محمد عبداللہ (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
انسان
کی زندگی خوشی اور غم، راحت اور تکلیف، کامیابی اور ناکامی کا مجموعہ ہے۔ ہر
انسان کو کسی نہ کسی مرحلے پر آزمائشوں ،
مصیبتوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی
صورتِ حال میں جس وصف کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، وہ صبر ہے۔ صبر نہ صرف ایک اعلیٰ اخلاقی خوبی ہے بلکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے
صبر کرنے والوں کو خاص مقام عطا کیا ہے۔ قرآن ہمیں نہ صرف صبر کا درس دینے کے ساتھ ساتھ اس پر ملنے والے انعامات و درجات کا بھی بیان کرتا ہے
:
صبر کا
معنیٰ: صبر کا
لغوی مطلب ہے روکنا، صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل
اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور
شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
صبر کی
اقسام: بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1)
بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات
اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور
پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔ ۔ ۔ الخ، 4 / 82)
صبر کے فضائل: قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے
اقوال میں صبر کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے ان میں سے کچھ
فضائل کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(1)
صبر کرنے والوں کی جزا دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔ (معجم الکبیر، 12 / 141، الحدیث: 12829)
(2)
صبر آدھا ایمان ہے۔
(مستدرک، کتاب التفسیر، الصبر نصف الایمان، 3 / 237، الحدیث: 3718)
(3)
صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان فضیلۃ الصبر، 4 / 76)
قرآن
پاک میں صبر کی اہمیت:
(1) صبر
کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت: وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے
ساتھ ہے۔ (پ10،
الانفال: 46)
(2) صبر
اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان: اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و
قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا
تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153،
1/ 169)
اللہ
تعالیٰ نے مشکلات سے نکلنے کا جو نسخہ دیا ہے، وہ صبر اور نماز ہے۔ یہ
دو اعمال مومن کی ڈھال ہیں۔
صبر ایک
ایسا جوہر ہے جو انسان کو نہ صرف دنیاوی مشکلات سے نجات دیتا ہے بلکہ اسے اللہ کا
محبوب بندہ بنا دیتا ہے۔ قرآن مجید ہمیں بار بار صبر کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ صبر ہی وہ کنجی ہے جو
ہر بند دروازے کو کھول سکتی ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں صبر کو اپنائیں، خاص طور پر آزمائش کے وقت، اور اللہ کی
رضا پر راضی رہیں، کیونکہ کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے جو صبر کے دامن کو تھامے
رکھتے ہیں۔
صبر ایک
ایسی اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جو انسان کو زندگی کے ہر میدان میں مضبوط، پُر سکون اور
کامیاب بناتی ہے۔ قرآن مجید نے صبر کو ایمان کی بنیاد اور کامیابی
کی کنجی قرار دیا ہے۔ انسانی زندگی خوشی اور غم، راحت اور مصیبت،
آسانی اور سختی کا مجموعہ ہے۔ ان
سب میں ثابت قدم رہنا ہی اصل صبر ہے۔
قرآن میں
صبر کی اہمیت: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کی
تاکید فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ کنزالایمان ! اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو۔ (سورۃ آل عمران: 200)
اس آیت
میں صبر کو فلاح یعنی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ جو
شخص صبر کو اپناتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔
اللہ کی معیت صبر کرنے والوں کے ساتھ: قرآنِ
کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
یہ آیت
صبر کرنے والوں کے لیے سب سے بڑی بشارت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، یعنی ان کی مدد، رہنمائی اور نصرت ان کے شاملِ
حال رہتی ہے۔
صبر پر اجر و انعام: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یہ آیت
صبر کرنے والوں کے اجر کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسرے اعمال کا بدلہ حساب کے مطابق ملے گا، لیکن صبر کا بدلہ اللہ تعالیٰ
اپنی بے پایاں رحمت کے مطابق عطا فرمائے گا۔
مصیبت کے وقت صبر کی تعلیم: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور
پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ دنیا کی مصیبتیں ایمان والوں کے لیے آزمائش ہیں اور صبر کرنے والے
وہ ہیں جو ان حالات میں اللہ سے راضی رہتے ہیں ۔
صبر کرنے والوں کی پہچان: قرآنِ
کریم نے صبر کرنے والوں کا طرزِ عمل یوں بیان کیا ہے: الَّذِیْنَ اِذَاۤ
اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان: وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی
ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 156)
یہ
جملہ مؤمن کے دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے، جس میں یقین، رضا اور تسلیم کا جذبہ پوشیدہ
ہے۔ یہی
رویہ مومن کو غم سے سکون اور مصیبت میں صبر عطا کرتا ہے۔
انبیائے کرام کی سیرت میں صبر: قرآن نے انبیاء علیہم السلام کے صبر کو مثال بنا کر پیش کیا: فَاصْبِرْ
كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم
صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
حضرت ایوب
علیہ السلام نے سخت بیماری کے باوجود صبر کیا، حضرت یوسف علیہ السلام نے قید و ظلم
کے باوجود شکایت نہ کی، اور نبی اکرم ﷺ نے طائف کی اذیتیں برداشت کر کے بھی فرمایا:
اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ نہیں جانتے۔ یہی
صبر کا اعلیٰ مقام ہے۔
صبر، نماز اور دعا کا تعلق:قرآن میں ارشاد ہے: وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے
مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
یہ آیت
ہمیں سکھ آتی ہے کہ مصیبت کے وقت مومن کا سہارا دو چیزیں ہیں صبر اور نماز۔ صبر دل کو مضبوط کرتا ہے اور نماز روح کو سکون بخشتی ہے۔
صبر کا حقیقی مفہوم: صبر کا مطلب صرف مصیبت پر برداشت نہیں بلکہ
ہر حالت میں اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہنا ہے۔
گناہ
سے رکنے میں صبر
عبادت
پر قائم رہنے میں صبر
تقدیر
پر راضی رہنے میں صبر
یہ تینوں
پہلو قرآن کے صبر کے جامع مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔
صبر ایک
ایسی روشنی ہے جو غم کے اندھیروں میں انسان کو امید دیتی ہے۔
قرآنِ
کریم نے ہمیں سکھایا کہ صبر محض برداشت نہیں بلکہ ایمان کی علامت، اللہ کی رضا کا
راستہ، اور کامیابی کا زینہ ہے۔ جو
صبر کرتا ہے، وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی بندوں کو پسند
فرماتا ہے۔ وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ
کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران : 146 )
اے
اللہ! ہمیں ان بندوں میں شامل فرما جو ہر حال میں صبر کرنے والے، شکر گزار اور تیری
رضا پر راضی رہنے والے ہوں۔ آمین۔
مُحمّد
یاسر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
صبر کی
تعریف: صبر کا
مطلب ہے مشکلات اور مصائب کے وقت ثابت قدم رہنا، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا یہ
ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں سکون اور اطمینان دیتی ہے۔
صبر کی
اہمیت: صبر کی
اہمیت کو قرآن و حدیث میں بہت زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللہ
وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(۱۲۷) ترجمۂ
کنز العرفان:اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ
کھاؤ اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو ۔ (پ14، النحل:127)
اسی
طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ
مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمۂ کنز العرفان: ان کو ان کا اجر دُگنا دیا جائے گاکیونکہ
انہوں نے صبر کیا۔ (پ 20،
القصص: 54)
ان
لوگوں کو دگنا اجر دیاجائے گا کیونکہ وہ پہلی کتاب پر بھی ایمان لائے اور قرآ نِ
پاک پر بھی اوریہ ان کے اس صبر کا بدلہ ہے جو انہوں نے اپنے دین پر اور مشرکین کی
طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر کیا۔
ایک
اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ
حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی
کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
صبر
کرنے کے بہت سے فائدے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
صبر
کرنے سے انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں سکون اور اطمینان ملتا ہے۔
صبر
کرنے سے انسان مشکلات کے وقت ثابت قدم رہنے کی طاقت حاصل کرتا ہے۔
صبر کرنے سے انسان اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی
طاقت حاصل کرتا ہے۔
صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دگنا اجر دیتا ہے۔
صبر کرنے والوں کو جنت کی نعمتوں سے نوازا جائے
گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں ریشمی لباس پہنایا
جائے گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں تختوں پر تکیہ لگانے
کی نعمت ملے گی۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں گرمی اور سردی کی تکلیف
سے بچایا جائے گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں درختوں کے سائے کی
نعمت ملے گی۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں گچھوں کی فراوانی ملے
گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کی توفیق عطا فرمائے اور
ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے کی طاقت دے۔ آمین۔
محمد ثاقب (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
صبر
انسان کی زندگی کا وہ قیمتی زیور ہے جو ہر دکھ، آزمائش، اور مشکل گھڑی میں اسے
استقامت اور حوصلے کا درس دیتا ہے۔ صبر دراصل مومن کی پہچان ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر تکلیف کے پیچھے اللہ
تعالیٰ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کی بارہا تعریف کی گئی ہے، اور ان کے لیے
اجرِ عظیم کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ صبر نہ صرف مصیبت میں برداشت کا نام ہے بلکہ یہ ایمان کی پختگی، دل کی
مضبوطی، اور اللہ پر کامل بھروسے کی علامت ہے۔ جس
دل میں صبر کا چراغ جلتا ہے، وہ کبھی ناامیدی کے اندھیروں میں نہیں ڈوبتا جیسا کہ
قرآن میں ہے:
(1)صبر
کرنے والوں کو اللہ کا ساتھ حاصل ہوتا : قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و
قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا
تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
(2)صبر
کے بدلے جنت اور انعامات: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
اس آیت
اورا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو
گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں
داخل کرے گا اور انہیں ریشمی لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے
ہوں گے اور دنیا کی طرح وہا ں انہیں گرمی یا سردی کی کوئی تکلیف نہ ہوگی اور جنتی
درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور جنت کے درختوں کے گُچھے جھکا کر نیچے
کردئیے گئے ہوں گے تاکہ وہ کھڑے ،بیٹھے ،لیٹے ہر حال میں باآسانی گچھے لے سکیں اور
جیسے چاہے کھا سکیں ۔ (خازن، الانسان، تحت الآیۃ: 12-14، 4 / 340)
(3)صبر کرنے
والوں کا اجر بے حساب: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
تفسیر
صراط الجنان:صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ یعنی جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی
حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین
کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے
حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ (
ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)
(4)انبیاء
کرام کی صبر کی مثال: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ
مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت
والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
قرآن مجید میں اللہ پاک نےبارہا صبر کرنے والوں
کو نہ صرف اللہ کی قربت کی خوشخبری دی گئی ہے بلکہ انہیں ہدایت، رحمت اور جنت کے
وعدے سے بھی نوازا گیا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں آزمائشوں میں مضبوطی، نافرمانی سے بچاؤ میں استقامت، اور عبادات میں پابندی تاکہ ہم
اللہ پاک کے ان بندوں میں شمار ہو سکیں جن کے بارے میں فرمایا گیا: اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ بیشک
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اللہ پاک ہمیں
قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خیر
بخش عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،
پاکستان)
صبر دینِ
اسلام کا ایک اعلیٰ ترین وصف ہے جو مومن کے ایمان، کردار اور روحانی بلندی کی
علامت ہے۔ قرآنِ کریم میں صبر کا ذکر بار بار آیا ہے اور
اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اپنے خاص انعامات اور قرب کی خوشخبری دی ہے
صبر کی تعریف : صبر کے
لغوی معنی رکنے ،ٹھرنے،یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا ( یعنی ڈٹ
جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا ) کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز
سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل یا شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے ۔
صبر کی اقسام : صبر کی دو قسمیں ہیں :
(1)بدنی
صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا
(2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر
کرنا
پہلی
قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے
قابل صبر کی دوسری قسم ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان ،پ2بقرہ،تحت الایۃ
246/1،153)
صبر کا حکم :شریعت نے جن کاموں سے منع کیا
ہے ان سے صبر (یعنی رکنا) فرض ہے اور نا پسندیدہ کام (جو شرعاً گناہ نہ ہو) سے صبر
مستحب ہے ۔
اور
تکلیف دہ جو فعل شرعاً ممنوع ہے اس پر صبر (خاموشی) ممنوع ہے ۔
مثلاً
کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ ناحق کاٹا جائے تو اس شخص کا خاموش رہنا اور صبر
کرنا ممنوع ہے ۔ اور ایسے
ہی جب کوئی شخص شہوت کے ساتھ بُرے ارادے سے اس کے گھر والوں کی طرف بڑھے تو اس کی
غیرت بھڑک اٹھے لیکن غیرت کا اظہار نہ کرے اور گھر والوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے
اس پر صبر کرے اور قدرت کے باوجود نہ روکے تو شریعت نے اس صبر کو حرام قرار دیا ہے
۔ (احیاء العلوم ،206/4)
قرآن مجید میں صبر کی اہمیت:
قال
اللہ تبارک و تعالیٰ وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمۂ
کنز العرفان: اور صبر کرو، بیشک اللہ
صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ (پ10، الانفال: 46)
قال
اللہ تبارک و تعالیٰ: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب
اجر و ثواب دیاجائے گا۔ یہاں ان کے اجرو ثواب سے متعلق حدیثِ پاک
بھی ملاحظہ ہو
حضرت
علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی
کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے
حساب دیا جائے گا۔ (
خازن، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 51)
قال اللہ تبارک و تعالیٰ:وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور
پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ:
155)
قال
اللہ تبارک و تعالیٰ لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ
اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ- وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا
الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ
اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ضرور تمہاری
آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں
سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ (پ4،آل عمران: 186)
قال
اللہ تبارک و تعالیٰ وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ترجمہ کنز العرفان : اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر
کیا۔ (پ13، الرعد: 22)
یعنی نیکیوں اور مصیبتوں پر صبر کیا اور گناہوں
سے باز رہے
صبر کے 3 مراتب :
علامہ صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’
’صبر کے تین مرتبے ہیں ۔ (1)گناہ سے صبر کرنا یعنی گناہ سے بچنا۔ (2) نیکیوں پر صبرکرنا یعنی اپنی طاقت کے مطابق ہمیشہ نیک اعمال کرنا۔ (3) مصیبتوں پر صبر کرنا۔ ان
سب سے اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ شہوات یعنی نفسانی خواہشات سے صبر کرنا کیونکہ یہ اولیاء
اور صدیقین کا مرتبہ ہے۔ (جلالین مع صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: 3،22
/ 1001)
صبر کی فضیلت پر فرمان مصطفٰے :
حضور نبی رحمت ،شفیع امت ﷺ کا فرمان جنت نشان ہے
کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کو اس کے جسم ،مال یا اولاد کے
آزمائش کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں پھر وہ صبر جمیل کے ساتھ اس کا استقبال کرے
تو قیامت کے دن مجھے حیا آئے گی کہ اس کے لیے میزان قائم کروں یا اس کا نامہ اعمال
کھولوں ۔ ( نوادر الاصول الاصل الخامس و الثمانون والمئۃ
،277/4،حدیث :962)
اللہ
تعالیٰ ہمیں عافیت نصیب فرمائے اور مَصائب و آلام آنے کی صورت میں صبر کرنے کی
توفیق عطا فرمائے، اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صبر کو ایمان کی
علامت اور نجات کی کنجی قرار دیا ہے۔ مومن کی زندگی خوشی اور غم، راحت اور تکلیف کے درمیان گزرتی ہے۔ ایسے
حالات میں صبر ہی وہ صفت ہے جو بندے کو ثابت قدم رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی
رحمتوں کا مستحق بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَ
اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو
بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10،
الانفال: 46)
یہ آیت
مبارکہ صبر کی اہمیت کو واضح کر رہی ہے کہ صبر کرنے والا تنہا نہیں ہوتا بلکہ اللہ
تعالیٰ اس کا ساتھی ہوتا ہے۔
ایک
اور مقام پر فرمایا:اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ
حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ
کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
اس آیت
سے ہمیں معلوم ہو کہ جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے
عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت
کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور
ثواب دیا جائے گا۔ (
ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت
ہے،رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے
دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے
(اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب) بارش ہوگی یہاں
تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں
گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے(
تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔ ( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن
ابن عباس، 12 / 141، الحدیث:
12829)
حضرت
علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی
کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے
حساب دیا جائے گا۔ (
خازن، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 51)
حضرت سیدنا
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان کسی
مصیبت میں مبتلا ہوا اور اس نے کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ، اَللّٰهُمَّ
اَجِرْنِیۡ فِیۡ مُصِیْبَتِیۡ وَ اخْلُفْ لِیۡ خَیْرًا مِّنْهَا، تو
اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر عطا فرماتا ہے اور اس سے بہتر چیز اس کو دیتا
ہے۔ (مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ ، حدیث: 918)
صبر کا
ایک حسین نمونہ حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی ہے۔ برسوں تک بیماری اور سخت آزمائش کے باوجود انہوں نے صبر اور شکر کے ساتھ
اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا عملی مظاہرہ کیا۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر یوں ہے:اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ
الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان: بے شک ہم نے اسے صبر
کرنے والا پایا ۔ وہ کیا
ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23، صٓ: 44)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ صبر بندے کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کتنا بلند مرتبہ عطا کرتا
ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار
ہوں گے۔ ( ابن
عساکر، ذکر من اسمہ: ایوب، ایوب نبیّ اللہ ، 10 / 66)
معلوم
ہو کہ صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے
قریب کر دیتی ہے۔ صبر کرنے والے اللہ کے خاص محبوب بندے ہیں اور
ان کے لیے بے حساب اجر اور اللہ تعالیٰ کی معیت کی بشارت ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں صبر کو اختیار کرے تاکہ دنیا و
آخرت کی کامیابیاں اس کا مقدر بن جائیں۔
عبد
الحسیب عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان کنز الایمان ،کراچی ، پاکستان)
صبر کے
معنی ہیں روکنا، اصطلاح میں کامیابی کی امید سے
مصیبت پر بے قرار نہ ہونے کو صبر کہتے ہیں۔ (تفسیر نعیمی جلد 1 ص299) اللہ پاک اپنے بندوں
کو کبھی راحتیں عطا فرماتا ہے اور کبھی آزمائشوں کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ
ظاہر ہو جائے کون بندہ صبر و شکر کے راستے پر قائم رہتا ہے صبر بھلائیوں کے خزانوں
میں سے ایک خزانہ ہے ،صبر مومن کا ہتھیار اور نصف ایمان ہے قرآن کریم میں متعدد
مقامات پر صبر کی اہمیت، صبر کرنے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور صبر کرنے کا
حکم دیا گیا ہے۔ آئیے چند آیات پڑھیے:
(1) اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : اللہ پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان
والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
اس آیت
میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی
مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے۔ فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی
خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے(صراط الجنان 245/1 ) حضرت علامہ نصر بن
محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر
ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں
معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر
سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 /169 )
(1) صبر کرنے والوں کے لیے انعام الٰہی :- وَ
بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ
اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)
ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری
سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے
ہیں : ہم اللہہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ
وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 155تا157)
پہلی
آیت میں مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی اور (پھر) یہ بتایاگیا
کہ صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم
اللہ تعالیٰ ہی کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور آخرت
میں ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (جلالین، البقرۃ، تحت الایۃ: 156، ص22 )
سبحان اللہ صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں ، ان کیلئے بخشش اور ہدایت
و رحمت ہے۔ (صراط
الجنان 253/1 ) صبر کی ایک بہت عمدہ صورت یہ ہے کہ مصیبت زدہ کو دیکھ کر اندازہ ہی
نہ ہو کہ یہ مصیبت میں ہے۔ (تفسیر تعلیم القرآن 64/1)
(3) صابرین کے لیے بے حساب اجر : اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا
ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یعنی
جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ
کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی
نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ ( ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 /
461)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت
ہے،رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے
دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے
(اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب) بارش ہوگی یہاں
تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں
گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے(
تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔ ( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن
ابن عباس، 12 / 141، الحدیث: 12829)
(4) آقائے دو جہاں ﷺ کو صبر کا حکم : صبر ایسا
پیارا عمل ہے کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو متعدد مقامات میں صبر کا حکم دیا چنانچہ
فرمایا: فَاصْبِرْ
كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر
کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
ایک
جگہ ارشاد فرمایا:فَاصْبِرْ صَبْرًا
جَمِیْلًا(۵) ترجمۂ کنز العرفان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29، المعارج:5)
(5) صبر کرنا سنت انبیاء ہے : اللہ نے پیارے آقا ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
وَ
لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ
اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ کنز العرفان: اورآپ سے
پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر
کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
اس آیت
میں مبلغین کیلئے بھی تسلی ہے کہ اگر انہیں راہِ تبلیغ میں مشقتیں پیش آئیں تو وہ
انبیاء علیہ السلام کی تکالیف کو یاد کرکے صبر اختیار کریں۔ (صراط الجنان 97/3)
(6) آدمی بڑا بے صبرا حریص ہے: اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ
هَلُوْعًاۙ (۱۹)اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ (۲۰)وَّ اِذَا مَسَّهُ
الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ (۲۱) ترجمۂ
کنز العرفان: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے ۔ جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والاہوجاتا
ہے۔ اور
جب اسے بھلائی پہنچے تو بہت روک رکھنے والاہوجاتا ہے۔ (پ29،المعارج19تا21)
یعنی انسان کی حالت یہ ہے کہ اسے کوئی ناگوار
حالت پیش آتی ہے تو اس پر صبر نہیں کرتا
اور جب مال ملتا ہے تو اس کو خرچ نہیں کرتا۔ (تفسیر خزائن العرفان،ص1054)
آخر میں وہ دعا کرتے ہیں جو جادوگروں نے موسی علیہ
السلام پر ایمان لانے کے بعد کی تھی رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ
تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠(۱۲۶) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم پر صبر
انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا۔ (پ9،الاعراف:
126)
اللہ
ہمیں صبر جمیل عطا فرمائے اور ہر حال میں اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین بجاہ نبی الامین ﷺ
محمد
شہریار ظفر (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ
امام اعظم گوجرخان ، پاکستان)
صبر کی
تعریف:’’صبر‘‘
كےلغوی معنى ركنے یا ٹھہرنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل
اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔
بنیادی
طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں :
(1) بدنی
صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا
(2) طبعی
خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔
پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابل
تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ44، 45)
قرآن میں
صبر کا مقام:
(1) صبر
کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے: چنانچہ اللہ پاک قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں
ارشاد فرماتاہے: وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ
کنزالعرفان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ صبر کرنے والا شخص اللہ پاک کی خاص مدد کا حقدار بنتا ہے۔
(2)صبر کرنے والوں کو اجر بے حساب ملے گا : چنانچہ
اللہ پاک قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے: اِنَّمَا یُوَفَّى
الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے
خوش نصیب ہیں۔ کیونکہ
قیامت کے دن انہیں بے حساب اجر و ثواب دیاجائے گا۔
(3) اور
نماز کے ذریعے مدد لو: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ کنز العرفان: اور صبر
اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ (پ1، البقرۃ:45)
سبحان
اللہ! کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔ صبر کی وجہ سے قلبی قوت میں اضافہ ہے اور نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ سے
تعلق مضبوط ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں پریشانیوں کو برداشت کرنے اور انہیں دور
کرنے میں سب سے بڑی معاون ہیں۔
(4)
صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں: رب العالمین کا ارشاد ہے کہ اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ
رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) ترجمہ
کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی
لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں ، ان کیلئے بخشش اور
ہدایت و رحمت ہے۔
(5) اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : ارشادِ
باری تعالیٰ ہے: وَ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۲۴۹) ترجمہ
کنزالعرفان:اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ، 249)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ جو صابرین(صبر کرنے والے) ہوتے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے ساتھ
ہوتا ہے۔
(6) اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ محبت بھی
فرماتا ہے :
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ
کنزالعرفان: اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ جو صابرین(صبر کرنے والے) ہوتے ہیں۔ ہر
معاملے میں اللہ پاک کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے محبت فرماتا ہے۔
(7) صبر
کرنا اور اچھے کام کرنا بخشش کے کام ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
انہیں
جب کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ
عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے
بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں صبر و
استقامت کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری بےحساب بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
محمد
اسد رشید (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان کنزالایمان رائیونڈ پاکستان
صبر
انسان کی زندگی کا وہ حسین وصف ہے جو ایمان کو مضبوط اور دل کو پرسکون بناتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو ایک اعلیٰ درجہ اور ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ یہ
وہ اخلاقی صفت ہے جو انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے
قرب تک پہنچاتی ہے۔ صبر دراصل اللہ کے فیصلے پر راضی رہنے کا نام
ہے۔
اسلام
نے مومن کو یہ درس دیا ہے کہ زندگی کی ہر مشکل میں گھبراہٹ نہیں بلکہ سکون و صبر
اختیار کیا جائے۔ صبر صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ
نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا نام بھی ہے۔ یہی
صبر بندے کو کامیاب اور اللہ کے قریب کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)
ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ
وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
الَّذِیْنَ
اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی
کی طرف پھرنا۔ (پ2، البقرۃ:
156)
وَ
اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ
ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب تم صبر
کرواور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ (پ14، النحل:127)
اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا
ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
حضور ﷺ
نے فرمایا: مومن کا حال عجیب ہے، ہر حال میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے خوشی
ملے تو شکر کرتا ہے، اور اگر مصیبت پہنچے تو صبر کرتا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث 2999)
قرآن مجید کے ان مبارک بیانات سے معلوم ہوتا ہے
کہ صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل ہے۔ صبر انسان کو غم، خوف اور تکلیف میں مضبوط رکھتا ہے۔ جو
بندہ صبر کرتا ہے وہ دراصل اللہ کے فیصلے پر راضی ہوتا ہے، اور یہی رضا انسان کو
اللہ کے قرب تک پہنچاتی ہے۔
صبر مومن کی پہچان، نجات کا ذریعہ اور کامیابی کی
کنجی ہے۔ صبر کرنے والا دنیا میں سکون اور آخرت میں بے
حساب اجر پاتا ہے۔
اللہ
پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ذیشان علی عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور پاکستان)
قران
کریم اللہ پاک کے عظیم اور لاریب کتاب ہے جس جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے قرآن
پاک میں جس طرح عبادات اور گزشتہ امتوں کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے اسی طرح اس میں
صبر کے فضائل اور اس کے انعامات کو بیان کیا گیا ۔ آئیے ہم بھی قرآن پاک سے صبر کا بیان پڑھتے ہیں :
(1) صبر
کرنے والوں کے لیے خوشخبری: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ
صابروں کے ساتھ ہے۔ ٍ(پ2، البقرۃ: 153)
(2)
آزمانا: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
(3)
دشمنوں سے آگے رہنا: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان
والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی
کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)
(4) صبر
کرو: وَ اَطِیْعُوا اللہ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا
تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللہ
مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ
کنز الایمان: اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر
بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو بےشک اللہ صبر
والوں کے ساتھ ہے۔ (پ 10
، الانفال: 46)
(5) صبر
کرنے والوں کے لیے بخشش اور بڑا ثواب:اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا
اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
اللہ
پاک ہمیں صبر کرنے اور اس پر اجر پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
عدنان عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم چھانگا مانگا ضلع قصور
،پاکستان)
صبر ایک
ایسی خصلت ہے جو انسان کے ایمان، عقل، اور کردار کی پختگی کا مظہر ہے۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کا ذکر آیا ہے اور اہلِ صبر کے لیے بے
شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ دراصل صبر وہ چراغ ہے جو مومن کو آزمائشوں کی تاریکی میں استقامت کی
روشنی عطا کرتا ہے۔
صبر کی تعریف: امام
راغب اصفہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صبر
کا معنی ہے: نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کرتی ہے، یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل و شریعت مطالبہ کرے۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص 474)
صبر کی اقسام: امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:
صبر کی دو بنیادی اقسام ہیں:
1 بدنی
صبر جیسے جسمانی مشقتیں برداشت کرنا۔
2 نفسی
صبر یعنی خواہشات کے تقاضوں پر قابو پانا۔
پہلا
صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابلِ تعریف ہے، لیکن کامل تعریف کے لائق دوسرا صبر
ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، ج4، ص82)
قرآنِ کریم میں صبر کا تذکرہ:
(1) صبر سے مدد حاصل کرنا: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
مشکلات
کا مقابلہ بندہ صبر کے ہتھیار اور نماز کی پناہ سے کرے، کیونکہ اللہ کی معیت اہلِ
صبر کے ساتھ ہے۔
(2) مصیبت میں
صبر کی آزمائش : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ
بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ
الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں
آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور
خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ:
155)
آزمائشیں زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ کامیابی ان کے لیے ہے جو مصیبت کے وقت إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَیْهِ
رَاجِعُونَ کہتے
ہوئے صبر کرتے ہیں۔
(3) اہلِ
صبر پر رحمت و ہدایت:اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ
رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (۱۵۷) ترجمۂ
کنز الایمان: یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیںہیں
اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 157)
(4) میدانِ
جنگ میں صبر: وَ
اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو
بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)
(5) صبر کا
بدلہ: اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23،
الزمر: 10)
اللہ
تعالیٰ نے اہلِ صبر کو اجر بغیر حساب دینے کا وعدہ فرمایا۔ یعنی
ان کا صبر کسی پیمانے میں نہیں تولا جائے گا بلکہ لامحدود انعامات سے نوازا جائے
گا۔
(6) دنیا کی
فانی نعمتوں کے مقابلے میں صبر: - وَ لَنَجْزِیَنَّ
الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر
ضرور دیں گے۔ (پ14،
النحل:96)
دنیا کی
نعمتیں ختم ہونے والی ہیں، مگر صبر کرنے والوں کے لیے دائمی بدلہ محفوظ ہے۔
(7) انبیاء
کا صبر: وَ
كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا
لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ
اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے
جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے
والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے)
دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (پ
4 ، آل عمران : 146 )
انبیاء
کرام اور ان کے پیروکاروں نے اللہ کی راہ میں جو صبر دکھایا، وہی ان کی کامیابی کا
راز تھا۔
(8) اہلِ ایمان
کا قولِ صبر: رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ
تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠(۱۲۶) ترجمۂ
کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا۔ (پ9،الاعراف:
126)
یہ دعا
ایمان والوں کا شعار ہے کہ وہ صبر کو خود سے نہیں بلکہ اللہ سے مانگتے ہیں۔
(9) صبر اور
عملِ صالح کی بنیاد: وَ تَوَاصَوْا
بِالصَّبْرِ۠(۳) ترجمۂ
کنز الایمان:ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ (پ30، العصر:3)
یہ سورۃ
انسان کی نجات کا فارمولا پیش کرتی ہے: ایمان، عملِ صالح، حق کی دعوت، اور صبر کی
تلقین۔
(10) عبادت
میں صبر: وَ اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (پ1،
البقرۃ:45)
عبادت
میں صبر کا مطلب ہے دل جمعی سے عبادت کرنا، خواہ نفس کو مشقت محسوس ہو۔
صبر
صرف مشکلات میں خاموشی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط ایمانی رویہ ہے جو انسان کو
اللہ کی رضا پر قائم رکھتا ہے۔ قرآنِ
کریم نے صبر کو کامیابی، ہدایت، اور جنت کی کنجی قرار دیا ہے۔ اہلِ صبر دراصل وہ ہیں جو ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنے والے، اور اپنی
خواہشات کو شریعت کے تابع رکھنے والے ہوتے ہیں۔
فراز
عزیز پنہور ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
عثمان غنی کراچی ،پاکستان)
’’صبر‘‘
كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا (یعنی ڈٹ
جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا)کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز
سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔
بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی
صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا۔ (2) طبعی
خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور
پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ44، 45)
زندگی
میں خوشی اور دکھ، آسانی اور مشکل، کامیابی اور ناکامی یہ سب انسان کے سفر کا حصہ
ہیں۔ ان
حالات میں جو چیز انسان کو مضبوط، پرعزم اور متوازن رکھتی ہے، وہ صبر ہے۔ صبر انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اسلام نے صبر کو بہت بلند مقام دیا ہے۔ قرآن و حدیث میں صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کی رحمت، مدد اور عظیم اجر کی
بشارتیں دی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے صبر کو کامیابی اور سکونِ زندگی کا
ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
اب ہم
قرآن پاک سے چند آیات جو صبر سے متعلق ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں:
(1)
بنی اسرائیل کا صبر اور اس وجہ سے ان پر ہونے والے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ
الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا
الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَاؕ-وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى
بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا صَبَرُوْاؕ-وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ
فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ(۱۳۷) ترجمہ کنز العرفان : اور ہم نے اس قوم کو
جسے دبایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنادیا جس میں ہم نے
برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ
پورا ہوگیا اور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی
اور وہ عمارتیں جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔ (پ9، الاعراف:137)
اس آیت
کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اس سر زمین میں اللہ تعالیٰ نے نہروں ، درختوں
، پھلوں ، کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے برکت رکھی تھی اس طرح بنی اسرائیل پر ان
کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا۔
(2) جب
بندہ صبر کرتا ہے تو اس کی طاقت دگنی ہوج آتی ہے اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ
پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ
حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِؕ-اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ
صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ
یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا
یَفْقَهُوْنَ(۶۵) اَلْ۔ ٰٔنَ خَفَّفَ اللہ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ
ضَعْفًاؕ-فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا
مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ
اللّٰهِؕ-وَ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۶۶)
ترجمہ کنز العرفان : اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو، اگر تم
میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو
ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ کافر سمجھ نہیں رکھتے۔ اب
اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمادی اور اسے علم ہے کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو
صبر کرنے والے ہوں تود و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ہزار ہوں تو اللہ
کے حکم سے دو ہزار پر غالب ہوں گے اوراللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 65، 66)
(3) ہر
آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ میں بخشا جاؤں۔ تو
اللہ تعالی نے اس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ۔ اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
(4)
امتحان دنیاوی بھی ہوتے ہیں اخروی بھی حقیقی کامیاب وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہو
جائے۔ صبر بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جو آخرت میں اچھے انجام کے لیے مددگار ہوتی
ہیں ۔ چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے: وَ
الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ
اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ
بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲) ترجمہ کنز العرفان : اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر
کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں پوشیدہ اور
اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہیں کے لئے آخرت کا
اچھا انجام ہے۔ (پ13، الرعد: 22)
(5) رضائے الہٰی کے لئے
صبر کرنے کی فضیلت:اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے
کی نیت سے صبر کرنے کی بہت فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: - وَ
بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں
کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے
ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155، 156)
سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴) ترجمہ کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر
ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)
(6)
اللہ پاک کے لئے ہجرت کرنا اور اپنا وطن چھوڑنا۔ تکلیفوں پر صبر کرنا اس کی جزاء بھی بڑی ہے۔ ملاحظہ
کیجئے۔
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں نے صبر کیا
اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
اس کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس
وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور
ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔ یونہی
کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا ۔
(7)
ایک اور آیت میں بھی اس بات کا ذکر ہے: ثُمَّ
اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا
وَ صَبَرُوْۤاۙ-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۱۰) ترجمہ کنز العرفان : پھر بیشک تمہارا رب ان
لوگوں کے لیے جنہوں نے تکلیفیں دئیے جانے کے بعد اپنے گھر بار چھوڑے پھر انہوں نے
جہاد کیا اورصبر کیا بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ14،النحل:
110)
ہم نے
چند آیات کا جائزہ لیا جس سے ہمیں پتا چلا کہ صابرین کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ آخرت میں اللہ پاک ان کو اپنے انعامات سے نوازتا ہے، اس کی طاقت دگنی ہوج
آتی ہے ۔
ہمیں
چاہیے کہ صبر کے دامن کو تھام کے رکھیں تاکہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والے ثواب
اور انعامات کے حق دار ہو سکیں۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami