اسلام میں عہد وعدہ پورا کرنا نہایت اہم اخلاقی اور ایمانی صفت ہے، جبکہ بدعہدی (وعدہ خلافی) کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر وعدہ پورا کرنے کا حکم اور بدعہدی پر سخت وعید بیان کی گئی ہے۔

عہد کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا:اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :

وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز الایمان: اور عہد پورا کرو بےشک عہد سے سوال ہونا ہے۔ (سورۃ الاسراء: 34)

اس آیت میں واضح فرمایا گیا کہ وعدہ کوئی معمولی بات نہیں بلکہ قیامت کے دن اس کے بارے میں حساب لیا جائے گا۔

بدعہدی منافقوں کی صفت ہے:اللہ پاک فرماتا ہے: وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَىٕنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ ترجمہ کنز الایمان: اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دےگا تو ہم ضرور خیرات کریں گے۔(سورۃ التوبہ: 75)

اور آگے فرمایا:فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ ترجمہ کنزالایمان:پھر اس کی سزا یہ ہوئی کہ ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا گیا۔(سورۃ التوبہ: 77)

یہ آیات بتاتی ہیں کہ وعدہ توڑنا دل میں نفاق پیدا کر دیتا ہے۔

اللہ کے عہد کو توڑنے والوں پر لعنت:اللہ پاک فرماتا ہے:

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪

ترجمہ کنزالایمان: وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں ۔(سورۃ البقرہ: 27)

آگے فرمایا:-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷) ترجمہ کنز الایمان: وہی نقصان میں ہیں ۔ (سورۃ البقرہ: 27)

ایسے لوگ دنیا و آخرت میں خسارے میں رہتے ہیں۔

قرآنِ کریم واضح طور پر بتاتا ہے کہ بدعہدی:اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہے،دل میں نفاق پیدا کرتی ہے،قیامت کے دن سخت حساب کا باعث بنے گی،دنیا و آخرت کے خسارے کا سبب ہے۔

اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ وعدہ کرتے وقت سوچ سمجھ کر کرے اور جب وعدہ کرے تو اسے ضرور پورا کرے۔اللہ پاک ہمیں سچا، امانت دار اور وعدہ وفا کرنے والا مسلمان بنائے اور بدعہدی جیسی بری عادت سے محفوظ رکھے۔