‎عہد کے بارے میں بازپرس کا ہونا یقینی ہے۔

وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل، آیت: 34)