فراز
عزیز پنہور ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
عثمان غنی کراچی ،پاکستان)
’’صبر‘‘
كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا (یعنی ڈٹ
جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا)کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز
سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔
بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی
صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا۔ (2) طبعی
خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور
پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ44، 45)
زندگی
میں خوشی اور دکھ، آسانی اور مشکل، کامیابی اور ناکامی یہ سب انسان کے سفر کا حصہ
ہیں۔ ان
حالات میں جو چیز انسان کو مضبوط، پرعزم اور متوازن رکھتی ہے، وہ صبر ہے۔ صبر انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور اسے مشکلات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اسلام نے صبر کو بہت بلند مقام دیا ہے۔ قرآن و حدیث میں صبر کرنے والوں کے لیے اللہ کی رحمت، مدد اور عظیم اجر کی
بشارتیں دی گئی ہیں۔ اسی وجہ سے صبر کو کامیابی اور سکونِ زندگی کا
ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
اب ہم
قرآن پاک سے چند آیات جو صبر سے متعلق ہیں ان کا جائزہ لیتے ہیں:
(1)
بنی اسرائیل کا صبر اور اس وجہ سے ان پر ہونے والے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ
پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ اَوْرَثْنَا الْقَوْمَ
الَّذِیْنَ كَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَهَا
الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَاؕ-وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى
بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا صَبَرُوْاؕ-وَ دَمَّرْنَا مَا كَانَ یَصْنَعُ
فِرْعَوْنُ وَ قَوْمُهٗ وَ مَا كَانُوْا یَعْرِشُوْنَ(۱۳۷) ترجمہ کنز العرفان : اور ہم نے اس قوم کو
جسے دبایا گیا تھا اُس زمین کے مشرقوں اور مغربوں کا مالک بنادیا جس میں ہم نے
برکت رکھی تھی اور بنی اسرائیل پر ان کے صبر کے بدلے میں تیرے رب کا اچھا وعدہ
پورا ہوگیا اور ہم نے وہ سب تعمیرات برباد کردیں جو فرعون اور اس کی قوم بناتی تھی
اور وہ عمارتیں جنہیں وہ بلند کرتے تھے۔ (پ9، الاعراف:137)
اس آیت
کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ اس سر زمین میں اللہ تعالیٰ نے نہروں ، درختوں
، پھلوں ، کھیتیوں اور پیداوار کی کثرت سے برکت رکھی تھی اس طرح بنی اسرائیل پر ان
کے صبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا اچھا وعدہ پورا ہوگیا۔
(2) جب
بندہ صبر کرتا ہے تو اس کی طاقت دگنی ہوج آتی ہے اسی بات کا ذکر کرتے ہوئے اللہ
پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ
حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِؕ-اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ
صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ
یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا
یَفْقَهُوْنَ(۶۵) اَلْ۔ ٰٔنَ خَفَّفَ اللہ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ
ضَعْفًاؕ-فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا
مِائَتَیْنِۚ-وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ
اللّٰهِؕ-وَ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۶۶)
ترجمہ کنز العرفان : اے نبی! مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دو، اگر تم
میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے سو
ہوں گے تو ہزار کافروں پر غالب آئیں گے کیونکہ کافر سمجھ نہیں رکھتے۔ اب
اللہ نے تم پر سے تخفیف فرمادی اور اسے علم ہے کہ تم کمزو ر ہو تو اگر تم میں سو
صبر کرنے والے ہوں تود و سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ہزار ہوں تو اللہ
کے حکم سے دو ہزار پر غالب ہوں گے اوراللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 65، 66)
(3) ہر
آدمی کی خواہش ہوتی ہے کہ میں بخشا جاؤں۔ تو
اللہ تعالی نے اس کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ۔ اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
(4)
امتحان دنیاوی بھی ہوتے ہیں اخروی بھی حقیقی کامیاب وہ ہے جو آخرت میں کامیاب ہو
جائے۔ صبر بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جو آخرت میں اچھے انجام کے لیے مددگار ہوتی
ہیں ۔ چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے: وَ
الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ
اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ
بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲) ترجمہ کنز العرفان : اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر
کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری راہ میں پوشیدہ اور
اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہیں کے لئے آخرت کا
اچھا انجام ہے۔ (پ13، الرعد: 22)
(5) رضائے الہٰی کے لئے
صبر کرنے کی فضیلت:اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے
کی نیت سے صبر کرنے کی بہت فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: - وَ
بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں
کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے
ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155، 156)
سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴) ترجمہ کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر
ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)
(6)
اللہ پاک کے لئے ہجرت کرنا اور اپنا وطن چھوڑنا۔ تکلیفوں پر صبر کرنا اس کی جزاء بھی بڑی ہے۔ ملاحظہ
کیجئے۔
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں نے صبر کیا
اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
اس کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس
وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور
ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔ یونہی
کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا ۔
(7)
ایک اور آیت میں بھی اس بات کا ذکر ہے: ثُمَّ
اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا
وَ صَبَرُوْۤاۙ-اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۱۰) ترجمہ کنز العرفان : پھر بیشک تمہارا رب ان
لوگوں کے لیے جنہوں نے تکلیفیں دئیے جانے کے بعد اپنے گھر بار چھوڑے پھر انہوں نے
جہاد کیا اورصبر کیا بیشک تمہارا رب اس کے بعد ضرور بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ14،النحل:
110)
ہم نے
چند آیات کا جائزہ لیا جس سے ہمیں پتا چلا کہ صابرین کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ آخرت میں اللہ پاک ان کو اپنے انعامات سے نوازتا ہے، اس کی طاقت دگنی ہوج
آتی ہے ۔
ہمیں
چاہیے کہ صبر کے دامن کو تھام کے رکھیں تاکہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والے ثواب
اور انعامات کے حق دار ہو سکیں۔ اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
صبر ایک
ایسا روحانی وصف ہے جو انسان کو مشکلات میں ٹوٹنے سے بچاتا ہے اور دل کو سکون
بخشتا ہے۔ یہ مومن کی زندگی کا زیور ہے جس کے بغیر عبادت،
اطاعت اور رضا الٰہی کے راستے پر چلنا ممکن نہیں۔ دنیا
دارالامتحان ہے، جہاں ہر انسان کو آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے، اور صبر
ہی وہ طاقت ہے جو انسان کو ان امتحانات میں کامیاب بناتی ہے۔ قرآن
مجید میں بار بار صبر کی تاکید کی گئی ہے، اور صبر کرنے والوں کو اللہ کی خاص مدد،
اجر بے حساب، اور جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ انبیائے کرام علیہ السلام کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو ہر نبی نے صبر کو
اپنایا، چاہے وہ ایذائیں ہوں، فاقے ہوں، یا دشمنوں کی مخالفت ہر مقام پر انہوں نے
صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ اسلام میں صبر صرف دکھ جھیلنے کا نام نہیں بلکہ
یہ زندگی کے ہر میدان میں اللہ پر اعتماد اور رضا کی علامت ہے۔ صبر انسان کو بردبار، اور باوقار بناتا ہے۔ یہی
وہ صفت ہے جو انسان کو روحانی بلندی عطا کرتی ہے اور قربِ الٰہی کے راستے کھولتی
ہے، آیئے ہم موضوع کی مناسبت سے قرآن پاک کی کچھ آیات اور ترجمہ پڑھتے ہیں جو کہ مندرجہ
ذیل ہیں :
(1) وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
تفسیر صراط الجنان:
آزمائشیں
اور صبر: یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں
ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی
دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے اور کبھی نت نئے
فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں
قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت
کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام پر اکثرقوم کا ایمان نہ لانا، حضرت ابراہیم علیہ
السلام کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو
قربان کرنا، حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ،ان کی اولاد اور
اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصرسے مدین جانا، مصر سے ہجرت کرنا، حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا ستایا جانا اور انبیاء
کرام علیہ السلام کا شہید کیا جانا یہ سب
آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر
مسلمان کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں لہٰذا ہر مسلمان کوچاہئے کہ اسے جب بھی
کوئی مصیبت آئے اوروہ کسی تکلیف یا اَذِیَّت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ
تعالیٰ کی رضا پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے ۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں: بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو
مگر جب( اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور) مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو
کس قدر خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی
شان ہے کہ( وہ) تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا( استقبال کرتے
ہیں ) مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ (جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو )صبر
و استقلال سے کام لیں اور جَزع و فَزع (یعنی رونا پیٹنا) کرکے آتے ہوئے ثواب کو
ہاتھ سے نہ (جانے) دیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہو ئی مصیبت
جاتی نہ رہے گی پھر اس بڑے ثواب(جو احادیث میں بیان کیاگیا ہے) سے محرومی دوہری مصیبت
ہے۔ (بہار شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان،
1 / 799)
(2) وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور
اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1،
البقرۃ:45، 46)
تفسیر صراط الجنان: وَ اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ:اور صبر اور نماز سے مددحاصل کرو۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی
آیات میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلین ﷺ پر ایمان لانے ،ان کی شریعت پر عمل کرنے
، سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا گیا اور ا س
آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے
کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو
سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا، بیشک
نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں
کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 45، 1 / 50)
سبحان اللہ! کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔ صبر کی وجہ سے قلبی قوت میں اضافہ ہے اور نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ سے
تعلق مضبوط ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں پریشانیوں کو برداشت کرنے اور انہیں دور
کرنے میں سب سے بڑی معاون ہیں۔
(3) اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ
الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے
پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر صراط الجنان: اَلصّٰبِرِیْنَ: صبر
کرنے والے: دنیا کے طالبوں کا ذکر کرنے کے بعد مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے
والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں
ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں:
(1)
متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ سے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(2)
متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)
متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔
(4)
متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
(5)
متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
(6)
متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز
پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات
کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت
والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’
مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 16، 1 / 236)
اللہ
تعالیٰ سے دعا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ صبر عطا فرمائے اور جان میں مال
میں علم میں عمر میں ترقیاں عطا فرمائے۔ آمین
علی
حماد عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
جمال مصطفی تاجپورہ لاہور ،پاکستان)
زندگی
میں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اللہ پاک کبھی اپنے بندوں کو مرض سے
، کبھی جان و مال کی کمی سے ، کبھی دشمن کے خوف سے اور کبھی مختلف قسم کی پریشانیوں
سے آزماتا ہے خصوصاً دین کی راہ اور تبلیغ دین میں تو کئی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے
، اسی سے تو واضح ہوتا ہے کہ کون فرمانبردا اور کون نافرمان ہے کون محبت کے دعوے میں
سچا اور کون صرف زبانی دعوے کرنے والا ہے ، جو دین میں جتنا بلند مرتبہ ہوگا اس کو
اتنی ہی زیادہ مشکلات پیش آئیں گی اسی لئے تو انبیاء کرام علیہم السلام کو سب سے زیادہ
مشکلات پیش آئیں۔
فی
زمانہ اس حوالے سے بہت ناگزیر حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں بہت سے نادان ایسے ہیں
جو بیماری و پریشانی میں وہ کچھ بول جاتے ہیں کہ اللہ کہ پناہ اور بعض نادان تو
کفریہ کلمات بول کر اپنے ایمان کا سودہ کر بیٹھتے ہیں، ذیل میں قرآن پاک کی کچھ آیات
پیش خدمت ہیں جن میں صبر کے متعلق بہت سے مدنی پھول موجود ہیں جن میں ہمارے سیکھنے
کیلئے بہت کچھ ہے:
(1) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ
کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان میں ہے : آیت میں نماز اور صبر کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن
پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔
صبر کی
تعریف : صبر کا
معنی ہے نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو
(مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
اسی
آیت کے اگلے حصے میں اللہ پاک نے صبر کرنے والوں کو ایک عظیم بشارت بھی عطا فرمائی
، چنانچہ اللہ پاک فرماتا ہے : -اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز العرفان: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس کے
تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے : حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر
کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ
ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ ( تفسیر صراط الجنان : البقرہ 2 آیت 153)
(2) - وَ
لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا
یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر
ضرور دیں گے۔ (پ14،
النحل:96)
اس
متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ ہو جس میں صبر کی جزا کا بیان ہے :
حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یَقُوْلُ
اللہُ تَعَالٰی مَا لِعَبْدِی الْمُؤْمِنِ عِنْدِیْ جَزَاء ٌ اِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ
مِنْ أَہْلِ الدُّنْیَا ثُمَّ احْتَسَبَہُ اِلَّا الْجَنَّۃُ ترجمہ:’ اللہ عزَّوَجَلَّ فرماتا ہے، جب میں اپنے مومن بندے سے اس کی کوئی دنیوی محبوب چیز لے لوں ،
پھر وہ صبر کرے تو میرے پاس اس کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔ ‘ (بخاری، کتاب الرقاق، باب العمل الذی یبتغی
بہ وجہ اللہ، 225/4 ،حدیث:6424)
(3) -اُولٰٓىٕكَ
عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان
کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)
اس آیت
مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے :
امام
محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ ’’ احیاء العلوم ‘‘میں فرماتے ہیں : ’’ حضرت فتح موصلی
رحمۃ اللہ علیہ کی زوجہ پھسل گئیں تو ان کا ناخن ٹوٹ گیا،اس پر وہ ہنس پڑیں ،ان سے
پوچھا گیا کہ کیا آپ کو درد نہیں ہو رہا؟ انہوں نے فرمایا: ’’اس کے ثواب کی لذت
نے میرے دل سے درد کی تلخی کو زائل کر دیا ہے۔ (
تفسیر صراط الجنان: پارہ 2 : البقرہ آیت 157 بحوالہ احیاء علوم الدین، کتاب الصبر
والشکر، بیان مظان الحاجۃ الی الصبر۔ ۔ ۔ الخ، 4/ 90)
صبر سے
متعلق چند فضائل ملاحظہ ہوں:
(1)قرآن
پاک میں 70 یا 75 بار صبر کا ذکر ہوا
(2)ساری
عبادتوں کی جزا جنت ہے اور صبر کی جزا خود رب تعالیٰ جیسا کہ اوپر آیت سے معلوم
ہوا
(3)وعدہ
الہی کے اگر تم صبر کرو گے تو ہم پانچ ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد فرمائیں گے
(4)
صبر کرنے والوں پر اللہ پاک کی خاص رحمت ہے
(5)صبر
سے استقلال اور ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جو کہ کامیابی کا پیش خیمہ ہے بغیر استقلال
کوئی بھی دینی یا دنیوی کام نہیں بن سکتا۔ (
تفسیر نعیمی ،پارہ 2 آیت البقرہ ، آیت نمبر 153 صفحہ )
آخر میں
مصیبت پر صبر کرنے کے چند آداب بیان ملاحظہ ہوں تاکہ جب کبھی ہم پر مصیبت و پریشانی
آئے تو ہمیں معلوم ہو کہ صبر کا طرح کرنا ہے ، مصیبت پر صبر کرنے کے کئی آداب ہیں
، ان میں سے 4آداب یہ ہیں جنہیں علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی
کتاب’’مختصر مِنہاجُ القَاصِدین‘‘ کے صفحہ277 پر ذکر فرمایا ہے:
(1) جب
مصیبت پہنچے تو اسی وقت صبر و اِستِقلال سے کام لیا جائے، جیسا کہ حضرت انس بن
مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ صبر صدمہ کی ابتدا
میں ہوتاہے۔ (بخاری،
کتاب الجنائز، باب زیارۃ القبور، 1 / 433، الحدیث: 1283)
(2)مصیبت
کے وقت ’’اِنَّا
لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ‘‘ پڑھا جائے ،جیسا کہ حضرت ام سلمہ رضی
اللہ عنہا کا عمل اوپر گزرا ہے کہ انہوں
نے اپنے شوہر کے انتقال پر ’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَ‘‘
پڑھا۔
(3) مصیبت
آنے پرزبان اور دیگر اعضا سے کوئی ایسا کلام یا فعل نہ کیا جائے جو شریعت کے خلاف
ہو جیسے زبان سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکوہ و شک آیت کے کلمات بولنا، سینہ پیٹنا
اورگریبان چاک کر لینا وغیرہ۔
اللہ
پاک ہمیں بھی صبر کے آداب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مصیبت پر صبر کرنے والا بنائے
آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
صبر‘‘ كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں
اور نفس کو اس چیز پر روکنا (یعنی ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا)کا عقل اور شریعت
تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا
کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ 44 ، 45 ) قرآن میں صبر کی بہت اہمیت
ہے اور اس کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں، جن میں مصیبت پر صبر، اللہ کی اطاعت
پر صبر، اور گناہوں سے بچنے کے لیے صبر شامل ہیں۔ صبر کرنے والوں کو اللہ کی مدد اور کامیابی کا یقین دلایا گیا ہے، اور اسے
نصف ایمان بھی قرار دیا گیا ہے۔
آیئے اب ہم صبر کا بیان قرآن مجید فرقان حمید میں ملاحظہ کرتے ہیں :
(1) اللہ تعالیٰ کے محبوب بندے: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ
قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ
سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ
کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے
تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ
کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )
(2) مدد حاصل کرنا : وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ
الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ
یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور
بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
(3) رب
کی رضا چاہنا : وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا
ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا
رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً وَّ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ
اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِۙ(۲۲) ترجمہ کنز العرفان: اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی
رضا کی طلب میں صبر کیا اور نماز قائم رکھی اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے ہماری
راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کیا اور برائی کو بھلائی کے ساتھ ٹالتے ہیں انہیں
کے لئے آخرت کا اچھا انجام ہے۔ (
پ 13 ، الرعد : 22)
(4) اللہ تبارک وتعالی ساتھ ہوتا ہے : وَ اَطِیْعُوا اللہ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا
تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللہ
مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ
کنز العرفان: اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں بے اتفاقی نہ کرو
ورنہ تم بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا (قوت) اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بیشک اللہ
صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ 10
، الانفال: 46)
(5) بخشش اور بڑا ثواب ہے : اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا
الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا
اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود:
11)
( 6 )
مکرو فریب تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے گا : اِنْ
تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ٘-وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا
بِهَاؕ-وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْ۔ ۔ ٴً۔
اؕ-اِنَّ اللہ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠(۱۲۰) ترجمہ کنز العرفان: اگر تمہیں کوئی بھلائی
پہنچے تو انہیں برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو اس پر خوش ہوتے ہیں
اور اگر تم صبرکرو اورتقویٰ اختیار کرو تو ان کا مکروفریب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ
سکے گا۔ بیشک اللہ ان کے تمام کاموں کو گھیرے میں لئے
ہوئے ہے ۔ ( پ 4 ، آل عمران: 120)
مذکورہ
بالا تمام آیات مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہم پر جتنی بھی مصیبتیں آئیں ہمیں صبر کا
دامن نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ، صبر رضا
الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے ۔
دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالی زندگی کے تمام
معاملات صبر وتحمل کے ساتھ سر انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ خاتم النبیین ﷺ
محمد عمر فاروق عطاری ( درجہ رابعہ
جامعۃ المدینہ ٹاؤن شپ لاہور ،پاکستان)
صبر کا
معنی ہے: نفس
کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز
سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
بنیادی
طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان
پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابلِ
تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، 4 / 82) (تفسیر صراط الجنان : پارہ 2 البقرہ : 153)
قرآن
پاک میں صبر کے بےشمار فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ ترغیب کے طور پر چند ملاحظہ ہوں:
(1) اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے: وَ
اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ
صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10،
الانفال: 46)
(2) آزمائش سے کیا مراد ہے؟ اللہ تعالی قرآن مجید میں ایک اور مقام پر فرماتا ہے: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
اس آیت
میں لفظ بِشَیْءٍ کی
تفسیر میں بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ پاک نے اس لفظ سے مسلمانوں کو تسکین دی ہے
کہ زیادہ گھبراو مت، تھوڑا سا خوف اور کچھ بھوک میں مبتلا کر کے آزمایا جائے گا۔ وَ
نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- سے مراد جانوں کے نقصان مثلاً دوست اور قرابت
داروں یعنی رشتے داروں کا وبائی امراض میں مبتلا ہو کر مر جانا جبکہ پھلوں کی کمی سے
مراد باغات اور کھیتوں کا آسمانی آفات مثلاً اولے پڑنا یا ٹڈی وغیرہ کا مسلط ہو جانا کہ جن کے سبب اناج برباد
ہو جائیں۔ (تفسیرِ نعیمی: پارہ 2 البقرہ تحت الآیۃ)(صبر
کے فضائل، ص 5)
(3)
حاجتوں کی تکمیل کا ذریعہ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
یعنی
اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز سے
مدد چاہو۔
(خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ)(صراط الجنان: البقرہ آیت 45)
صبر سے اور نمازوں سے چاہو مدد
پوری کروائے ہر ایک حاجت نماز(وسائل فردوس)
(4) بخشش اور بڑا ثواب : اللہ تعالی سورہ ہود میں ارشاد فرماتا ہے: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالایمان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر شکر کرنا اور بہر
صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی شان ہے۔ (صراط الجنان ہود : آیت 11 تحت الآیۃ)
ہے صبر تو خزانۂ فِردوس بھائیو!
عاشق کے لب پہ شکوہ کبھی بھی نہ آسکے(وسائل فردوس)
(5) ظلم پر صبر : سورہ
شوریٰ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ:
43)
یعنی جس نے اپنے مجرم کے ظلم اور ایذا پر صبر کیا
اور اپنے ذاتی معاملات میں بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دیا تویہ ضرور ہمت والے
کاموں میں سے ہے کہ اس میں نفس سے مقابلہ ہے کیونکہ اپنے مجرم سے بدلہ لینے کا نفس
تقاضا کرتاہے لہٰذا اسے مغلوب کرنا بہادری ہے۔ (صراط الجنان: سورہ شوریٰ: آیت 42 تحت الآیۃ)
میاں
محمد بخش صاحب کیا خوب فرماتے ہیں:
چپ رِہ سیں تاں
موتی مل سَن ، صبر کرِیں تاں ہیرے
پاگلاں وانگوں رولا پاویں نہ موتی نہ ہیرے
چُپ
رَہو گے تو موتی ملیں گے ، صبر کرو گے تو ہیرے ملیں گے اور اگر پاگلوں کی طرح
شَوْر مچاتے رہو گے تو مصیبت سے چھٹکارا ملے نہ ملے ، موتی اور ہیروں (یعنی ثوابِ
آخرت سے ضرور) محروم ہو جاؤ گے۔
اللہ تعالی ہمیں پیارے آقا ﷺ کے صدقے صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ خاتم الانبیاء و المرسلین ﷺ
صبر کے
متعلق فرمان: ایک بزرگ فرماتے ہیں مکہ مکرمہ میں تھا کہ میں نے ایک فقیر کو دیکھا
وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا میں نے اپنی جیب سے ایک رقعہ نکال کر اسے دیکھا
اور چل پڑا دوسرا دن ہوا تو پھر اس نے اسی طرح کیا اور فرماتے ہیں میں اسے کئی دن
تک دیکھتا رہا وہ اسی طرح کرتا تھاایک دن اس نے طواف کیا اور ر قعے پر نظر کی اور
کچھ دور گیا اور مر گیا اس کی جیب سے رقعہ نکالا اور اس پر لکھا ہوا تھا: وَ
اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا ترجمہ کنزالایمان:اور اے محبوب تم اپنے رب
کے حکم پر ٹھہرے رہوکہ بیشک تم ہماری نگہداشت میں ہو۔ (پ27،
الطور: 48)
صبر کی
تعریف : صبر
کا معنی ہے نفس کو اس چیز پر روکنا ہے جس پر روکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی
ہو یہ نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عمل اور شریعت تقاضا کر رہی۔
وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا
صَبَرُوْا۫ؕ- ترجمہ کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ
امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21، السجدۃ: 24)
وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ بِمَا
صَبَرُوْاؕ- ترجمہ کنز
الایمان:اور تیرے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل پر پورا ہوا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ9،
الاعراف:137)
اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمہ کنز الایمان : ان کو ان کا اجر دوبالا
دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ 20، القصص: 54)
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ
کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر:
10)
وقار حسین (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق سادھوکی لاہور ،پاکستان)
قرآن کریم میں مختلف مقامات پر
صبر کا بیان ہے ۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے :
(1)وَ اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) ترجمۂ کنز الایمان:
اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری
طرف جھکتے ہیں۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
اس آیت
کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلین ﷺ پر ایمان
لانے ،ان کی شریعت پر عمل کرنے ،سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے
نکال دینے کا حکم دیا گیا اور ا س آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی
اسرائیل! اپنے نفس کو لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ
ساتھ نماز سے بھی مدد حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا
تمہارے لئے آسان ہو جائے گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی حاجتوں
کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 45، 1 / 50)
(2) اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ
الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے
پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
یہاں
مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں
ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں:
(1)
متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ سے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(2)
متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)
متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔
(4)
متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
(5)
متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
(6)
متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز
پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات
کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت
والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’
مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 16، 1 / 236)
(3) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ
ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
اس آیت
میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی
مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس
آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی
خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز چونکہ تمام عبادات کی اصل
اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون ہے اس لئے اس سے بھی مدد
طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر
باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 257،
ملخصاً)
حضورسید المرسلین ﷺ بھی نماز سے مدد چاہتے تھے جیساکہ حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو آپ ﷺ نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ ( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام
النبی ﷺ من اللیل، 2 / 52، الحدیث: 1319)
اسی طرح نماز اِستِسقا اور نمازِحاجت بھی
نماز سے مدد چاہنے ہی کی صورتیں ہیں۔
اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ
(اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس
لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی
فرمائے گا۔ (تفسیر
سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
صبر کی
تعریف : اس آیت میں صبر کا ذکر ہوا ،صبر کا معنی
ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس
کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
صبر کی
اقسام: بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1) بدنی
صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات اور خواہش کے
تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل
تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، 4 / 82)
عبدالرحمن
عطاری مدنی ( تخصص فی اللغۃ العربیۃ جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،پاکستان)
’’صبر كےلغوی معنى ركنے،ٹھہرنے یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر
روکنا ۔ ڈٹ جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا
عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل
اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے ۔ (مفردات امام
راغب، حرف الصاد، ص474)
زندگی خوشی اور غم، آسانی اور مشکل، نفع اور نقصان کا مجموعہ ہے۔ انسان جب کسی آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے تو اس
کے کردار اور ایمان کا اصل امتحان صبر کے ذریعے ہوتا ہے۔ صبر وہ نور ہے جو دل کو سکون، زبان کو شکر، اور
عمل کو استقامت عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو ایمان کا جزوِ اعظم قرار
دیا گیا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے بے شمار بشارتیں سنائی ہیں۔ درحقیقت صبر ہی وہ اخلاقی قوت ہے جو انسان کو
مایوسی سے بچا کر اُمید اور یقین کی راہ دکھاتی ہے۔ قرآنِ حکیم میں صبر کا ذکر کئی مقامات پر مقامات پر آیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صبر نہ صرف اخلاقی خوبی ہے بلکہ ایمان کی علامت اور
نجات کا ذریعہ بھی ہے۔ آئیے چند آیات کو ترجمہ اور مختصر
وضاحت کے ساتھ دیکھتے ہیں:
(1) صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت: ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
یہ آیت
مومن کو یہ یقین عطا کرتی ہے کہ صبر کی حالت میں وہ تنہا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ
خود اس کے ساتھ ہے۔
حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ (اپنے
علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں
کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے
کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر
سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
(2) صبر اور شکر کا توازن: وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ
بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ
الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں
کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور
صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ:
155)
یہ آیت
زندگی کی حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ آزمائشیں ایمان کا حصہ ہیں۔ مگر ساتھ ہی بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ فرما کر امید کی شمع روشن کی گئی یعنی
جو ثابت قدم رہے، اس کے لیے ربّ کی بشارت ہے۔
رسول
کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا
ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے(بخاری، کتاب المرضی، باب شدۃ
المرض، 4 / 4، الحدیث: 5646)
(3) صبر اور مغفرت کا تعلق: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان: مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام
کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
یہاں
صبر کو عملِ صالح کے ساتھ جوڑ کر واضح کیا گیا کہ صبر محض برداشت نہیں بلکہ مثبت
طرزِ عمل ہے جو انسان کو نیکی کی طرف بڑھاتا ہے۔ تاجدارِ
رسالت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: جس کے مال یا جان میں مصیبت آئی پھر
اس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہر نہ کیا
تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اس کی مغفرت فرمادے۔ (معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ
احمد، 1 / 214، الحدیث: 737)
(4) صبر کا اجر بے حساب : اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یہ آیت صبر کی عظمت کا بلند ترین مقام بیان کرتی ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ دیگر اعمال کا اجر ایک
خاص پیمانے پر ملتا ہے، مگر صبر کا بدلہ اللہ تعالیٰ خود عطا فرماتا ہے، جس کی
کوئی حد نہیں۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے
علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں
کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔ (خازن،
الزمر، تحت الآیۃ: 10 ، 4 / 51)
قرآنِ کریم صبر کو محض دکھ سہارنے کا عمل نہیں بلکہ ایک اخلاقی تربیت کے
طور پر پیش کرتا ہے۔ صبر انسان کو غصہ، انتقام، حسد
اور مایوسی سے بچاتا ہے۔ یہ کردار میں ٹھہراؤ اور دل میں یقین پیدا کرتا
ہے۔ آج کے معاشرے میں جہاں ہر شخص جلد بازی اور بے
صبری میں مبتلا ہے، وہاں قرآنی تعلیم یہ سبق دیتی ہے کہ صبر ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر حال میں صبر، شکر اور رضا کی نعمت عطا فرمائے۔ آمین۔
علی رضا (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
صبر کا
لغوی معنی برداشت کرنا اور روکنا ہے، جبکہ
اصطلاح میں یہ مشکلات اور آزمائشوں میں اللہ کی رضا پر ثابت
قدم رہنا ہے۔ یہ ایمان کی ایک بنیادی صفت ہے، جس میں اطاعت
پر ثابت قدمی، گناہوں سے رُکنا، اور مصیبتوں کو برداشت کرنا شامل ہے۔ اس
پر چند آیات قرآنی ملاحظہ کیجئے:
(1): وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور
اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1،
البقرۃ:45، 46)
تفسیر
صراط الجنان: وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ:اور صبر اور نماز سے مددحاصل
کرو۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ
اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلین ﷺ پر ایمان لانے ،ان کی شریعت
پر عمل کرنے ،سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا
گیا اور ا س آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو
لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد
حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لئے آسان ہو جائے
گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف
جھکتے ہیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی
حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 45، 1
/ 50)
(2): یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو۔ اس
سے پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی
ہے ۔ اس
آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی
خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز چونکہ تمام عبادات کی اصل
اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون ہے اس لئے اس سے بھی مدد
طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر
باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ:153,1 /
257، ملخصاً)
حضورسید المرسلین ﷺ بھی نماز سے مدد چاہتے تھے جیساکہ حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو آپ ﷺ نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ ( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام
النبی ﷺ من اللیل، 2 / 52، الحدیث: 1319)
(3): اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان: صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور
پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر صراط الجنان: اَلصّٰبِرِیْنَ: صبر
کرنے والے۔ دنیا کے طالبوں کا ذکر کرنے کے بعد مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں
ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں۔
(1)
متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ سے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(2)
متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)
متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔
(4)
متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
(5)
متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
(6)
متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز
پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات
کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت
والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’
مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 14، 1 / 234)
(4): یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل
عمران: 200)
تفسیر صراط الجنان: اِصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا:صبر
کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو۔ صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو
شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے۔ (خازن،
اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 3/200 /
473، ملتقطاً)
(5): قَالَ
مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِ اللہ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ
لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸) ترجمۂ
کنز الایمان:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین
کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے
ہاتھ ہے۔ (پ9،الاعراف:
128)
تفسیر صراط الجنان: قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ:موسیٰ
نے اپنی قوم سے فرمایا۔ فرعون
کے اس قول کہ ’’ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے‘‘ کی وجہ سے بنی اسرائیل میں
کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کی شکایت کی،
اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرو، وہ تمہیں کافی ہے اور آنے والی مصیبتوں اور بلاؤں
سے گھبراؤ نہیں بلکہ ان پرصبر کرو، بیشک زمین کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور زمینِ
مصر بھی اس میں داخل ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے۔ یہ
فرما کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تَوَقُّع دلائی کہ فرعون اور اس
کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل اُن کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے اور انہیں
بشارت دیتے ہوئے فرمایا ’’ اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: 128، 2 / 129، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ:
128، ص381، ملتقطاً)
نصیر
احمد عطّاری ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان)
صبر کا
لغوی معنی : برداشت ، قابو رکھنا ۔
اصطلاحی
تعریف :مصیبت دکھ غصے کے وقت نفس کو روکنا، اللہ پاک کی رضا پر راضی ہو نا۔ صبر کے متعلق کثیر قرآنی آیات موجود ہیں صبر کے بہت فواہد ہے۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان
والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اور اس
آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر
پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے
مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی،
گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز
چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون
ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے
ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے
مشکل نمازہے
اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا
ظاہر کرنا مراد ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خوف سے اللہ
تعالیٰ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ،جانوں
کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ
اولاد دل کا پھل ہوتی ہے،جیساکہ حدیث شریف میں ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’
جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے:’’ تم نے میرے
بندے کے بچے کی روح قبض کی ۔ وہ عرض کرتے ہیں کہ ’’ہاں ، یارب!
عَزَّوَجَلَّ، پھر فرماتا ہے:’’ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ۔ وہ عرض کرتے ہیں :ہاں ، یارب!
عَزَّوَجَلَّ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ فرشتے عرض کرتے
ہیں : اس نے تیری حمد کی اور ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَ‘‘
پڑھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ اس کے لیے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ
الحمد رکھو۔
‘‘(ترمذی، کتاب الجنائز، باب فضل المصیبۃ اذا احتسب، 2 / 313، الحدیث: 1023)
آزمائشیں
اور صبر: یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں
ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی
دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے اور کبھی نت نئے
فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں
قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت
کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام پر اکثرقوم کا ایمان نہ لانا، حضرت ابراہیم علیہ
السلام کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو
قربان کرنا، حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ،ان کی اولاد اور
اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصرسے مدین جانا، مصر سے ہجرت کرنا، حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا ستایا جانا اور انبیاء
کرام علیہ السلام کا شہید کیا جانا یہ سب
آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر
مسلمان کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان کوچاہئے کہ اسے جب بھی کوئی مصیبت
آئے اوروہ کسی تکلیف یا اَذِیَّت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا
پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے ۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں ’’بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو
مگر جب( اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور) مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو
کس قدر خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی
شان ہے کہ( وہ) تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا( استقبال کرتے
ہیں ) مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ (جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو )صبر
و استقلال سے کام لیں اور جَزع و فَزع (یعنی رونا پیٹنا) کرکے آتے ہوئے ثواب کو
ہاتھ سے نہ (جانے) دیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہو ئی مصیبت
جاتی نہ رہے گی پھر اس بڑے ثواب(جو احادیث میں بیان کیاگیا ہے) سے محرومی دوہری مصیبت
ہے۔ (بہار
شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، 1 / 799)
اور کثیر
احادیث میں مسلمان پر مصیبت آنے کا جو ثواب بیان کیا گیا ہے ان میں سے چند احادیث
یہ ہیں ،چنانچہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ
تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب شدۃ المرض، 4 / 4، الحدیث:
5646)
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہما سے مروی ہے، حضور اقدس ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو جو تکلیف ،رنج، ملال اور اَذِیَّت و غم پہنچے، یہاں تک
کہ ا س کے پیر میں کوئی کانٹا ہی چبھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا
ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، 4 / 3، الحدیث: 5641
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے،حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’قیامت
کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے
،کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ (ترمذی ، کتاب الزہد، 59-باب، 4 / 180، الحدیث: 2410)
انسان
کی زندگی کبھی خوشی اور سکون سے بھری ہوتی ہے اور کبھی غم اور پریشانیوں سے۔ یہ
دنیا دراصل ایک امتحان ہے، جہاں ہر انسان کو مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی دولت کی کمی، کبھی بیماری، کبھی دکھ اور صدمات، تو کبھی خواہشات کی
آزمائش۔ ایسے وقت میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی
ہے وہ ہے صبر صبر کا مطلب صرف چپ چاپ برداشت کرنا نہیں بلکہ
اپنے دل کو مطمئن رکھنا، اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور مشکل وقت میں بھی نیکی اور
ہمت کا دامن نہ چھوڑنا ہے۔ قرآن
پاک نے صبر کرنے والوں کو خوشخبریاں دیں، ان کے لیے اجر عظیم کا وعدہ کیا اور انہیں
اللہ کی خاص مدد اور رحمت کا مستحق قرار دیا۔ اسی
لیے صبر ہر مسلمان کی زندگی میں روشنی اور کامیابی کا راستہ ہے۔ سب
سے پہلے تو صبر کی تعریف جانتے ہیں۔
صبر کی
تعریف : صبر کا
معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
قرآن مجید میں کئی مقامات پر صبر کے بارے میں بیان
کیا گیا ہے ۔ ان میں سے چند ایک آیات ذیل میں مذکور ہیں :
(1) صبر
سے مدد چاہو: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز
العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ
صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
اس آیت
مبارکہ کی تفسیر میں تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن
یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ
اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر
سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
(2)صبر
کرنے کا حکم: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے
رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4،
آل عمران: 200)
تفسیر صراط الجنان : مُصَابَرہ کا معنی ہے
دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر
کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 3 / 473، ملتقطاً)
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں صبر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
محمد
واصف رضا عطاری ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
ٹاؤن شپ لاہور ،پاکستان)
صبر ایک
عظیم صفت ہے جو اسلام میں نہایت بلند مقام
رکھتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو بار بار ذکر کیا گیا ہے،
اور صابرین کی تعریف اور ان کے لیے انعامات کی بشارت دی گئی ہے۔ صبر کا مفہوم محض برداشت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ثابت قدمی، استقلال، ضبط
نفس، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا ایک وسیع مفہوم اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
قرآن مجید میں صبر کا تصور: قرآن مجید میں تقریباً 90 سے زائد مقامات پر صبر
کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کو مومن کی ایک بنیادی صفت
قرار دیا ہے۔ صبر ہر حالت میں مطلوب ہے ،خوشی ہو یا غم، تکلیف
ہو یا نعمت، مصیبت ہو یا فتنہ، مومن ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ
الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ
ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیت
میں صبر کو ایک طاقت، ایک ذریعہ مدد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی
جب انسان کسی مشکل میں مبتلا ہو تو وہ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرے۔
صبر کی
اقسام: علماء
نے قرآن کی روشنی میں صبر کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:
طاعت
پر صبر: اللہ کے احکامات پر عمل کرنے میں صبر کرنا، جیسے نماز کی پابندی، روزہ
رکھنا، صدقہ دینا وغیرہ۔
معصیت
سے بچنے پر صبر: گناہوں سے بچنے کے لیے نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنا۔
مصیبت
پر صبر: دکھ، بیماری، موت، نقصان یا کسی اور آزمائش پر جزع و فزع کیے بغیر اللہ کی
رضا میں راضی رہنا۔
صبر
کرنے والوں کا مقام: اللہ تعالیٰ نے صابرین کے لیے عظیم اجر اور درجات کا
وعدہ کیا ہے۔ سورہ الزمر میں فرمایا:
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یعنی
صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اتنا اجر عطا فرمائے گا جس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ ان
کے لیے نہ صرف دنیا میں کامیابی ہے بلکہ آخرت میں بھی بلند مقام ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ
مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ
الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم
ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے
آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ آزمائش زندگی کا حصہ ہے، لیکن کامیاب وہی ہے جو صبر کرے اور اللہ
پر بھروسا رکھے۔
انبیاء
کرام کی زندگی میں صبر: قرآن میں مختلف انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں
سے ہمیں صبر کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔
حضرت ایوب
علیہ السلام: جنہوں نے شدید بیماری، مال و اولاد کے نقصان پر صبر کیا۔ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا:وَ
خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ-اِنَّا وَجَدْنٰهُ
صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان:اور (فرمایا) اپنے ہاتھ
میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو۔ بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا ۔ وہ کیا
ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23،
صٓ: 44)
حضرت یوسف
علیہ السلام: جنہوں نے بھائیوں کی زیادتی، غلامی، قید، اور جھوٹے الزام پر صبر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا و آخرت میں بلند مقام عطا فرمایا۔
حضرت
محمد ﷺ: جنہوں نے کفارِ مکہ کی طرف سے ظلم و ستم، تکذیب، اور طعن و تشنیع پر صبر کیا
اور کبھی بدلہ نہ لیا، بلکہ معاف کر دیا۔
صبر کا
نتیجہ اور اجر: صبر کا سب سے بڑا اجر اللہ کی قربت ہے۔ قرآن کریم میں ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے
ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
یہ سب
سے بڑی خوشخبری ہے، کیونکہ اگر اللہ ساتھ ہو، تو کوئی مصیبت بڑی نہیں رہتی۔
قرآن مجید کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صبر
ایک مومن کی پہچان ہے۔ یہ نہ صرف مشکلات میں ڈٹے رہنے کا نام ہے بلکہ
اللہ کی رضا پر راضی رہنے، اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی نفسانی خواہشات پر قابو
پانے کا نام ہے۔ جو شخص صبر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ سے اپنے
تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔
لہٰذا،
ہمیں قرآن سے یہ سبق لینا چاہیے کہ ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھیں، کیونکہ یہی
کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami