صبر ایک ایسی خصلت ہے جو انسان کے ایمان، عقل، اور کردار کی پختگی کا مظہر ہے۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کا ذکر آیا ہے اور اہلِ صبر کے لیے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ دراصل صبر وہ چراغ ہے جو مومن کو آزمائشوں کی تاریکی میں استقامت کی روشنی عطا کرتا ہے۔

صبر کی تعریف: امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صبر کا معنی ہے: نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کرتی ہے، یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل و شریعت مطالبہ کرے۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص 474)

صبر کی اقسام: امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا: صبر کی دو بنیادی اقسام ہیں:

1 بدنی صبر جیسے جسمانی مشقتیں برداشت کرنا۔

2 نفسی صبر یعنی خواہشات کے تقاضوں پر قابو پانا۔

پہلا صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابلِ تعریف ہے، لیکن کامل تعریف کے لائق دوسرا صبر ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، ج4، ص82)

قرآنِ کریم میں صبر کا تذکرہ:

(1) صبر سے مدد حاصل کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

مشکلات کا مقابلہ بندہ صبر کے ہتھیار اور نماز کی پناہ سے کرے، کیونکہ اللہ کی معیت اہلِ صبر کے ساتھ ہے۔

(2) مصیبت میں صبر کی آزمائش : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

آزمائشیں زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ کامیابی ان کے لیے ہے جو مصیبت کے وقت إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَیْهِ رَاجِعُونَ کہتے ہوئے صبر کرتے ہیں۔

(3) اہلِ صبر پر رحمت و ہدایت:اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (۱۵۷) ترجمۂ کنز الایمان: یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیںہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 157)

(4) میدانِ جنگ میں صبر: وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)

(5) صبر کا بدلہ: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

اللہ تعالیٰ نے اہلِ صبر کو اجر بغیر حساب دینے کا وعدہ فرمایا۔ یعنی ان کا صبر کسی پیمانے میں نہیں تولا جائے گا بلکہ لامحدود انعامات سے نوازا جائے گا۔

(6) دنیا کی فانی نعمتوں کے مقابلے میں صبر: - وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر ضرور دیں گے۔ (پ14، النحل:96)

دنیا کی نعمتیں ختم ہونے والی ہیں، مگر صبر کرنے والوں کے لیے دائمی بدلہ محفوظ ہے۔

(7) انبیاء کا صبر: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (پ 4 ، آل عمران : 146 )

انبیاء کرام اور ان کے پیروکاروں نے اللہ کی راہ میں جو صبر دکھایا، وہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔

(8) اہلِ ایمان کا قولِ صبر: رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠(۱۲۶) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا۔ (پ9،الاعراف: 126)

یہ دعا ایمان والوں کا شعار ہے کہ وہ صبر کو خود سے نہیں بلکہ اللہ سے مانگتے ہیں۔

(9) صبر اور عملِ صالح کی بنیاد: وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳) ترجمۂ کنز الایمان:ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ (پ30، العصر:3)

یہ سورۃ انسان کی نجات کا فارمولا پیش کرتی ہے: ایمان، عملِ صالح، حق کی دعوت، اور صبر کی تلقین۔

(10) عبادت میں صبر: وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (پ1، البقرۃ:45)

عبادت میں صبر کا مطلب ہے دل جمعی سے عبادت کرنا، خواہ نفس کو مشقت محسوس ہو۔

صبر صرف مشکلات میں خاموشی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط ایمانی رویہ ہے جو انسان کو اللہ کی رضا پر قائم رکھتا ہے۔ قرآنِ کریم نے صبر کو کامیابی، ہدایت، اور جنت کی کنجی قرار دیا ہے۔ اہلِ صبر دراصل وہ ہیں جو ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنے والے، اور اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع رکھنے والے ہوتے ہیں۔