حافظ
محمد عمر نقشبندی(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کو اخلاق،
معاملات اور وعدوں کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ وعدہ پورا کرنا ایمان کی علامت اور
اعلیٰ اخلاق کی نشانی ہے جبکہ بد عہدی (وعدہ خلافی) کو قرآن مجید نے سخت ناپسند
فرمایا ہے۔ بد عہدی نہ صرف معاشرتی اعتماد کو ختم کرتی ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے غضب
کا سبب بھی بنتی ہے۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بد عہدی کرنے والوں کے لیے سخت
وعید بیان کی گئی ہے۔
عہد کا لغوی معنی ہے: وعدہ، امان، ذمہ داری اور پختہ
بات۔ (لسان العرب، ابن منظور، مادہ: (عہد)، جلد 3، صفحہ 313)
عہد کا مطلب ہے کسی چیز کی حفاظت کرنا اور اس کی مسلسل
رعایت کرنا۔(المفردات، امام راغب اصفہانی، صفحہ 561)
بد عہدی سے مراد یہ ہے کہ انسان وعدہ کرنے کے بعد اسے
پورا نہ کرے۔(تفسیر قرطبی، جلد 1، صفحہ 256 )
(1)الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ
مِیْثَاقِهٖ۪-
ترجمۂ کنزالعرفان:وہ لوگ جو
اللہ کے وعدے کو پختہ ہونے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں ۔ (پ1، البقرۃ:27)
وضاحت:اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو نافرمان اور نقصان
اٹھانے والا قرار دیا ہے کیونکہ وہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
(2) اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ
اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓىٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ
ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کے وعدے اور
اپنی قسموں کے بدلے تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں ،اِن لوگوں کے لئے آخرت میں کچھ حصہ
نہیں ۔ (پ3، اٰل عمران:77)
وضاحت:دنیاوی فائدے کے لیے وعدہ توڑنے والوں کے لیے آخرت
میں سخت محرومی اور عذاب کی وعید ہے۔
(3) فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى
یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا
یَكْذِبُوْنَ(۷۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اللہ نے انجام کے طور پر اس دن
تک کے لئے ان کے دلوں میں منافقت ڈال دی جس دن وہ اس سے ملیں گے کیونکہ انہوں نے
اللہ سے وعدہ کرکے وعدہ خلافی کی اور جھوٹ بولتے رہے۔ (پ10، التوبہ:77)
وضاحت:یہ آیت بتاتی ہے کہ وعدہ خلافی نفاق کی علامت ہے
اور یہ انسان کے ایمان کو نقصان پہنچاتی ہے۔
(4) وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا
عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا
ترجمہ کنز العرفان: اور اللہ کا عہد پورا کرو جب تم کوئی
عہد کرو اور قسموں کو مضبوط کرنے کے بعد نہ توڑو ۔
(پ14، النحل:91)
وضاحت:اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح حکم دیا ہے کہ
وعدہ کرنے کے بعد اسے توڑنا سخت گناہ ہے اور یہ اللہ کے حکم کی نافرمانی ہے۔
(5)
وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِۚ-اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـٴُـوْلًا (۳۴)
ترجمہ کنز العرفان: اور عہد پورا کرو بیشک عہد کے بارے
میں سوال کیا جائے گا۔ (پ15، الاسراء:34)
وضاحت:قیامت کے دن انسان سے اس کے وعدوں کے بارے میں
سوال ہوگا، اس لیے وعدہ پورا کرنا ضروری ہے۔
Dawateislami