علامہ صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’ ’صبر کے تین مرتبے ہیں ۔ (1)گناہ سے صبر کرنا یعنی گناہ سے بچنا۔ (2) نیکیوں پر صبرکرنا یعنی اپنی طاقت کے مطابق ہمیشہ نیک اعمال کرنا۔ (3) مصیبتوں پر صبر کرنا۔ ان سب سے اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ شہوات یعنی نفسانی خواہشات سے صبر کرنا کیونکہ یہ اولیاء اور صدیقین کا مرتبہ ہے۔ ( صراط الجنان ، جلد 5 ، صفحہ: 110،111 )

اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے صبر کرنے کی بہت فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: - وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155، 156)

(1) صبر اور نماز سے مدد طلب کرو : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نماز ہے۔ ( صراط الجنان ، جلد : 1 ، صفحہ:278٫279)

(2) مومن کی شان : اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر شکر کرنا اور بہر صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی شان ہے، لیکن افسوس! یہاں جو طرزِ عمل کفار کا بیان کیا گیا ہے وہ آج مسلمانوں میں بھی نظر آ رہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان سے اپنی دی ہوئی نعمت واپس لے لیتا ہے تو یہ اس قدر اَفْسُردہ اور مایوس ہو جاتے ہیں کہ ان کی زبانیں کفر تک بکنا شروع کر دیتی ہیں اور جب ان میں سے کسی پر آئی ہوئی مصیبت اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے تو وہ لوگوں پر فخرو غرور کا اِظہار شروع کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقلِ سلیم اور ہدایت عطا فرمائے۔ اٰمین ( صراط الجنان ، جلد ، 4 ، صفحہ : 404)

(3) جنت کا سب سے اونچا بالا خانہ : اُولٰٓىٕكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ (۷۵)خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا(۷۶) ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور بسنے کی جگہ۔ (پ19، الفرقان:75، 76)

اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ انہیں اللہ تعالٰی کی اطاعت پر ڈٹے رہنے،گناہوں سے بچنے، کفار کی طرف سے پہنچنے والی اَذِیَّتوں پر صبر کرنے، اِستقامت کے ساتھ عبادت کرنے اور فقر و فاقہ پر صبر کرتے رہنے کے سبب جنت کا سب سے اونچا درجہ انعام میں دیا جائے گا ۔ ( صراط الجنان ، جلد ، 7 صفحہ : 68)

(4) دوگنا اجر : اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمہ کنز الایمان : ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ 20، القصص: 54)

ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کو دگنا اجر دیاجائے گا کیونکہ وہ پہلی کتاب پر بھی ایمان لائے اور قرآ نِ پاک پر بھی اوریہ ان کے اس صبر کا بدلہ ہے جو انہوں نے اپنے دین پر اور مشرکین کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر کیا۔ ( صراط الجنان ، جلد 7 ، صفحہ: 297 ، 298 )

(5) صبر کا ثمرہ : وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21، السجدۃ: 24)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کا ثمرہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ صبر کرنے والے کو امامت اور پیشوائی نصیب ہوج آتی ہے ۔۔ ( صراط الجنان ، جلد 7 ، صفحہ : 545)

اللہ پاک ہمیں صبر کے فضائل پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین