صبر ان چیزوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے انسان اور جانوروں میں فرق ہوتا ہے۔ انسان اگر صبر کرے تو بہت بڑے بڑے نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ اللہ عزوجل نے بھی قرآن پاک میں صبر کرنے کی تلقین فرمائی،صبر کرنے والوں کی مدح اور نہ کرنے والوں کی مذمّت ارشاد فرمائی۔ آئیے ان آیات میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں:

آیت نمبر 1: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)

تفسیر صراط الجنان: اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں داخل کرے گا اور انہیں ریشمی لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے ۔

آیت نمبر 2: فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵) ترجمۂ کنز العرفان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29،المعارج:5)

آیت نمبر 3: وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللہ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتےتو یہ اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ26، الحجرات:5)

تفسیر صراط الجنان: وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا: اور اگر وہ صبر کرتے:

اس آیت میں ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ انہیں رسولِ کریم ﷺ کوپکارنے کی بجائے صبر اور انتظارکرنا چاہئے تھا۔

آیت نمبر 4: اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱)ترجمہ کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)

آیت نمبر 5: الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)

ترجمہ کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)

تفسیر صراط الجنان: تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔

اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ 


صبر کا کر لغوی معنی رکنے کے ہیں اور اصطلاح میں صبر اس چیز کا نام ہے کہ نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو ۔(المفردات الامام راغب حرف الصاد صفحہ نمبر 474)

صبر ایک ایسی چیز ہے جسے دنیا میں ہر شخص مانتا ہے لیکن اس پر عمل صرف وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں ان کی حقیقت معلوم ہو ۔

رہے صبر کے فضائل تو رب تعالی نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کا ذکر فرمایا ہے اور اکثر درجات اور بھلائیوں کو صبر سے منسوب کیا ہے اور انہیں صبر کا پھل قرار دیا ہے اور صابروں کے لیے ایسے انعامات رکھے ہیں جو کسی اور کے لیے نہیں رکھے چنانچہ ان فضائل میں سے چند قرآنی فضائل بیان کیے جا رہے ہیں :

اے ایمان والو صبر کرو: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ (۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

حضرت سیدنا امام ابو جعفر محمد بن جرید طبری رحمۃ اللہ علیہ تفسیر میں اس آیت مقدسہ کے تحت فرماتے ہیں یعنی اے ایمان والوں اپنے دین اور اس وعدے پر صبر کرو جو میں نے تم سے کیا ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں صبر کرنے میں ان سے آگے بڑھ جاؤ یہاں تک کہ وہ اپنے باطل دین کو چھوڑ کر دامن اسلام سے وابستہ ہو جائیں۔( تفسیر طبری پارہ نمبر چار ال عمران آیت نمبر 200 جلد نمبر تین صفحہ نمبر 562)

مومن کی آزمائش: پارہ نمبر دو سورہ بقرہ آیت نمبر 155 میں جانو مال کے کمی اور بھوک اور خوف پر صبر کرنے والوں کو یوں خوش خبری سنائی گئی ہے : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

حضرت سیدنا امام ابو جعفرمحمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ تفسیر طبری میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: یعنی ہم تمہیں دشمن کے خوف شدید بھوک و فقر و فاقہ فصلوں کی کمی مقاصد کے حصول میں مشکلات کفار سے جنگ کے دوران افرادی قوت میں کمی اور اہل و عیال کی موت وغیرہ کے ذریعے آزمائیں گے اور یہ سب چیزیں ہماری جانب سے بطور امتحان ہوں گی تاکہ تمہارے سچے جھوٹوں سے اور اہل بصیرت منافقوں سے جدا ہو جائیں۔ ( تفسیر طبری پارہ نمبر دو البقرہ تحت آیت155 جلد نمبر دو صفحہ نمبر 44)

صبر کرنا با ہمت لوگوں کا کام ہے: پارہ نمبر 25 سورہ شوریٰ کی آیت نمبر 43 میں فرمان باری تعالی ہے : وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)

حضرت علامہ شیخ محمد اسماعیل حقی حنفی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مایہ ناز تفسیر روح البیان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: درحقیقت صبر جوان مردوں کا کام ہے کہ وہ ہر ظلم و جفا پر صبر کرنے کی قوت رکھتے ہیں حضرت ابو سعید قرشی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: تکالیف و مصائب اور ناگوار امور پر صبر کرنا انتباہ کی علامت ہے یعنی جو ناگوار امر پر صبر کرتا ہے اور جزع و فزع یعنی رونا پیٹنا نہیں کرتا اللہ عزوجل اسے اپنی رضا عطا فرماتا ہے اور صوفیا ئے کرام رحمہ اللہ السلام کے نزدیک رضائے الہی کا حصول بہت بڑے امور میں سے ہے اور جو شخص صبر نہیں کرتا بلکہ جزع و فزع یعنی رونا پیٹنا کرتا ہے۔ اللہ کریم اسے نفس کے سپرد کر دیتا ہے پھر اسے شکوہ شکایت سے بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا بعض مشائخ کرام رحمہم اللہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص تکالیف پر ایسا صبر کرے کہ کسی کے سامنے شکایت نہ کرے بلکہ اپنی مخالف کو معاف کر دے اور اپنے نفس کو اپنے مخالف پر دنیا و آخرت میں کوئی دعوی باقی نہ رکھے تو یہ اس آیت پر عمل کرنا ہے جو ہم نے شروع میں بیان کر دی۔( روح البیان پارہ نمبر 25 سورہ شوری کی آیت نمبر 43 جلد نمبر اٹھ صفحہ نمبر 336 سے 338)

صابرین اور مجاہدین کا امتحان: ارشاد باری تعالی ہے: وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَۙ-وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ(۳۱) ترجمہ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں جانچیں گے یہاں تک کہ دیکھ لیں تمہارے جہاد کرنے والوں اور صابروں کو اور تمہاری خبریں آزمالیں ۔ (پ26، محمد:31)

حضرت سیدنا امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اہل ایمان سے فرمایا : اے مومنو ہم تمہیں قتل اور اپنے دشمنوں سے جہاد کے ذریعے آزمائیں گے تاکہ مجاہدین میں سے ہمارا لشکر اور تمہارے اولیاء پہچانے جائیں اور ہمارے دشمنوں سے جہاد پر صبر کرنے والے پہچانے جائیں دین میں بصیرت رکھنے والے اور شک کرنے والے اسی طرح مومنین اور منافقین پہچانے جائیں اور ہم تم میں سے سچوں اور جھوٹوں کو جانچ لیں۔ (تفسیر طبری پارہ نمبر 26 سورہ محمد آیت نمبر 31 جلد نمبر 11 صفحہ نمبر 325)


صبر بردباری اور استقامت کا نام ہے قرآن میں اللہ پاک نے کئی مقامات پر صبر کا بیان فرمایا ہے اور مختلف معانی کے ساتھ اور حکم فرمایا صبر کے ذریعے مدد حاصل کرو جس کا بیان قرآنِ کریم کی درج ذیل آیات میں ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4، آل عمران: 200)

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِ اللہ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(۱۲۷)

ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ کھاؤ اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو۔ (پ14، النحل:127)

اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)

ترجمۂ کنز الایمان:مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ (پ30، العصر:1تا3)

اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر صبر کا ذکر کیا کبھی صبر بدنی مشقات کو برداشت کرنے کے لیے آتا ہے اس طرح کبھی طبعی خواہشات کے تقاضوں سے صبر کرنا صبر کہلاتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں صبر کرنے کی تلقین عطا فرمائے ۔ آمین 


پیارے اسلامی بھائیو! صبر کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے، اور یہ ہمارے لیے زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے۔ یہ صرف چپ رہنا نہیں، بلکہ دل کا مضبوط فیصلہ ہے کہ ہر دکھ اور پریشانی میں اللہ پر بھروسہ رکھیں۔ صبر دراصل اللہ کی طرف سے دیا گیا وہ خاص ہتھیار ہے جو ہمیں ہر طرح کی آزمائش میں کامیابی دلاتا ہے۔ اسی صبر کی وجہ سے اللہ اپنے بندوں کے ساتھ ہو جاتا ہے اور انہیں بے حد اجر عطا کرتا ہے۔

(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان: اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169۔ حوالہ سورۃ البقرہ پارہ نمبر 2 آیت نمبر 153 )

(2)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4، آل عمران: 200)

(3) اُولٰٓىٕكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ (۷۵) ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ (پ19، الفرقان:75)

(4)- وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر ضرور دیں گے۔ (پ14، النحل:96)

(5) وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21، السجدۃ: 24)

اللہ پاک ہمیں حقیقی معنوں میں صبر کرنے والا بنائے، ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھے، اور ہمیں قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں صبر و شکر کی دولت سے مالا مال کرے اور صبر کے بدلے اپنی رضا و جنت نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


دین اسلام ایک احسن دین ہے جو ہمیں عبادات و عشق مصطفی کے ساتھ ساتھ اعلی اور عمدہ اوصاف اپنانے کا بھی درس دیتا ہے انہی میں سے ایک وصف صبر بھی ہے صبر کا بیان قرآن پاک میں متعدد جگہ ہوا ہے آئیے ہم بھی قرآن پاک کی روشنی میں صبر کا بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :

(1) اللہ پاک کی معیت: صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ پاک کی رحمت اور معیت ہوتی ہے جیسے کہ اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

(2) بشارت سنادو: اللہ پاک کی رضا کے لیے صبر کرنے والوں کے لیے خاص خوشخبری ہے جیسے کہ قرآن پاک میں آیا ہے: وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

(3) وصف مومن : صبر کرنا اہل جنت مومنین کے اوصاف میں سے ہے جن کو اللہ پاک نے قرآن پاک میں ذکر فرمایا: اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے(ہیں)۔ (پ3،آل عمران، 17)

(4) اللہ پاک کا محبوب: مصیبت اور آزمائش پر صبر کرنے والا انسان اللہ پاک کا محبوب بندہ ہوتا ہے: وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز الایمان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

(5) اہم کام : تکالیف کو برداشت کرنا اور صبر کرنا یہ اہم امور میں سے ہے جیسے کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے: اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶) ترجمۂ کنز الایمان: اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ (پ4،آل عمران: 186)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمیں آزمائش اور مصیبت پر صبر کا دامن اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


صبر کا لغوی اور اصطلاحی معنی: صبر کے لغوی معنی ہیں رکنا، برداشت کرنا، اور اپنے نفس کو قابو میں رکھنا۔ جیسا کہ تفسیر الجلالین پارہ نمبر 1 آیت نمبر 45 کی تفسیرمیں ہے : بِالصَّبْرِ اَلْحَبْسُ لِلنَّفْسِ عَلٰى مَا تََكْرَہٗ صبر سے مراد نفس کو روکنا خواہشات سے ۔

لسان العرب (ابنِ منظور)‏ ابنِ منظور لکھتے ہیں: الصَّبْرُ: الحَبْسُ والكَفُّ‎ ‎ یعنی صبر کا معنی ہے روکنا اور باز رکھنا۔

جیسا کہ ہم صبر کا لغوی اور اصطلاحی معنی معلوم کرچکے ہیں ۔ تو اب ہم چلتے ہیں قرآن مجید کی طرف کہ آخر قرآن صبر کے بارے میں کیا ارشاد فرماتا ہے البتہ یہ یاد رکھے کہ قرآن میں صبر کا ذکر کثرت سے آیا ہے مگر ہم یہاں ان میں سے چند کو ذکر کریں گے

قرآن فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

اس آیت میں مومنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد حاصل کریں، کیونکہ ایک مسلمان کی کامیابی انہی دو چیزوں صبر اور ذکراللہ (نماز) پر ‏قائم ہے۔

صبر سے مدد لینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان عبادت میں ثابت قدم رہے، گناہوں سے بچے، اور اپنی خواہشات پر قابو رکھے۔ جبکہ نماز تمام عبادات کی جڑ ہے، جو انسان کو صبر کی قوت اور روحانی سکون عطا کرتی ہے۔

ان دونوں (صبر و نماز) کا خاص طور پر ذکر اس لیے کیا گیا :باطنی اعمال میں سب سے مشکل کام صبر ہے، اور ظاہری اعمال میں سب سے زیادہ محنت طلب عبادت نماز ہے۔ آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔یعنی وہ ان کی مدد فرماتا ہے، ان کی تکالیف آسان کرتا ہے، اور ان کے لیے راحت کے اسباب پیدا کرتا ہے۔ وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

زندگی میں انسان کو قدم قدم پر آزمائشوں کا سامنا ہوتا ہے ۔کبھی بیماری سے، کبھی مال و جان کے نقصان سے، کبھی خوف، دشمنی، یا فتنوں سے۔ یہ سب آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کی آزما ئش ہوتی ہیں تاکہ فرمانبردار اور نافرمان، مخلص اور دعویدار میں فرق ظاہر ہو۔

انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگیاں صبر کی روشن مثالیں ہیں:

حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی نافرمانی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ میں ڈالا جانا اور بیٹے کی قربانی۔

حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری اور مال و اولاد کا زوال۔

حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام پر آزمائشیں ۔

یہ سب صبر و استقامت کے نمونے ہیں۔ اسی لیے ہر مسلمان کے لیے لازم ہے کہ جب مصیبت آئے تو صبر کرے، جزع و فزع نہ کرے اور اللہ کی رضا پر راضی رہے۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

جب انسان پر تکلیف آتی ہے تو وہ خود بخود اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ البتہ اعلیٰ درجے کے لوگ وہ ہیں جو تکلیف کو بھی خوشی کی طرح قبول کرتے ہیں۔ عام مسلمان کم از کم اتنا کرے کہ صبر و استقلال اختیار کرے، رونا پیٹنا نہ کرے، ورنہ مصیبت بھی باقی رہے گی اور ثواب بھی جاتا رہے گا یوں دوہرا نقصان ہوگا۔ (بہار شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، 1‏ / ‏799)‏

اسی مضمون کے لحاظ سے آپکے سامنے چند احادیث پیش کرتا ہوں ‏

حضرت ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے،رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ مسلمان مرد و عورت ‏کے جان و مال اور اولاد میں ہمیشہ مصیبت رہتی ہے، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملتا ہےکہ اس پر کوئی گناہ ‏نہیں ہوتا۔ (ترمذی ، کتاب الزہد، باب ما جاء فی الصبر علی البلاء، 4 / 179، الحدیث: 2407)‏

حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’قیامت کے دن جب ‏مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے ،کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی ‏گئی ہوتیں۔ (ترمذی ، کتاب الزہد، 59-باب، 4 / 180، الحدیث: 2410)‏

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور صبر پر استقامت اور اسکا اجر عطا فرمائیں ۔ ‏ آمین بجاہِ سید المرسلین ﷺ


انسان کی زندگی میں قدم قدم پر  آزمائشیں ہیں، اللہ تعالٰی اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے آزماتا ہے اور دینِ اسلام پر عمل کرنا اور اس کی دعوت دینا تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں قدم قدم پر آزمائشیں ہیں، اسی سے فرمانبردار و نافرمان کے درمیان فرق ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں آزمائش اور تکالیف پر صبر کرنے کے تعلق سے کثیر آیات موجود ہیں آئیے صبر کے متعلق قرآنی آیات ملاحظہ کرتے ہیں :

(1) صبر اور نماز سے مدد: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

صبر کی تعریف : اس آیت میں صبر کا ذکر ہوا ،صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)

صبر میں دشمنوں سے آگے رہنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

صبر بڑی ہمت کا کام ہے :

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ- وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶)

ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ضرور تمہاری آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ (پ4،آل عمران: 186)

تفسیر صراط الجنان: لَتُبْلَوُنَّ: تم ضرور آزمائے جاؤ گے :

مسلمانوں سے خطاب فرمایا گیا کہ تم پر فرائض مقرر ہوں گے، تمہیں حقوق کی ادائیگی کرنا پڑے گی، زندگی میں کئی معاملات میں نقصان اٹھانا پڑے گا، جان ومال کے کئی معاملات میں تکلیفیں برداشت کرنا ہوں گی ، بیماریاں ، پریشانیاں اور بہت قسم کی مصیبتیں زندگی میں پیش آئیں گی، یہ سب تمہارے امتحان کیلئے ہوگا لہٰذا اس کیلئے تیار رہنا اوراللہ کریم عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور اس کے ثواب پر نظر رکھ کر ان تمام امتحانات میں کامیاب ہوجانا کیونکہ ان امتحانات کے ذریعے ہی تو کھرے اور کھوٹے میں فرق کیا جاتا ہے، سچے اور جھوٹے میں امتیاز ظاہر ہوتا ہے۔ دینی معاملات میں مشرکوں ، یہودیوں اور عیسائیوں سے تمہیں بہت تکالیف پہنچیں گی ۔ ان معاملات میں اور زندگی کے دیگر تمام معاملات میں اگر تم صبر کرو ، اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتے رہو اور پرہیزگاری اختیار کئے رہو تو یہ تمہارے لئے نہایت بہتر رہے گا کیونکہ یہ بڑی ہمت کے کام ہیں۔ (آل عمران:3 آیت 186)

صبر کرنے والے کے لیے بخشش اور ثواب:

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالایمان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

تفسیر صراط الجنان: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے۔:

اس آیت کا معنی یہ ہے ’’لیکن وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کئے تو وہ ان کی طرح نہیں ہیں کیونکہ انہیں جب کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔ (خازن، ہود، تحت الآیۃ: 11، 2 / 342)

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے۔ (پ11، یونس:109)

تفسیر صراط الجنان: وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ:اور اس کی پیروی کرو جو آپ کی طرف وحی بھیجی جاتی ہے:

یعنی اے حبیب! ﷺ ، اللہ تعالیٰ آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور آپ کی قوم کے کفار کی طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ فرمائے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ: 109، 2 / 338)

صبر کرنے والوں کا اجر : اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ: صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔:

یعنی جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ ( ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)

صبر کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا: اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب اجر و ثواب دیاجائے گا۔

رضائے الہٰی کے لئے صبر کرنے کی فضیلت: اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے صبر کرنے کی بہت فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)

ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155، 156)

اللہ تعالیٰ ہمیں عافیت نصیب فرمائے اور مَصائب و آلام آنے کی صورت میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین


صبر کا لغوی معنی برداشت کرنا اور رکنا ہے، جبکہ  اصطلاح میں یہ مشکلات اور آزمائشوں میں اللہ کی رضا پر ثابت قدم رہنا ہے۔ یہ ایمان کی ایک بنیادی صفت ہے، جس میں اطاعت پر ثابت قدمی، گناہوں سے رُکنا، اور مصیبتوں کو برداشت کرنا شامل ہے۔ اس پر چند آیات قرآنی ملاحظہ کیجئے:

(1): وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)

تفسیر صراط الجنان: وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ:اور صبر اور نماز سے مددحاصل کرو۔

اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلین ﷺ پر ایمان لانے ، ان کی شریعت پر عمل کرنے ،سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا گیا اور ا س آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 45، 1 / 50)

(2): یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

تفسیر صراط الجنان: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو:

اس سے پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ:153,1 / 257، ملخصاً)

حضورسید المرسلین ﷺ بھی نماز سے مدد چاہتے تھے جیساکہ حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو آپ ﷺ نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ ( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام النبی ﷺ من اللیل، 2 / 52، الحدیث: 1319)

(3): اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷)

ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)

تفسیر صراط الجنان:اَلصّٰبِرِیْنَ: صبر کرنے والے:

دنیا کے طالبوں کا ذکر کرنے کے بعد مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں۔

(1) متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ سے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔

(2) متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔

(3) متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔

(4) متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔

(5) متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔

(6) متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’ مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 14، 1 / 234)

(4): یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

تفسیر صراط الجنان: اِصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا:صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو:

صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 3/200 / 473، ملتقطاً)

(5): قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللہ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸)

ترجمۂ کنز الایمان:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے ہاتھ ہے۔ (پ9،الاعراف: 128)

تفسیر صراط الجنان: قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا:

فرعون کے اس قول کہ ’’ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے‘‘ کی وجہ سے بنی اسرائیل میں کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کی شکایت کی، اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرو، وہ تمہیں کافی ہے اور آنے والی مصیبتوں اور بلاؤں سے گھبراؤ نہیں بلکہ ان پرصبر کرو، بیشک زمین کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور زمینِ مصر بھی اس میں داخل ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے۔ یہ فرما کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تَوَقُّع دلائی کہ فرعون اور اس کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل اُن کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے اور انہیں بشارت دیتے ہوئے فرمایا ’’ اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: 128، 2 / 129، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ: 128، ص381، ملتقطاً)


اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہ دین زندگی کے ہر مرحلے میں انسان کو راہِ ہدایت عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں انسان کی تربیت کے لیے جن اوصاف کو خاص اہمیت دی گئی ہے، اُن میں سے ایک نمایاں وصف صبر ہے۔ صبر نہ صرف اخلاقی خوبی ہے بلکہ ایمان کا بنیادی جز بھی ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو مومن کی پہچان اور کامیابی قرار دیا گیا ہے۔

صبر کی تعریف: صبر کے معنی ہیں روکنا، ٹھہرنا، برداشت کرنا ۔ قرآن کے مطابق صبر صرف غم یا مصیبت پر خاموش رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنے نفس کو حق کے راستے پر قائم رکھنے، برائی سے بچنے اور مصائب میں ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔

قرآن میں صبر کی فضیلت:

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر صبر کی تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ اللہ پاک سورہ بقرہ کی آیت نمبر 153 میں فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

یہ آیت مومن کے دل میں قوت و تسلی پیدا کرتی ہے کہ جو شخص صبر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ کی معیت حاصل کر لیتا ہے۔ اللہ کی قربت سے بڑی کوئی نعمت نہیں۔

اسی طرح سورہ زمر کی آیت نمبر 10 میں فرمایا گیا: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

یہ آیت صبر کے اجر کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو کتنا بڑا انعام عطا فرمائے گا۔

قرآن مجید نے صبر کو مختلف مواقع پر لازم قرار دیا ہے:

(1) مصیبت کے وقت صبر: اللہ پاک سورہ بقرہ کی آیت نمبر 155 میں ارشاد فرماتا ہے : وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز العرفان: اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

(2) عبادت میں صبر: نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات میں صبر ضروری ہے کیونکہ یہ نفس پر بھاری ہوتی ہیں۔

(3) گناہوں سے بچنے میں صبر: حضرت یوسف کا قصہ قرآن میں بہترین مثال ہے کہ انہوں نے گناہ سے بچنے کے لیے صبر کیا اور اللہ نے انہیں عزت بخشی۔

(4) حق پر ڈٹے رہنے میں صبر: انبیاء علیہم السلام نے حق کی دعوت دیتے ہوئے صبر کیا اور مخالفتوں کے باوجود پیغامِ حق سے پیچھے نہیں ہٹے۔

انبیاء کے صبر کی مثالیں:

قرآن میں انبیاء کرام کے صبر کو بطور نمونہ بیان کیا گیا ہے: چنانچہ اللہ پاک سورہ انبیاء کی آیت نمبر 83 میں ارشاد فرماتا ہے: وَ اَیُّوْبَ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الضُّرُّ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ(۸۳)

ترجمہ کنزالعرفان: اور ایوب کو (یاد کرو) جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ بیشک مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ (پ17، الانبیآء:83)

اسی طرح سورہ یوسف کی آیت نمبر 18 میں ارشاد فرمایا:

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍؕ-قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًاؕ-فَصَبْرٌ جَمِیْلٌؕ-وَ اللہ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ(۱۸)

ترجمہ کنزالعرفان: اور وہ اس کے کر تے پر ایک جھوٹا خون لگا لائے۔ یعقوب نے فرمایا: بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات گھڑ لی ہے تو صبر اچھا اور تمہاری باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔ (پ12، یوسف:18)

صبر اور کامیابی کا تعلق: قرآن مجید میں صبر کو کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے: چنانچہ اللہ پاک سورہ آل عمران کی آیت نمبر 200 میں ارشاد فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰)

ترجمۂ کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4، آل عمران: 200)

صبر ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتی ہے، گناہوں سے بچاتی ہے، اور اللہ کی رضا تک پہنچنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ صبر کے بغیر ایمان ادھورا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق جو شخص صبر کرتا ہے، وہ اللہ کی رحمت، مغفرت اور قرب کا مستحق بنتا ہے اور اللہ کا پسندیدہ بندہ بن جاتا ہے:وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


علامہ صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’ ’صبر کے تین مرتبے ہیں ۔ (1)گناہ سے صبر کرنا یعنی گناہ سے بچنا۔ (2) نیکیوں پر صبرکرنا یعنی اپنی طاقت کے مطابق ہمیشہ نیک اعمال کرنا۔ (3) مصیبتوں پر صبر کرنا۔ ان سب سے اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ شہوات یعنی نفسانی خواہشات سے صبر کرنا کیونکہ یہ اولیاء اور صدیقین کا مرتبہ ہے۔ ( صراط الجنان ، جلد 5 ، صفحہ: 110،111 )

اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے صبر کرنے کی بہت فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: - وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155، 156)

(1) صبر اور نماز سے مدد طلب کرو : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نماز ہے۔ ( صراط الجنان ، جلد : 1 ، صفحہ:278٫279)

(2) مومن کی شان : اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر شکر کرنا اور بہر صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی شان ہے، لیکن افسوس! یہاں جو طرزِ عمل کفار کا بیان کیا گیا ہے وہ آج مسلمانوں میں بھی نظر آ رہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان سے اپنی دی ہوئی نعمت واپس لے لیتا ہے تو یہ اس قدر اَفْسُردہ اور مایوس ہو جاتے ہیں کہ ان کی زبانیں کفر تک بکنا شروع کر دیتی ہیں اور جب ان میں سے کسی پر آئی ہوئی مصیبت اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے تو وہ لوگوں پر فخرو غرور کا اِظہار شروع کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔ اٰمین ( صراط الجنان ، جلد ، 4 ، صفحہ : 404)

(3) جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ : اُولٰٓىٕكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ (۷۵)خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۷۶) ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ۔ (پ19، الفرقان:75، 76)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالٰی کی اطاعت پر ڈٹے رہنے،گناہوں سے بچنے، کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر صبر کرنے، اِستقامت کے ساتھ عبادت کرنے اور فقر و فاقہ پر صبر کرتے رہنے کے سبب جنت کا سب سے اونچا درجہ انعام میں دیا جائے گا ۔ ( صراط الجنان ، جلد ، 7 صفحہ : 68)

(4) دوگنا اجر : اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمہ کنز الایمان : ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ 20، القصص: 54)

ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کو دگنا اجر دیاجائے گا کیونکہ وہ پہلی کتاب پر بھی ایمان لائے اور قرآ نِ پاک پر بھی اوریہ ان کے اس صبر کا بدلہ ہے جو انہوں نے اپنے دین پر اور مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر کیا۔ ( صراط الجنان ، جلد 7 ، صفحہ: 297 ، 298 )

(5) صبر کا ثمرہ : وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21، السجدۃ: 24)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کا ثمرہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ صبر کرنے والے کو امامت اور پیشوائی نصیب ہوج آتی ہے ۔۔ ( صراط الجنان ، جلد 7 ، صفحہ : 545)

اللہ پاک ہمیں صبر کے فضائل پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


ابو القاسم عبد الکریم ھوازن قشیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی کتاب رسالہ قشیریہ میں فرماتے ہیں کہ صبر کے کئی قسمیں ہیں:

(1) بندے کا ان کاموں پر صبر جو اس کے اختیار میں ہیں

(2) ان کاموں پر صبر جو اس کے اختیار میں نہیں اور اختیار والے کاموں پر صبر کی دو قسمیں ہیں: (1) اس کام پر صبر جس کے کرنے کا اللہ عزوجل نے حکم دیا (2) اس کام پر صبر جس سے رکنے کا اللہ نے حکم دیا ۔ہے ۔

ان امور پر سبق جن میں بندے کا اختیار نہیں ، اس کی مثال یہ ہے کہ انسان پر جو مصیبت اللہ کی طرف سے آجائے اسے برداشت کرنے میں صبر کرے :

(1)اچھے کام اور صبر کرنے والوں کے لیے ثواب: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمۂ کنز الایمان : مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ (پ12،ہود: 11)

تفسیرِ صراط الجنان: آیت سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر شکر کرنا اور بہر صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی شان ہے ۔ (پارہ 12 سورۃ ھود آیت نمبر 11)

(2) بھروسہ:الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)

تفسیر صراط الجنان: یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے ۔ (پارہ 16 سورۃ النحل آیت نمبر 42)

(3) سزا دو: وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14، النحل:126)

تفسیر صراط الجنان:جنگ ِاُحد میں کفار نے مسلمانوں کے شُہداء کے چہروں کو زخمی کرکے اُن کی شکلوں کو تبدیل کیا تھا ، اُن کے پیٹ چاک کئے اور ان کے اعضاء کاٹے تھے ، ان شہداء میں حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بھی تھے تاجدارِ رسالت نے جب انہیں دیکھا تو آپ کو بہت صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھائی کہ ایک حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا بدلہ ستر کافروں سے لیا جائے گا اور ستر کا یہی حال کیا جائے گا۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توحضورِ اقدس نے وہ ارادہ ترک فرمایا اور اپنی قسم کا کفارہ دے دیا۔ یاد رہے کہ مُثلہ یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر کسی کی ہَیئت کو تبدیل کرنا شریعت میں حرام ہے۔ (پارہ 16 سورۃ النحل آیت نمبر 126)

(4) ہرگز نہیں ٹھہریں گے: قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا(۶۷) وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا(۶۸)ترجمۂ کنز الایمان:کہا آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ اور اس بات پر کیوں کر صبر کریں گے جسے آپ کا علم محیط نہیں۔ (پ15، الکھف:67، 68)

تفسیر صراط الجنان: حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَ علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَ علیہ السلام نے یہ اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوکچھ ناپسندیدہ اور ممنوع کام دیکھنا پڑیں گے اور انبیاءِ کرام علیہ السلام سے ممکن ہی نہیں کہ وہ ممنوع کام دیکھ کر صبر کرسکیں ۔ (پارہ 18 سورۃ الکہف آیت نمبر 67-68)

(5)میری اور آپ کی جدائی : قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَۚ-سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا(۷۸) ترجمۂ کنز الایمان:کہا یہ میری اور آپ کی جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر (بھید)بتاؤں گا جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔ (پ15، الکھف:78)

تفسیر صراط الجنان: حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے تیسری مرتبہ اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صبر نہ کرسکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔ (پارہ 18 سورۃ الکہف آیت نمبر 78)

اللہ پاک ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین


      قرآن پاک نے ہمیں بہت سی تعلیمات سے تربیت فرمائی ہے اسی میں ہمیں صبر کے متعلق بھی بہت سی تعلیمات تربیت فرمائی ہے جب بھی ہمیں کوئی مشکل پیش آئے تو ہمیں صبر کرنا چاہیے اس کا بدلہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ قرآن پاک بھی ہم یہی سکھاتا ہے کہ جب بھی ہمیں کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی دل دکھائے یا کوئی بات بری لگ گئی یا کوئی بھی آزمائش آئے تو ہمیں صبر کرنا چاہیے۔ آئیے اسی کے متعلق قرآن پاک سے پانچ آیات مبارکہ پیش کی جاتی ہیں۔

(1)وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)

ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے والا ہے۔ (پ11، یونس:109)

تفسیر صراط الجنان : وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ:اور اس کی پیروی کرو جو آپ کی طرف وحی بھیجی جاتی ہے۔ یعنی اے حبیب! ﷺ ، اللہ تعالیٰ آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور آپ کی قوم کے کفار کی طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ فرمائے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ (پ 11 ، یونس ، آیت 109 ، ص 387 ، صراط الجنان )

(2)سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)

ترجمہ کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)

تفسیر صراط الجنان:اور ان کے پاس فرشتے روزانہ دن اور رات میں تین مرتبہ تحائف اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی بشارتیں لے کر جنت کے ہر دروازے سے تعظیم و تکریم کرتے ہوئے آئیں گے اور کہیں گے’’ تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ : 13 ، الرعد ، آیت : 24 ، ص: 113 ، صراط الجنان )

(3)الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)

تفسیر صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا:جنہوں نے صبر کیا ۔ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔ یونہی کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا اور وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے اس پر راضی ہیں اور مخلوق سے رشتہ منقطع کرکے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے۔ (پ : 14، س: النحل ، آیت: 42 ، ص :318 ، صراط الجنان )

(4) وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-

ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21، السجدۃ: 24)

تفسیر صراط الجنان: وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً: اور ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے۔ یعنی جب بنی اسرائیل نے اپنے دین پر اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر صبر کیا تو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو خدا عَزَّوَجَلَّ کی طاعت ، اس کی فرمانبرداری ، اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی شریعت کی پیروی اورتورات کے اَحکام کی تعمیل کے بارے میں بتاتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ یہ امام بنی اسرائیل کے انبیاء علیہ السلام تھے یا انبیاء ِکرام علیہ السلام کی پیروی کرنے والے۔ (پ: 21 ، س: السجدہ ،آیت: 24 ، ص:545 ،صراط الجنان )

(5)فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠(۶۰)

ترجمۂ کنز الایمان: تو صبر کرو بے شک الله کا وعدہ سچا ہے اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے۔ (پ21، الروم:60)

تفسیر صراط الجنان: كَذٰلِكَ: اسی طرح۔ یعنی جس طرح ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی اسی طرح ان جاہلوں کے دلوں پر بھی اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے جن کے بارے میں جانتا ہے کہ وہ گمراہی اختیار کریں گے اور حق والوں کو باطل پر بتائیں گے۔ (پ: 21 ، س: الروم ، آیت: 60 ، ص: 469 ، صراط الجنان )

جیسا کہ ہم نے قرآن پاک سے صبر کے بارے میں سنا اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملا کہ ہم پرجتنی بھی آزمائش اور مصیبتیں آئیں تو ہمیں صبر کرنا چاہیے ۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین