ابو
صَفی محمد علی(درجہ سابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
بد عہدی وہ سنگین اخلاقی جرم ہے جو انسان کے کردار کو
کھوکھلا اور معاشرے کے اعتماد کو تباہ کر دیتا ہے۔ اسلام نے عہد و پیمان کو نہایت
مقدس حیثیت دی ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے معاملات میں استحکام اور تعلقات میں مضبوطی
پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص وعدہ کر کے توڑ دیتا ہے وہ نہ صرف لوگوں کی نظر میں گرتا ہے
بلکہ اللہ کی بارگاہ میں بھی سخت مواخذے کا مستحق بنتا ہے۔ قرآنِ کریم نے بد عہدی
کی مذمت ایسے انداز میں فرمائی ہے کہ دل لرز اٹھتا ہے اور انسان اپنے ہر قول و
قرار پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
عہد کی پاسداری کا حکم اور بد عہدی کی وعید:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ
مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃ بنی اسرائیل: 34)
اس آیت میں صاف
طور پر بیان کیا گیا کہ ہر عہد کے بارے میں قیامت کے دن باز پرس ہوگی، لہٰذا بد
عہدی محض دنیاوی نقصان نہیں بلکہ اخروی پکڑ کا سبب ہے۔
اللہ کے عہد کو توڑنے والوں کا انجام:
الَّذِیْنَ
یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ
اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ
هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں
اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی
نقصان میں ہیں ۔ (پ1، البقرۃ: 27)
اس آیت میں بد
عہدی کو فساد اور خسارے کے ساتھ جوڑ کر اس کے برے انجام کو واضح کیا گیا ہے۔
بد عہدی اور لعنتِ الٰہی:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: فَبِمَا نَقْضِهِمْ
مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ ترجمۂ کنزالایمان: تو ان
کی کیسی بدعہدیوں کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی ۔ (سورۃ النساء: 155)
یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عہد شکنی اللہ کی
رحمت سے دوری اور اس کی لعنت کا باعث بنتی ہے، جو کسی بھی مومن کے لیے نہایت
خوفناک انجام ہے۔
وعدہ بیچنے والوں کے لیے سخت وعید:
اِنَّ
الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا
اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ
لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ۪-وَ لَهُمْ
عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۷۷)
ترجمۂ کنزالایمان:
وہ جو اللہ کے عہد اوراپنی قسموں کے بدلے ذلیل دام لیتے ہیں آخرت میں ان کا کچھ
حصہ نہیں اور اللہ نہ ان سے بات کرے نہ ان کی طرف نظر فرمائے قیامت کے دن اور نہ
انہیں پاک کرے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔(پ3،اٰل عمران:77)
اس آیت میں بد عہدی کے نتیجے میں محرومی، بے توجہی اور
عذاب کی وعید انتہائی شدت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔
Dawateislami