فداء
الرحمن عطاری (درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ فیضانِ
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
صبر اس
بات کا نام ہے کہ انسان کسی تکلیف، مصیبت یا آزمائش کے وقت اپنے دل، زبان اور عمل
کو شریعت کے خلاف جانے سے روک لے۔
قرآن پاک میں متعدد مقامات پر صبر کا بیان آیا
ہے، جیسا کہ پارہ 12، سورہ ہود، آیت نمبر 11 میں ارشاد ہوتا ہے: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
اس آیت
میں صبر کرنے والوں کے اجر کو بیان کیا جارہا ہے کہ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام
کیے، اس طرح کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا، اور جب کوئی
نعمت ملی تو اس پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ ایسے
اوصاف کے حامل لوگوں کے لیے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔
اسی
طرح پارہ 18، سورہ مؤمنون، آیت نمبر 111 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنِّیْ
جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱) ترجمہ
کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
اس آیت
میں بھی اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو بیان فرما رہا ہے۔
اسی
طرح پارہ 21، سورہ سجدہ، آیت نمبر 24 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَجَعَلْنَا
مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- ترجمہ
کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ
اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21،
السجدۃ: 24)
اسی
طرح پارہ 2، سورہ بقرہ، آیت نمبر 153 میں ارشاد ہوتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیتِ
مبارکہ میں صبر کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو، یعنی
جب کوئی مصیبت یا پریشانی درپیش ہو تو اس پر صبر کر کے اور نماز پڑھ کر مدد چاہو۔ اس
آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ان
تمام آیتوں میں صبر کی فضیلت اور اس کے دنیاوی و اُخروی
فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
اس کے
علاوہ قرآن پاک میں صبر کے بہت سے فضائل آئے ہیں، جیسے:
اللہ
تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ
10، انفال:46)
صبر
کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔ (پ14،النحل:94)
صبر
کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا۔ (پ
23، الزمر: 10)
صبر
کرنے والے ربِّ کریم کی طرف سے درود، ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 157)
صبر
کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ (پ4، آل عمران: 146)
اور
اسکے علاوہ صبر کے بہت سے فضائل ہیں اس لئے ہمیں چاہئے کہ جب بھی ہمیں کوئی مصیبت یا
آزمائش پیش آئے تو بے صبری اور شکوے کرنے کے بجائے اللہ تعالی کے ان فرامین پر عمل
کرتے ہوئے صبر کریں ۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں اپنے صابرین بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami