محمد ارسلان ( درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
دین
اسلام کامل و اکمل اور مکمل ضابطہ حیات ہے یعنی اسلام جس طرح عشق مصطفی اور عبادت
الہی کا حکم دیتا ہے اسی طرح مشکلات وغیرہ میں صبر کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ آئیے صبر کے بارے میں کچھ آیاتِ مبارکہ پڑھتے ہیں :
(1)
بسنے کی جگہ:
ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے
اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور
سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور
بسنے کی جگہ۔ (پ19،
الفرقان:75، 76)
(2)
دُگنا اجر: اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ
مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا
ترجمہ
کنز الایمان : ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ 20، القصص: 54)
(3) جنت
کے بالا خانے:
ترجمہ کنزالایمان : اور بےشک جو ایمان لائے
اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں
بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا ۔ وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ
رکھتے ہیں ۔ (پ21،
العنکبوت:58، 59)
تفسیر
: اچھے عمل کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے تکلیفوں،مصیبتوں اور سختیوں پرصبرکیا ۔ ( تفسیر
صراط الجنان ، ج : 7 ، پ : 21 ، سورہ عنکبوت ، آیت : 58٫59 ، ص : 398٫399 )
(4)
اللہ کی نشانی: اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ
بِنِعْمَتِ اللہ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ
لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ(۳۱)
ترجمہ
کنزالایمان : کیا تو نے نہ دیکھا کہ کُشتی دریا میں چلتی ہے اللہ کے فضل سے تاکہ
تمہیں وہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بےشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے
شکرگزار کو ۔ (پ21،
لقمان:31)
تفسیر
: بیشک کشتی کی روانی میں ہر اس شخص کیلئے نشانیاں ہیں جو بلاؤں پر بڑا صبر کرنے
والااور اللہ تعالیٰ کی نعمتو ں کا بڑا شکر گزار ہو۔ صبر اور شکر یہ دونوں صفتیں مومن کی ہیں تو گویا ارشاد فرمایا’’اس میں ہر
مومن کے لئے نشانیاں ہیں۔ ( تفسیر صراط الجنان ، ج : 7 ، پ : 21 ،
سورہ لقمان ، آیت : 31 ، ص : 517٫518 )
(5)
اہم کام:وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)
ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
اللہ پاک ہمیں ہر
حال میں اپنا صابر و شاکر بندہ بنائے۔ آمین
فاحد علی عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو! جہاں قرآن پاک ہمیں
بہت سی تعلیمات سے نوازتا ہے وہی قرآن پاک ہمیں صبر کے بارے میں بھی حکم دیتا ہے۔ آئیے
پہلے جانتے ہیں کہ صبر کہتے کسے ہیں۔
صبر کی تعریف: صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز
پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز
رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
صبر کے
بارے میں قرآن پاک کے کئی آیات مبارکہ ہیں ان میں سے پانچ آیات پیش کی جاتی ہیں۔
(1) صبر
کرنے والا ہے: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
(2) بڑا
بے صبرا: اِنَّ
الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ (۱۹)
ترجمۂ کنز العرفان: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص
پیدا کیا گیا ہے ۔
(پ29،المعارج19تا21)
(3)
صبر اور نماز سے مدد: وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ
الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ (پ1،
البقرۃ:45)
(4)
رب کے لیے صبر کرو: وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷)
ترجمہ کنزالایمان :اور اپنے رب کے لیے صبر کئے
رہو۔ (پ29، المدثر:7)
(5) راہ
خدا میں خرچ کرنے والے سے:
اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب
والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
ہمیں
آنے والی مصیبتوں اور آزمائشیں پر صبر کرنا چاہیے، ہمیں ہر حال میں صبر کرنا چاہیے اور کسی کے سامنے
اپنے دکھڑے نہیں سنانے چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہیے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر حال میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد فیصل فانی ( دورہ حدیث جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
صبر
انسانی زندگی کا وہ لازمی عنصر ہے جو ایمان کی پختگی، اخلاقی بلندی اور روحانی
ارتقاء کی بنیاد ہے۔ قرآنِ کریم نے بارہا صبر کی تلقین کی ہے اور
اسے کامیابی و فلاح کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسلام میں صبر محض برداشت یا خاموشی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک فعال اور مثبت
عمل ہے، جس کے ذریعے انسان اپنے جذبات، خواہشات اور رویوں کو اللہ کی رضا کے تابع
کرتا ہے۔
صبر کا
مفہوم: لفظ صبر عربی مادہ ص ب ر سے نکلا ہے، جس کے معنی
ہیں روکنے، قابو پانے یا ضبط کرنے کے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں صبر سے مراد یہ ہے کہ انسان مصیبت، تکلیف، خوف، نقصان یا
آزمائش کے وقت گھبراہٹ اور بے
صبری کا مظاہرہ نہ کرے، بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور ثابت قدمی سے اس کی رضا پر
راضی رہے۔
قرآن میں
صبر کی اہمیت: قرآن مجید نے صبر کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں فرمایا گیا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ صبر صرف آزمائشوں میں برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ کی مدد
حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
صبر
کرنے والوں کی بشارت: قرآن نے صبر کرنے والوں کے لیے عظیم
بشارتیں دی ہیں۔
وَ
بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری
سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے
ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 155، 156)
یہ آیت
صبر کی اعلیٰ ترین صورت بیان کرتی ہے کہ مومن مصیبت کے وقت شکوہ نہیں کرتا بلکہ
اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔
صبر کا
اجر: قرآن
کریم میں صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر کی خوشخبری دی گئی ہے:
قُلْ
یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ
هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ اَرْضُ اللہ وَاسِعَةٌؕ-اِنَّمَا یُوَفَّى
الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمہ
کنز العرفان: تم فرماؤ :اے میرے مومن بندو! اپنے رب سے ڈرو۔ جنہوں نے بھلائی کی، ان کے لیے اِس دنیا میں بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع
ہے۔ صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر :10)
یہ آیت
اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ صبر اللہ کے نزدیک اتنا قیمتی عمل ہے کہ اس کے اجر کا
کوئی شمار نہیں۔
پیغمبروں
کا صبر: قرآن میں
مختلف انبیاء علیہم السلام کے صبر کی مثالیں پیش کی گئی ہیں تاکہ اہلِ ایمان ان سے
سبق حاصل کریں۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے بیماری اور مصیبت میں
صبر کیا۔
وَ
خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ-اِنَّا وَجَدْنٰهُ
صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴)
ترجمۂ کنز العرفان:اور (فرمایا) اپنے ہاتھ میں
ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو۔ بے
شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا ۔ وہ کیا ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع
لانے والا ہے۔ (پ23،
صٓ: 44)
حضرت یعقوب
علیہ السلام نے اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کی جدائی میں فرمایا:
-فَصَبْرٌ
جَمِیْلٌؕ-وَ اللہ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ(۱۸)
ترجمہ
کنزالعرفان:تو صبر اچھا اور تمہاری باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔ (پ12، یوسف:18)
حضرت
محمد ﷺ کو بھی صبر کی تاکید کی گئی:
فَاصْبِرْ
كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے
ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
صبر کی
اقسام: قرآن کی
روشنی میں صبر تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
طاعت
پر صبر:یعنی اللہ کے احکام کی پابندی میں استقامت۔ مثال: نماز، روزہ، جہاد، صدقہ وغیرہ میں
تسلسل۔
معصیت
سے صبر:یعنی گناہوں اور حرام چیزوں سے رکنا۔ جیسے یوسف علیہ السلام کا حضرت زلیخا کے فتنہ سے
بچنا۔
مصیبت
پر صبر:یعنی آزمائش، بیماری یا نقصان کے وقت برداشت اور اللہ پر توکل۔
ان تینوں
اقسام کے ذریعے مومن اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالتا ہے۔
صبر اور
کامیابی: قرآن مجید میں صبر کو کامیابی کی کلید قرار
دیا گیا ہے۔
وَ
اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)
ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے
محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )
اور
فرمایا:
وَجَعَلْنَا
مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-
ترجمہ
کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ
اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21،
السجدۃ: 24)
صبر اور
تقویٰ کا تعلق: قرآن پاک میں کئی جگہ صبر کو تقویٰ کے ساتھ
ذکر کیا گیا ہے۔
نِعْمَ
اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ(۵۸) الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ
یَتَوَكَّلُوْنَ(۵۹)
ترجمہ
کنزالایمان: کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا۔ وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر
بھروسہ رکھتے ہیں۔ (پ21، العنکبوت:58، 59)
یہ
ظاہر کرتا ہے کہ صبر کا تعلق ایمان، تقویٰ اور توکل سے گہرا ہے۔ مومن کا صبر محض مجبوری نہیں بلکہ یقین پر مبنی اعتماد ہے کہ اللہ بہترین
منصوبہ ساز ہے۔
قرآن مجید کا پیغام واضح ہے کہ صبر ایمان کی
علامت، نجات کا ذریعہ اور اللہ کی قربت کا راستہ ہے۔ صبر ہی انسان کو مشکلات میں مضبوط بناتا ہے، مصیبت میں شکرگزاری سکھاتا ہے،
اور نفس کو قابو میں رکھتا ہے۔ صبر وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں امید پیدا کرتی ہے اور مومن کو اللہ کی
رضا تک پہنچاتی ہے۔
لہٰذا
قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب زندگی کی راہیں مشکل ہوں، تو گھبراہٹ کے بجائے
صبر، دعا اور توکل اختیار کریں، کیونکہ:
اِنَّ
مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶)
ترجمہ
کنزالایمان: بے شک دشواری کے ساتھ اور آسانی ہے۔ (پ30،
الم نشرح: 6)
اللہ پاک ہمیں عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد جمشید عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
صبر
عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں روکنا برداشت کرنا، اور ثابت قدم رہنا۔
اصطلاح
شریعت میں صبر کی تعریف: صبر اس حالت کو
کہتے ہیں کہ انسان تکلیف مصیبت یا خواہش کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
اپنے نفس کو گناہ یا بے صبری سے روکے رکھے۔
(1)صبر
والوں کی فضیلت : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو۔ اس
سے پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے ۔
(2)صبر والے
راہ خدا میں خرچ کر تےہیں:اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ
الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے
پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر
صراط الجنان: متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر
ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)صبر
کا معنی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل
عمران: 200)
تفسیر
صراط الجنان: صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل
کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو
(4)صبر
سے دین پر غلبہ: وَ اتَّبِ۔ عْ مَا یُوْحٰۤى
اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر
وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے
والا ہے۔ (پ11،
یونس:109)
تفسیر
صراط الجنان: اے حبیب! ﷺ ، اللہ تعالیٰ
آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور آپ کی قوم کے کفار کی
طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ
آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ فرمائے۔
(5)صبر
پر ثواب: الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جنہوں
نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
تفسیر
صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ
صَبَرُوْا:جنہوں
نے صبر کیا ۔ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے
اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا۔
اللہ کریم ہمیں
قرآن کریم پڑھ کر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
فداء
الرحمن عطاری (درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ فیضانِ
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
صبر اس
بات کا نام ہے کہ انسان کسی تکلیف، مصیبت یا آزمائش کے وقت اپنے دل، زبان اور عمل
کو شریعت کے خلاف جانے سے روک لے۔
قرآن پاک میں متعدد مقامات پر صبر کا بیان آیا
ہے، جیسا کہ پارہ 12، سورہ ہود، آیت نمبر 11 میں ارشاد ہوتا ہے: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
اس آیت
میں صبر کرنے والوں کے اجر کو بیان کیا جارہا ہے کہ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام
کیے، اس طرح کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا، اور جب کوئی
نعمت ملی تو اس پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ ایسے
اوصاف کے حامل لوگوں کے لیے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔
اسی
طرح پارہ 18، سورہ مؤمنون، آیت نمبر 111 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنِّیْ
جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱) ترجمہ
کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
اس آیت
میں بھی اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو بیان فرما رہا ہے۔
اسی
طرح پارہ 21، سورہ سجدہ، آیت نمبر 24 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَجَعَلْنَا
مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- ترجمہ
کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ
اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21،
السجدۃ: 24)
اسی
طرح پارہ 2، سورہ بقرہ، آیت نمبر 153 میں ارشاد ہوتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیتِ
مبارکہ میں صبر کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو، یعنی
جب کوئی مصیبت یا پریشانی درپیش ہو تو اس پر صبر کر کے اور نماز پڑھ کر مدد چاہو۔ اس
آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ان
تمام آیتوں میں صبر کی فضیلت اور اس کے دنیاوی و اُخروی
فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
اس کے
علاوہ قرآن پاک میں صبر کے بہت سے فضائل آئے ہیں، جیسے:
اللہ
تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ
10، انفال:46)
صبر
کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔ (پ14،النحل:94)
صبر
کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا۔ (پ
23، الزمر: 10)
صبر
کرنے والے ربِّ کریم کی طرف سے درود، ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 157)
صبر
کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ (پ4، آل عمران: 146)
اور
اسکے علاوہ صبر کے بہت سے فضائل ہیں اس لئے ہمیں چاہئے کہ جب بھی ہمیں کوئی مصیبت یا
آزمائش پیش آئے تو بے صبری اور شکوے کرنے کے بجائے اللہ تعالی کے ان فرامین پر عمل
کرتے ہوئے صبر کریں ۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں اپنے صابرین بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
صبر ان
چیزوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے انسان اور جانوروں میں فرق ہوتا ہے۔
انسان
اگر صبر کرے تو بہت بڑے بڑے نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ اللہ عزوجل نے بھی قرآن پاک میں صبر کرنے کی
تلقین فرمائی،صبر کرنے والوں کی مدح اور نہ کرنے والوں کی مذمّت ارشاد فرمائی۔ آئیے ان آیات میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں:
آیت نمبر 1: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲)ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)
تفسیر
صراط الجنان: اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی
اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں داخل کرے گا اور انہیں ریشمی
لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے ۔
آیت نمبر 2: فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵) ترجمۂ
کنز العرفان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29،المعارج:5)
آیت نمبر 3: وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا
حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللہ غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ(۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتےتو یہ
اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ26، الحجرات:5)
تفسیر
صراط الجنان: وَ
لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا: اور اگر وہ صبر کرتے۔ اس
آیت میں ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ انہیں رسولِ کریم ﷺ کوپکارنے کی
بجائے صبر اور انتظارکرنا چاہئے تھا۔
آیت نمبر 4: اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا
صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱) ترجمہ کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے
صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
آیت نمبر 5: الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز الایمان : وہ جنہوں نے صبر کیا
اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)
سَلٰمٌ
عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)
ترجمہ کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر
ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13،
الرعد: 24)
تفسیر
صراط الجنان: تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور
اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و
تعالیٰ ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ملک دلبر
(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں راہنمائی فراہم کرتا
ہے۔ قرآن مجید ، جو ہدایت کا سرچشمہ ہے، اس میں صبر کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ صبر کو مؤمن کی ایک بنیادی صفت قرار دیا گیا ہے، جو انسان کو مشکلات، آزمائشوں اور تکالیف میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ قرآنِ کریم میں صبر کا بارہا ذکر آیا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل
کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ چند آیات پڑھیئے:
اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کی خوب تعریف فرمائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمہ
کنزالایمان: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
ایک
اور مقام پر فرمایا گیا: وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمہ
کنزالایمان: اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
اللہ
تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں انعامات رکھے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی انبیاء کرام کا ذکر آیا ہے جو شدید آزمائشوں میں بھی صبر کرتے رہے، جیسے حضرت ایوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام،
اور حضرت یعقوب علیہ السلام۔
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا
ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23،
الزمر: 10)
صبر کے
فوائد:
صبر
انسان کو روحانی طور پر مضبوط بناتا ہے۔
صابر
شخص کو اللہ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔
آخرت میں صبر کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
صبر
مومن کی ڈھال ہے، جو اسے زندگی کے نشیب و فراز میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ قرآن کا پیغام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہر حالت میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور
صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جو
شخص صبر کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کی رضا حاصل کرنے والا بنتا ہے اور دنیا و آخرت
کی کامیابیاں سمیٹتا ہے۔
اللہ پاک
ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ساجد
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قرآن
وحدیث میں صبر کے کثیر فضائل بیان کیے گئے ہیں سب سے پہلے ہم صبر کی تعریف کرتے ہیں
پھر اسکے فضائل کو بیان کرتے ہیں
صبر کی
تعریف:الصبر
حبس النفس علی ما یقتضیہ العقل والشرع أو عما یقتضیان حبسھا عنہ صبر کا
معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب ،کتاب الصاد ،ص 273)
صبر کی
تعریف سے پتہ چلا کہ نفسانی خواہشات سے رک جانا صبر ہے بندہ اگر اس میں کامیاب ہو
جائے تو کئی گناہوں سے بچ سکتا ہے کیونکہ اکثر گناہ نفسانی خواہشات کی وجہ سے ہی
ہوتے ہیں لہذا بندہ اگر نفس کی خواہشات سے بچ جائے اور صبر کر لے تو عبادت میں بھی
اس کا دل لگے گا یوں بندہ خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسکے
احکامات کو بجالا سکتا ہے ۔
(1) صبر
کے ذریعے مدد مانگنا: صبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا
جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے ساتھ صبر کا ذکر فرمایا نیز صبر کرنے والوں
کو اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(2) صبر
کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا:
قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا
فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ اَرْضُ اللہ وَاسِعَةٌؕ-اِنَّمَا یُوَفَّى
الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ :اے میرے مومن
بندو! اپنے رب سے ڈرو۔ جنہوں نے بھلائی کی، ان کے لیے اِس دنیا میں
بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور
دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر :10)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب
اجر و ثواب دیاجائے گا۔
(3)صبر
کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں : وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ
قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ
سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)
ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد
کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی
تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے
اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران : 146 )
(4) صبر
کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا: - وَ لَنَجْزِیَنَّ
الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر
ضرور دیں گے۔ (پ14،
النحل:96)
(5) اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
اللہ
تعالیٰ ہمیں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
عبدالمجید
عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ کنز الایمان رائیونڈ ضلع لاہور ، پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے
جو انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن پاک میں صبر کو بہت بلند مقام دیا گیا ہے۔ صبر کا مطلب ہے: مشکلات، تکالیف، آزمائشوں ، اور ناپسندیدہ حالات میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا، شکوہ
شکایت نہ کرنا، اور ثابت قدمی اختیار کرنا۔
قرآن مجید میں صبر کا حکم : اللہ
تعالیٰ نے متعدد مقامات پر صبر کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے اور ان کے لیے عظیم
انعامات کا وعدہ کیا ہے۔
(1) سورۃ البقرہ، آیت 15: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳)ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
یہ آیت
ہمیں بت آتی ہے کہ مصیبت میں سب سے پہلا سہارا صبر ہونا چاہیے، اور صبر کے ساتھ
اللہ کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے۔
(2) سورۃ الزمر، آیت 10: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
اس آیت
میں صبر کا انعام بیان کیا گیا ہے جو کہ بے حساب ہے۔ یعنی
اللہ تعالیٰ صابرین کو ان کے صبر کا ایسا بدلہ دے گا جس کی کوئی حد نہیں۔
(3) سورۃ البقرہ، آیت 155-15(7) وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ
الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ
الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) -الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)
ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر
اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے
والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے
ہیں : ہم اللہہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں
اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155تا157)
صبر کی اقسام : علمائے کرام نے صبر کی تین
اقسام بیان کی ہیں:
1 طاعت پر صبر ۔ عبادات اور نیکیوں پر ثابت قدم رہنا۔
2 معصیت سے صبر۔ گناہوں سے بچنا اور نفس کو قابو میں رکھنا۔
3 مصیبت پر صبر۔ تکلیف دہ حالات میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا۔
صبر کرنے والوں کی صفات
وہ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔
شکوہ شکایت نہیں کرتے۔
آزمائشوں میں مضبوطی سے جمے رہتے ہیں۔
اللہ سے مدد مانگتے ہیں۔
انبیائے
کرام صبر کا عملی نمونہ : حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری اور مصیبت
میں مبتلا کیا گیا، لیکن انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ قرآن میں ان کا ذکر بطور صابر آیا ہے: سورۃ ص، آیت 4(4) اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ
الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان: بے شک ہم نے اسے صبر
کرنے والا پایا ۔ وہ کیا
ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23، صٓ: 44)
صبر وہ
عظیم صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ قرآن پاک میں صبر کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے اور صبر کرنے والوں کے
لیے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر موڑ پر صبر کو اپنائیں، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔
محمد
شعیب عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
انسانی
زندگی مختلف آزمائشوں کا مجموعہ ہے کبھی بھوک کی آزمائش تو کبھی بیماری
کی آزمائش کبھی مالی نقصان کی آزمائش تو کبھی بدنی آزمائش ان سب آزمائشوں سے بچ جانے کا نام کامیابی نہیں بلکہ کامیابی اس کا نام ہے کہ ان تمام آزمائشوں پر صبر کیا جائے صبر پر ملنے والے انعام کی طرف نظر کرتے ہوئے ان آزمائشوں میں نہ گبھرائے۔ جب
ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو صبر کے متعلق کئی آیات ہمارے سامنے آتی ہیں ۔
صبر کی
تعریف: صبر کی
لغوی واصطلاحی تعریف یہ ہے: برداشت کرنا اور اللہ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر واویلا نہ کرنا۔ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان نیکیوں کا حریص ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم ہر آزمائش پر صبر کریں اور اللہ کی طرف سے
ملنے والے اجر پر خوش ہوں۔ صبر کرنےپر کیااجر ملتاہے قرآن اس بارے ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے۔ قرآن میں مختلف مقامات پر صبر کا بیان ہےجن میں چند مقامات یہ ہیں :
(1) وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور
بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ (پ1،
البقرۃ:45)
اس آیت
مقدسہ میں صبر کے ذریعے مدد طلب کرنے کی ترغیب دلائی جارہی ہے۔
(2) وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ
کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
اس آیت
مبارک میں صبر کو ہمت والا کام کہا گیا ہے لہذا جو لوگ صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں
وہ باہمت ہیں۔ زمانے کے دکھ اس کو کبھی نہیں تھکا سکتے۔
(3) وَ
جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)
اب اس
آیت میں صبر کرنے والوں کے دواجر بیان ہوئے ہیں کہ ایک تو ان کو جنت ملے گی اور
دوسرا ریشمی لباس کا جوڑا۔ ان
دونوں انعامات پر صبر کرنے والا بہت خوش ہوتا ہے۔
(4) اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
آیت کے اس مبارک حصہ میں صابر کے اس اجر کا بیان
ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی وہ اجر یہ ہے کہ صبر کرنے والے کو اللہ تعالی کی معیت
نصیب ہوتی ہے اور جس کو اللہ کا ساتھ نصیب ہو جائے اسے دنیا کا کوئی غم نہیں رہتا۔
(5) وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ
فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ
کنز العرفان: اورآپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور
تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
مبارک
آیت کے اس حصہ میں یہ اجر بیان ہوا ہے کہ صبر کرنے والوں کی مدد خود خدا تعالیٰ
فرماتاہے اور جس کی مدد خدا فرمائے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
ان آیات
کے علاوہ کئی اور آیات بھی ہیں جن میں صبر کا بیان ہے اور کئی ایسی احادیث بھی ہیں
جن میں صبر کے اجروثواب کو بیان کیا گیا ہے۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ پیارے نبی
رحمت اللعالمین ﷺ کے صدقے اس عظیم الشان صفت کواپنانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
محمد
انس عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ
گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
انسان
اپنی زندگی میں دیکھتا رہتا ہے کہ زندگی مکمل
آزمائشوں سے خالی ہونا بہت مشکل ہے
ہر انسان کے ساتھ عموماً پریشانیاں دکھ تکالیف و مصیبتیں آتی ہی رہتی ہیں مگر اب
ان آزمائشوں کا رونا رویا جائے ؟ دوسروں کے سامنے اظہار کیا
جائے، گھر چھوڑ دیا جائے، اولاد کو بے آسرا کر دیا جائے ، بیوی کو مار پیٹ کر طلاقیں
دے دی جائیں ، خود کشی کر لی جائے یا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں فریاد کی جائے،
قرآن حمید ہمیں اس بارے میں کیا سوچ اور عمل وجزا دیتا ہے ، آئیے ملاحظ کرتے ہیں:
(1) آزمائشوں پر صبر کر کے اللہ عزوجل سے مدد مانگنی چاہیے اور پھر مایوس بھی نہیں ہونا
چا ہیئے کیونکہ رب عزوجل فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(2) کسی
نے ایذا دی تکلیف پہنچادی، چار باتیں سنا دیں تو ان پر خاموشی کے ساتھ صبر کر لینا
چھوٹے لوگوں اور ڈرنے والے لوگوں کا کام نہیں بلکہ یہ تو مضبوط اور ہمت والوں کا
کام ہے، جیسا کہ وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ
الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو
یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ 25،الشوریٰ: 43)
(3)
صبر کرنے پر جنت ، جی ہاں، صبر کرنے پر وہ جنت ملے گی کہ جس میں۔ کوئی مشکل اور کوئی آزمائش وغیرہ نہیں جہاں آرام و سکون والی ہمیشہ کی زندگی
ہے۔ قرآن پاک میں ہے : وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲)
ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
(4) آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر کرونے والوں کو اللہ عزوجل نے ناکاموں کی فہرست میں نہیں
بلکہ کامیاب لوگوں کی فہرست میں داخل فرمایا ہے: اِنِّیْ
جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱) ترجمہ کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے
صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
(5)وَ
لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ
اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ کنز العرفان: اورآپ سے
پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر
کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
جو بندہ صبر کرتا ہے پھر الله عز وجل اسے بے یارو
مدد گار اور مشکلوں میں پھنسا ہوا نہیں چھوڑتا بلکہ اللہ عزو جل بھی اس کی مدد
کرتا ہے۔ صبر کرنے والوں کے لیے بخشش کی بھی بشارت و
خوشخبری ہے۔
محمد عامر ( درجہ سابعہ
جامعۃالمدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
قرآن مجید میں صبر(بردباری اور ثابت قدمی)کو خلق
عظیم اور مؤمن کی اہم صفت قرار دیا گیا ہے۔ صبر کا ذکر قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر آیا ہے۔ اور اسے ایمان تقوٰی،شکر اور یقین کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اللہ پاک نے صبر کرنے والوں کے لیے دنیا
اور آخرت میں عظیم انعامات کا وعدہ فرمایا ہے :
(1)صبر
کرنے والوں کو اللہ کا ساتھ حاصل ہوتا: قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و
قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا
تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
)2)صبر
کے بدلے جنت اور انعامات: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ
حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی
کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
اس آیت
اورا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو
گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں
داخل کرے گا اور انہیں ریشمی لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے
ہوں گے اور دنیا کی طرح وہا ں انہیں گرمی یا سردی کی کوئی تکلیف نہ ہوگی اور جنتی
درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور جنت کے درختوں کے گُچھے جھکا کر نیچے
کردئیے گئے ہوں گے تاکہ وہ کھڑے ،بیٹھے ،لیٹے ہر حال میں باآسانی گچھے لے سکیں اور
جیسے چاہے کھا سکیں ۔ (خازن، الانسان، تحت الآیۃ: 12-14، 4 / 340)
(3)صبر
کرنے والوں کا اجر بے حساب: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
تفسیر
صراط الجنان:صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ یعنی
جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ
کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی
نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ (ابوسعود،
الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)
(4)انبیاء
کرام کی صبر کی مثال: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ
مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت
والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
قرآن مجید میں اللہ پاک نےبارہا صبر کرنے والوں
کو نہ صرف اللہ کی قربت کی خوشخبری دی گئی ہے بلکہ انہیں ہدایت، رحمت اور جنت کے
وعدے سے بھی نوازا گیا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں آزمائشوں میں مضبوطی اور عبادات میں پابندی کریں تاکہ ہم اللہ پاک کے ان بندوں میں شمار ہو سکیں
جن کے بارے میں فرمایا گیا: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (بیشک
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)
اللہ
پاک ہمیں قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami