صبر دینِ اسلام کا ایک اعلیٰ ترین وصف ہے جو مومن کے ایمان، کردار اور روحانی بلندی کی علامت ہے۔ قرآنِ کریم میں صبر کا ذکر بار بار آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اپنے خاص انعامات اور قرب کی خوشخبری دی ہے

صبر کی تعریف : صبر کے لغوی معنی رکنے ،ٹھرنے،یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا ( یعنی ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا ) کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل یا شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے ۔

صبر کی اقسام : صبر کی دو قسمیں ہیں :

(1)بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا

(2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا

پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان ،پ2بقرہ،تحت الایۃ 246/1،153)

صبر کا حکم :شریعت نے جن کاموں سے منع کیا ہے ان سے صبر (یعنی رکنا) فرض ہے اور نا پسندیدہ کام (جو شرعاً گناہ نہ ہو) سے صبر مستحب ہے ۔

اور تکلیف دہ جو فعل شرعاً ممنوع ہے اس پر صبر (خاموشی) ممنوع ہے ۔

مثلاً کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ ناحق کاٹا جائے تو اس شخص کا خاموش رہنا اور صبر کرنا ممنوع ہے ۔ اور ایسے ہی جب کوئی شخص شہوت کے ساتھ بُرے ارادے سے اس کے گھر والوں کی طرف بڑھے تو اس کی غیرت بھڑک اٹھے لیکن غیرت کا اظہار نہ کرے اور گھر والوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر صبر کرے اور قدرت کے باوجود نہ روکے تو شریعت نے اس صبر کو حرام قرار دیا ہے ۔ (احیاء العلوم ،206/4)

قرآن مجید میں صبر کی اہمیت:

قال اللہ تبارک و تعالیٰ وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمۂ کنز العرفان: اور صبر کرو، بیشک اللہ صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ (پ10، الانفال: 46)

قال اللہ تبارک و تعالیٰ: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب اجر و ثواب دیاجائے گا۔ یہاں ان کے اجرو ثواب سے متعلق حدیثِ پاک بھی ملاحظہ ہو

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔ ( خازن، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 51)

قال اللہ تبارک و تعالیٰ:وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

قال اللہ تبارک و تعالیٰ لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ- وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ (پ4،آل عمران: 186)

قال اللہ تبارک و تعالیٰ وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ترجمہ کنز العرفان : اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر کیا۔ (پ13، الرعد: 22)

یعنی نیکیوں اور مصیبتوں پر صبر کیا اور گناہوں سے باز رہے

صبر کے 3 مراتب :

علامہ صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’ ’صبر کے تین مرتبے ہیں ۔ (1)گناہ سے صبر کرنا یعنی گناہ سے بچنا۔ (2) نیکیوں پر صبرکرنا یعنی اپنی طاقت کے مطابق ہمیشہ نیک اعمال کرنا۔ (3) مصیبتوں پر صبر کرنا۔ ان سب سے اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ شہوات یعنی نفسانی خواہشات سے صبر کرنا کیونکہ یہ اولیاء اور صدیقین کا مرتبہ ہے۔ (جلالین مع صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: 3،22 / 1001)

صبر کی فضیلت پر فرمان مصطفٰے :

حضور نبی رحمت ،شفیع امت ﷺ کا فرمان جنت نشان ہے کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کو اس کے جسم ،مال یا اولاد کے آزمائش کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں پھر وہ صبر جمیل کے ساتھ اس کا استقبال کرے تو قیامت کے دن مجھے حیا آئے گی کہ اس کے لیے میزان قائم کروں یا اس کا نامہ اعمال کھولوں ۔ ( نوادر الاصول الاصل الخامس و الثمانون والمئۃ ،277/4،حدیث :962)

اللہ تعالیٰ ہمیں عافیت نصیب فرمائے اور مَصائب و آلام آنے کی صورت میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ