وعدہ خلافی کی تعریف: وعدہ کرتے وقت ہی نیت یہ ہو کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ نہیں کروں گا یہ وعدہ خلافی ہے۔

وعدہ خلافی کے متعلق احکام: وعدہ خلافی یعنی پورا نہ کرنے کی نیت سے وعدہ کرنا جان بوجھ کر جھوٹ بولنا ہے جو کہ حرام کام ہے، اس نیت سے وعدہ کیا کہ اس کو پورا کروں گا ایسا وعدہ کرنا جائز ہے اور اس کو پورا کرنا مستحب ہے، جب وعدے کو کسی چیز کے حاصل ہونے یا حاصل نہ ہونے کے ساتھ معلق کیا گیا ہو تو جب وہ شرط پائی جائے گی وعدہ پورا کرنا لازم ہوگا، مثلا کسی سے کہا کہ یہ چیز فلاں شخص کو بیچ دو اگر اس نے قیمت ادا نہیں کی تو میں ادا کروں گا پھر خریدار نے قیمت ادا نہیں کی تو اب اس پر قیمت ادا کرنا لازم ہے۔(ظاہری گناہوں کی معلومات، ص 34)

اللہ پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بے شک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (پ 15، بنی اسرائیل: 34)

(2) وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا ترجمہ کنزالایمان:اور اللہ ہی کا عہد پورا کرو۔(سورۃالانعام 6آیت 152)

(3) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ترجمہ کنز الایمان :اور اللہ کا عہد پورا کرو۔(سورۃ النحل16 آیت 91 )

(4) اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ترجمہ کنز العرفان: تمام عہد پورے کیاکرو۔(سورۃ الماہدۃ ۵ آیت1)

اللہ عزوجل سے وعدہ خلافی کرنا منافقین کا طرز عمل ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے:

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پارہ 10، سورۃ التوبۃ: 77)

عہد شکنی کی مذمت پر مشتمل3اَحادیث ذکرکرتے ہیں :

(1)حضرت عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: تم میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ذمہ دار ہوتا ہوں ۔ (۱)جب بات کرو سچ بولو۔ (۲) جب وعدہ کرو اسے پورا کرو۔ (۳) جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے اسے ادا کرو ۔ (۴)اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو۔ (۵) اپنی نگاہیں نیچی رکھو ۔ (۶) اپنے ہاتھوں کو روکو۔‘‘(مسند امام احمد، مسند الانصار، حدیث عبادۃ بن الصامت رضی اللّٰہ عنہ، ۸ / ۴۱۲، الحدیث: ۲۲۸۲۱) یعنی ہاتھ سے کسی کو ایذا نہ پہنچاؤ ۔

(2) حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن عہد شکنی کرنے والے کے لئے ایک جھنڈا بلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے۔‘‘(بخاری، کتاب الادب، باب ما یدعی الناس بآبائہم، ۴ / ۱۴۹، الحدیث: ۶۱۷۷)

(3) حضرت عبداللہ بن عمررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا :قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لئے ایک جھنڈا ہو گا جس کے ذریعے وہ پہچانا جائے گا۔(بخاری، کتاب الحیل، باب اذا غصب جاریۃ فزعم انّہا ماتت۔۔۔ الخ، ۴ / ۳۹۴، الحدیث: ۶۹۶۶)