صبر کی تعریف:‏’’صبر‘‘ كےلغوی معنى ركنے یا ٹھہرنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔

بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں :

(1) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا

(2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔

پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ44، 45)

قرآن میں صبر کا مقام:

(1) صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے: چنانچہ اللہ پاک قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے: وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صبر کرنے والا شخص اللہ پاک کی خاص مدد کا حقدار بنتا ہے۔

(2)صبر کرنے والوں کو اجر بے حساب ملے گا : چنانچہ اللہ پاک قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں۔ کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب اجر و ثواب دیاجائے گا۔

(3) اور نماز کے ذریعے مدد لو: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ کنز العرفان: اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ (پ1، البقرۃ:45)

سبحان اللہ! کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔ صبر کی وجہ سے قلبی قوت میں اضافہ ہے اور نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں پریشانیوں کو برداشت کرنے اور انہیں دور کرنے میں سب سے بڑی معاون ہیں۔

(4) صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں: رب العالمین کا ارشاد ہے کہ اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں ، ان کیلئے بخشش اور ہدایت و رحمت ہے۔

(5) اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۲۴۹) ترجمہ کنزالعرفان:اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ، 249)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو صابرین(صبر کرنے والے) ہوتے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔

(6) اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ محبت بھی فرماتا ہے : ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو صابرین(صبر کرنے والے) ہوتے ہیں۔ ہر معاملے میں اللہ پاک کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے محبت فرماتا ہے۔

(7) صبر کرنا اور اچھے کام کرنا بخشش کے کام ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

انہیں جب کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں صبر و استقامت کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری بےحساب بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ