ابو
برہان عبدالرحمن عطاری (درجہ رابعہ جامعۃالمدینہ فیضان رضا چوہنگ ملتان روڈ ،لاہور،پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں قول و فعل میں
سچائی کا درس دیتا ہے۔ وعدے کی پاسداری ایمان کی علامت ہے، جبکہ بد عہدی اور وعدہ
خلافی منافقت کی نشانی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ قرآن مجید میں اللہ
تعالیٰ نے عہد توڑنے والوں کے لیے سخت وعیدات بیان فرمائی ہیں۔
(1) عہد کے
بارے میں باز پرس:قیامت کے دن انسان سے اس کے کیے گئے وعدوں کے بارے میں
سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَ
اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال
ہونا ہے۔ (سورۃبنی اسرائیل: 34)
یہ آیت اس بات پر مہر ثبت کرتی ہے کہ وعدہ محض زبان سے
نکلا ہوا ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے جس کا حساب دینا ہوگا۔
(2) اللہ کی
لعنت اور دل کی سختی:جو لوگ اللہ سے کیا گیا پختہ عہد توڑ دیتے ہیں، وہ اللہ
کی رحمت سے دور کر دیے جاتے ہیں۔ ارشاد فرمایا:فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ
جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-
ترجمہ کنزالایمان: تو اُن کی کیسی بدعہدیوں پر ہم نے
انہیں لعنت کی اور اُن کے دل سخت کردئیے ۔(سورۃ المائدہ: 13)
اس وعید سے معلوم ہوتا ہے کہ بد عہدی کا وبال انسان کے
دل پر پڑتا ہے، جس سے اس کا دل نیکیوں کے لیے سخت ہو جاتا ہے۔
(4) دنیا و
آخرت میں خسارہ:قرآن کریم نے عہد توڑنے والوں کو "خاسر" یعنی
نقصان اٹھانے والا قرار دیا ہے۔ سورۃالبقرہ میں ارشاد فرمایا:الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ
عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ
بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ
الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)
ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے
ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی
نقصان میں ہیں ۔ (سورۃ البقرہ: 27)
ان تمام وعیدات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بد عہدی صرف ایک
اخلاقی عیب نہیں بلکہ ایک سنگین گناہ ہے جو انسان کو اللہ کی رحمت سے محروم کر
دیتا ہے۔ ایک سچا مسلمان وہی ہے جو اپنی زبان کا پاسبان ہو اور ہر حال میں اپنے عہد
کو پورا کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں وعدوں کی پاسداری کرنے اور بد عہدی کی
نحوست سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami