اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو سچائی، دیانت
اور وعدہ نبھانے کی تعلیم دیتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان دار کی شان اور اللہ پاک
کے نیک بندوں کی پہچان ہے جبکہ وعدہ خلافی اور بد عہدی منافقانہ اوصاف میں شمار ہوتی
ہے۔ قرآنِ کریم نے بارہا وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا اور بد عہدی کرنے والوں کے لئے
سخت وعیدیں بیان فرمائی ہیں۔ بد عہدی معاشرے میں بداعتمادی، فساد اور نفرت کو جنم
دیتی ہے۔ اسی لئے اسلام نے اس برائی سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
قرآنِ کریم میں ایفائے عہد:اللہ
تعالیٰ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (پارہ 15، بنی اسرائیل، آیت 34)
اس آیتِ کریمہ میں واضح طور پر حکم دیا گیا ہے کہ وعدہ
پورا کیا جائے کیونکہ قیامت کے دن ہر وعدے کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس سے معلوم
ہوا کہ بد عہدی معمولی بات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کا سبب بننے
والا عمل ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ
ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنے قول(عہد) پورے
کرو۔ (پارہ 6، المائدہ، آیت 1)
اس آیت میں ایمان والوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے تمام
وعدوں اور معاہدوں کو پورا کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ وعدہ پورا کرنا مومن کی
بنیادی صفت ہے۔
بد عہدی کرنے والوں پر وعید:قرآنِ
کریم میں بد عہدی کرنے والوں کے بارے میں سخت حکم نازل ہوا۔ ارشادِ باری تعالیٰ
ہے:
الَّذِیْنَ
یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ
اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ
هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے
ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی
نقصان میں ہیں ۔ (پارہ 1، البقرہ، آیت 27)
یہ آیت اس بات کو واضح کرتی ہے کہ عہد توڑنے والے لوگ
دراصل دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑنے والے ہیں۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:
وَ
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ
مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ
لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ کنز الایمان: اور وہ جو اللہ کا عہد اس کے پکے
ہونے کے بعد توڑتے اور جس کے جوڑنے کو اللہ نے فرمایا اسے قطع کرتے اور زمین میں
فساد پھیلاتے ہیں ان کا حصہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر۔ (پارہ 13، الرعد،
آیت 25)
اس آیت میں بد عہد لوگوں کے لئے اللہ کی لعنت اور آخرت
میں برے انجام کی وعید سنائی گئی ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں بد عہدی کی مذمت:نبی
کریم ﷺ نے بھی وعدہ خلافی کو منافق کی علامت قرار دیا ہے۔ چنانچہ
حدیث شریف میں ہے:
قال رسول الله ﷺ: آيَةُ الْمُنَافِقِ
ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب
وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے۔(بخاری، کتاب الایمان)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ وعدہ خلافی ایک ایسا عیب ہے جو
انسان کو منافقوں کے اوصاف کے قریب کر دیتا ہے۔قرآن و حدیث کی تعلیمات سے معلوم
ہوتا ہے کہ وعدہ پورا کرنا ایمان دار کی شان اور اسلامی اخلاق کا اہم حصہ ہے جبکہ
بد عہدی سخت گناہ اور اللہ کی ناراضی کا سبب ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے وعدوں،
معاہدوں اور ذمہ داریوں کو پورا کریں تاکہ دنیا میں اعتماد قائم ہو اور آخرت میں
کامیابی نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچائی اور وعدہ نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami