مبشر عبد الرزاق عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی، لاہور،پاکستان)
دین اسلام وہ عظیم دین ہے جس میں انسانوں کے باہمی حقوق
اور معاشرتی آداب کو خاص اہمیت دی گئی ہےاور ان چیزوں کا خصوصی لحاظ رکھا گیا۔ اسی
لئے جو چیز انسانی حقوق کو ضائع کرنے کا سبب بنتی ہے اور جو چیز معاشرتی آداب کے
بر خلاف ہے اس سے دینِ اسلام نے منع فرمایا اور اس سے بچنے کا تاکید کے ساتھ حکم
دیا ، ان اشیاء میں سے ایک چیز" بد عہدی “ ہے جو کہ انسانی حقوق کی پامالی کا
بہت بڑا سبب اور معاشرتی آداب کے انتہائی بر خلاف ہے، جس سے دینِ اسلام نے خاص طور
پر روکا اور اس کی مذمت و وعیدات کو بیان کیا ۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں
:خلف وعدہ جس کی تین صورتیں ہیں:
(1) اگر وعدہ سرے سے صرف زبانی بطور دنیا سازی کیا اور
اسی وقت دل میں تھا کہ وفا نہ کریں گے تو بے ضرورت شرعی و حالت مجبوری سخت گناہ و
حرام ہے ایسے ہی خلاف وعدہ کو حدیث میں علامات نفاق سے شمار کیا ۔
(2)اور اگر وعدہ سچے دل سے کیا پھر کوئی عذر مقبول و سبب
معقول پیدا ہوا تو وفا نہ کرنے میں کچھ حرج کیا ، ادنی کراہت بھی نہیں جبکہ اس عذر
و مصلحت کو اس وفائے وعدہ کی خوبی و فضیلت پر ترجیح ہو۔
(3) اور اگر کوئی عذر و مصلحت نہیں بلاوجہ نسبت چھڑائی
جاتی ہے تو یہ صورت مکروہ تنزیہی ہے ۔
یہ بات اس تقدیر
پر بے جا و خلاف مروت ہے ، مگر حرام و گناہ نہیں، حضور سید العالمین صلی اللہ
تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : وعدہ خلافی یہ نہیں کہ مرد وعدہ کرے در انحالیکہ اس کی
نیّت وعدہ کو پورا کرنے کی ہو، لیکن وعدہ خلافی یہ ہے کہ مردوعدہ کرے درانحالیکہ
اس کی نیت اس وعدہ کو پورا نہ کرنے کی ہو۔ (ملخص
از فتاوی رضویہ ، جلد 12، صفحۃ 281 تا 283، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بد عہدی کی مذمت و وعیدات
کو بیان کیا گیا ہے آئیے ہم بھی بد عہدی کی قرآنی وعیدات پڑھتے ہیں ۔
(1)دل کی سختی:وعدہ خلافی سخت قابلِ
مذمت گناہ ہے اور گناہوں کا ارتکاب اللہ پاک کی ناراضگی ،دل کی سختی اور بارگاہ
الہٰی سے دوری کا سبب ہے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
فَبِمَا
نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِیَةًۚ-
ترجمہ کنز
العرفان: ان کے عہد توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردئیے ۔
( پ 6، المائدہ، 13)
(2) یہود کی عادت:وعدہ خلافی ایک سنگین
جرم اور یہود کی عادت ہے جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُمافرماتے ہیں :جب حضور پر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ
نے یہودیوں کو اللہ تعالیٰ کے وہ عہد یاد دلائے جو حضوراقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے کے متعلق تھے تو مالک بن صیف نے کہا:خدا
کی قسم !آپ کے بارے میں ہم سے کوئی عہد نہیں لیا گیا تو اللہ پاک نے یہ آیت نازل
فرمائی :
اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا
نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰۰)
ترجمہ کنز العرفان : اور جب کبھی انہوں نے کوئی عہدکیا
تو ان میں سے ایک گروہ نے اس عہد کو پھینک دیا بلکہ ان میں سے اکثر مانتے ہی نہیں
۔(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 100، 1 / 72)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر قسم کے عہد کو پورا کرنا
ضروری ہے خواہ اللہ پاک سے کیا ہو یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یا عام
مسلمانوں سے اللہ پاک ہمیں عہد کی پاسداری عطا فرمائے ۔
(3) نفاق کی علامت :امام
فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں: کہ عہد شکنی اور
وعدہ خلافی سے نفاق پیدا ہوتا ہے تو مسلمان پر لازم ہے کہ ان باتوں سے اِحتراز کرے
اور عہد پورا کرنے اور وعدہ وفا کرنے میں پوری کوشش کرے۔جیسے کہ اللہ پاک فرماتا
ہے :
فَاَعْقَبَهُمْ
نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ
مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن
تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے
اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (تفسیرکبیر، التوبۃ، تحت
الآیۃ: 77، ج 6 ص108)
(4)رسوائی کا باعث :وعدے
کا پورا کرنا اجر عظیم اور بندے کی عزّت و وقار میں اضافے جبکہ قول و اقرار سے
رُوگردانی اور عہد ( وعدہ ) کی خلاف ورز ی دنیا و آخرت میں رسوائی اور بروز قیامت
شدید پکڑ کا سبب ہے۔ جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا یَنْكُثُ عَلٰى
نَفْسِهٖۚ-وَ مَنْ اَوْفٰى بِمَا عٰهَدَ عَلَیْهُ اللّٰهَ فَسَیُؤْتِیْهِ اَجْرًا
عَظِیْمًا۠(۱۰)
ترجمہ کنز العرفان:جس نے عہد توڑا تو وہ اپنی جان کے خلاف
ہی عہد توڑتا ہے اور جس نے اللہ سے کئے ہوئے اپنے عہد کو پورا کیا تو بہت جلد اللہ
اسے عظیم ثواب دے گا۔( پ 26 الفتح 10)
(5) برا گھر یعنی جہنم :جو لوگ
صاحب ایمان ہو کے بھی بد عہدی اور گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین میں فساد پھیلاتے
ہیں ان کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر
یعنی جہنم ہے۔ جیسے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
وَ
الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ
مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ
لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)
ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے
کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور
زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔(پ13، الرعد: 25)
پیارے اسلامی بھائیو! یاد رہے بدعہدی گناہ کبیرہ، حرام
اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔
Dawateislami