بدعہدی کا مطلب ہے وعدہ خلافی، معاہدہ توڑنا وغیرہ یعنی کسی شخص سے کسی کام كا وعدہ کرنا اور بعد میں وہ کام نہ کرنا۔ بدعہدی کے بیشمار دینی اور دنیاوی نقصان ہیں۔ دنیاوی نقصان تو یہ ہیں کہ کوئی شخص بھی کسی بدعہدی کرنے والے شخص سے نہ دوستی کرنا پسند کرتا ہے، نہ رشتہ داری رکھنا پسند کرتا ہے اور نہ تجارت کرنا پسند کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب ایسا شخص سخت مصیبت اور پریشانی میں ہو تب بھی لوگ اس کی سابقہ وعدہ خلافیوں کو دیکھ کر اس وقت اس کی مدد کرنے سے گھبراتے ہیں اور دینی اور اخروی نقصان دیکھیں تو سب سے بڑا نقصان یہی ہے کہ بدعہدی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو سخت ناپسند ہے اور یہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔

(1) وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)

ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ (سورۃ بنی اسرائیل آیت 34)

صراط الجنان:اس آیت میں عہد پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے خواہ وہ اللہ کا ہو یا بندوں کا اللہ عزوجل سے عہد اس کی بندگی اور اطاعت کا ہے اور بندوں سے عہد میں ہر جائز عہد داخل ہے۔

(2) وَ الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِۙ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵)

ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ جو اللہ کا عہد اسے پختہ کرنے کے بعد توڑدیتے ہیں اور جسے جوڑنے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے اسے کاٹتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کیلئے لعنت ہی ہے اور اُن کیلئے برا گھر ہے۔‏ (سورۃ الرعد آیت 25)

صراط الجنان:اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا اعتراف کر کے اور ایمان لانے کا عہد قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی مخالفت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جو صلہ رحمی کرنے اور رشتہ داری جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے توڑتے ہیں، کفر اور گناہوں کا ارتکاب کر کے زمین میں  فساد پھیلاتے ہیں ان کے لئے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے اور اُن کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہے۔

(3) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۷۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (سورۃ توبہ آیت 77)

اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ بدعہدی سے انسان کے اندر نفاق پیدا ہوتا ہے۔ اور حدیث میں بدعہدی کو منافق کی نشانی فرمایا گیا ہے: حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: "منافق کی تین نشانیاں ہیں (1) جب بات کرے جھوٹ بولے۔ (2) جب وعدہ کرے خلاف کرے۔ (3) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے۔" (بخاری،کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱ / ۲۴،الحدیث: ۳۳)

اور حضرت انس رضی الله عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنے خطبوں میں) ایسا کم ہی خطاب کیا ہوگا ،جس میں یہ نہ فرمایا ہو: "اس شخص میں ایمان نہیں، جس میں امانت داری نہیں اور وہ شخص بے دین ہے، جو عہد کا پابند نہیں۔" (مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان، حدیث 30، جلد 1، صفحہ 15)

اللہ پاک ہمیں بدعہدی سے محفوظ رکھے اور ہمیں اپنے اور بندوں کے عہد پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ